حسان خان

لائبریرین
شد منوّر سینهٔ من صائب از داغِ جنون
خانهٔ تاریک را روشن کند گُل‌جام‌ها
(صائب تبریزی)

اے صائب! میرا سینہ داغِ جنوں سے منوّر ہو گیا؛ خانۂ تاریک کو رنگین شیشے روشن کر دیتے ہیں۔

× خانہ = گھر
 

حسان خان

لائبریرین
گشت خَجِل از ضیا، قُرصِ قمر شد هِلال
تا كه دل افروز شد شمعِ شبستانِ عشق
(سید ابوالقاسم نباتی)

جیسے ہی شبستانِ عشق کی شمع دل افروز ہوئی، [اُس کی] روشنی سے شرمندہ ہو کر ماہِ تمام ہِلال میں تبدیل ہو گیا۔

× شاعر نے 'شمعِ شبستانِ عشق' شاید اپنے محبوب کو کہا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
تُرا نادان امیدِ غم‌گساری‌ها ز افرنگ است
دلِ شاهین نسوزد بهرِ آن مرغی که در چنگ است
(علامه اقبال لاهوری)
اے ناداں! تمہیں فرنگستان اور فرنگیوں سے غمگُساریوں کی امید ہے۔۔۔ [حالانکہ] شاہین کا دل اُس پرندے پر رحم نہیں کھاتا جو اُس کے چَنگُل میں ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
صلح کردیم من و غیر، دریں بُود صلاح
زانکہ جنگِ من و اُو باعثِ رسوائیِ تست


ملک قُمی

میں نے غیر نے صلح کر لی اور اسی میں مصلحت اور بھلائی تھی کیونکہ میری اور اُس کی جنگ تیری رُسوائی کا باعث ہے۔
 
صلح کردیم من و غیر، دریں بُود صلاح
زانکہ جنگِ من و اُو باعثِ رسوائیِ تست


ملک قُمی

میں نے غیر نے صلح کر لی اور اسی میں مصلحت اور بھلائی تھی کیونکہ میری اور اُس کی جنگ تیری رُسوائی کا باعث ہے۔
خوب است
 

حسان خان

لائبریرین
گر نمی‌آیم به سویِ بزمت از شرمندگی‌ست
زانکه هر دم پیشِ جمعی شرمسارم می‌کنی
(وحشی بافقی)

اگر میں تمہاری بزم کی جانب نہیں آتا تو یہ شرمندگی کے باعث ہے؛ کیونکہ تم ہر وقت مجھے مردُم کے سامنے شرمسار کرتے ہو۔
 

حسان خان

لائبریرین
از برایِ خاطرِ اغیار خوارم می‌کنی
من چه کردم کاینچنین بی‌اعتبارم می‌کنی
(وحشی بافقی)

تم اغیار کی خاطر (یا اغیار کو خوش کرنے کے لیے) مجھے ذلیل و خوار کرتے ہو؛ میں نے ایسا کیا کیا ہے کہ تم اِس طرح مجھے بے آبرو کرتے ہو؟
 

حسان خان

لائبریرین
یک لحظه سایه از سرِ ما دورتر مکن
دانسته‌ای که سایهٔ عنقا مبارک است
(مولانا جلال‌الدین رومی)

ایک لمحہ [بھی] تم [اپنے] سائے کو ہمارے سر سے دور مت کرو۔۔۔ تم جانتے ہو کہ عنقا کا سایہ مبارک ہوتا ہے۔
 
کاظمی اردبیلی کا شعرِ حافظ شیرازیؒ پر تضمین:۔
دشت و صحرا بی‌فروغ و باغ و گلشن بی‌صفاست
جایِ مهر و معدلت در هر کجا جور و جفاست
راهِ زاهد ناصواب و رایِ سلطان نابجاست
"آبِ حیوان تیره‌گون شد خضرِ فرخ‌پی کجاست؟
گل بگشت از رنگِ خود ، بادِ بهاران را چه شد؟"
(کاظمی اردبیلی)

دشت و صحرا بےروشن ہوگئے ہیں اور باغ و گلشن پژمردہ ہوگئے ہیں۔ہر جاء بجائے مہر و دادگستری جور و جفا ہے۔زاہد کی راہ غلط ہے اور پادشاہ کی رائے بےجا ہے۔آبِ حیات تاریک ہوگیا ہے، خوش قدم خضر کہاں ہے؟ گل رنگ پریدہ ہوگئی ہے، بادِ بہاراں کو کیا ہوگیا ہے؟"
 
لازمهٔ عاشقیست رفتن و دیدن ز دور
ورنه ز نزدیک هم رخصتِ دیدار هست
(وحشی بافقی)

چلےجانا اور دور سے(محبوب کو) دیکھنا عاشقی کا لازمہ ہے ورنہ نزدیک سے بھی رخصتِ دیدار ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوسعید ابو الخیر

دردا کہ دریں سوز و گدازم کس نیست
ہمراہ دریں راہِ درازم کس نیست
در قعرِ دلم جواہرِ راز بسیست
اما چہ کنم محرمِ رازم کس نیست


افسوس کہ میری اس سوز و گداز والی حالت میں کوئی بھی نہیں ہے، اور اس (زندگانی کی) لمبی راہ میں میرے ہمراہ کوئی نہیں ہے، میرے دل کی گہرائیوں میں جواہرِ راز بہت سے ہیں، لیکن کیا کروں کہ میرا محرمِ راز کوئی نہیں ہے۔
 

عین احمد

محفلین
معشوقه چو آفتاب تابان گردد​
عاشق به مثال ذره گردان گردد​
چون باد بهار عشق جنبان گردد​
هر شاخ که خشک نیست رقصان گردد​
رباعی : مولانا رومی رح
وارث بھائی سلام عرض ہے امید ہے کے آپ کے مزاج بخیر ہونگے
ہمیں اس رباعی کا ترجمہ درکار بارے کرم ہماری اصلاح کیجیئے -وسلام
 

حسان خان

لائبریرین
پر می‌زند مرغِ دلم با یادِ آذربایجان
خوش باد وقتِ مردمِ آزادِ آذربایجان

(شهریار تبریزی)

میرا پرندۂ دل آذربائجان کی یاد میں پر مارتا ہے؛ آذربائجان کے مردُمِ آزاد کا وقت [ہمیشہ] خوش گذرے!
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
دیری‌است دور از دامنِ مِهرش مرا افسرده دل
باز ای عزیزان زنده‌ام با یادِ آذربایجان

(شهریار تبریزی)
ایک زمانے سے میرا دل [آذربائجان] کے دامنِ محبت سے دور [ہونے کے باعث] افسردہ ہے۔۔۔ لیکن اے عزیزو! پھر بھی میں آذربائجان کی یاد کے ساتھ زندہ ہوں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تا به کَی تاراجِ غم در مُلکِ جانِ بی‌دلان
رحم کن بر جانِ ما و کم کن این آشوب را
(سلطان بایزیدِ ثانی 'عدلی')

[اے یار!] بے دلوں کے مُلکِ جاں میں غم کی غارت و تاراج کب تک [رہے گی]؟۔۔۔ ہماری جان پر رحم کرو اور اِس فتنہ و آشوب کو کم کر دو۔
 

عین احمد

محفلین
معشوقه چو آفتاب تابان گردد
عاشق به مثال ذره گردان گردد​
چون باد بهار عشق جنبان گردد
هر شاخ که خشک نیست رقصان گردد​
رباعی : مولانا رومی رح

حسان خان سلام عرض ہے امید ہے کے آپ کے مزاج بخیر ہونگے
ہمیں اس رباعی کا ترجمہ درکار بارے کرم ہماری اصلاح کیجیئے -وسلام
 
چو دردِ او بود درمان، تنِ من ناتوان خوش‌تر
چو زخمِ او شود مرهم، دلم افگار اولی‌تر
(فخرالدین عراقی)

جب اس کا درد درمان ہو تو میرا جسم ناتواں رہے، (یہی) خوب تر ہے۔جب اس کا (لگایا ہوا) زخم ہی مرہم ہو تو میرا دل زخمی رہے (یہی) بہتر ہے
 
معشوقه چو آفتاب تابان گردد​

عاشق به مثال ذره گردان گردد​
چون باد بهار عشق جنبان گردد​
هر شاخ که خشک نیست رقصان گردد​
رباعی : مولانا رومی رح
وارث بھائی سلام عرض ہے امید ہے کے آپ کے مزاج بخیر ہونگے
ہمیں اس رباعی کا ترجمہ درکار بارے کرم ہماری اصلاح کیجیئے -وسلام
شاید یہ ترجمہ مناسب ہو۔

معشوقه چو آفتابِ‌تابان گردد
عاشق به‌مثالِ ذره گردان گردد
چون بادِ بهار عشق جنبان گردد
هر شاخ که خشک نیست رقصان گردد
(مولانا رومی)

محبوب آفتابِ تاباں کی مانند گردش کررہا ہے۔عاشق ذرے کی مانند گرداں ہو رہا ہے (گھوم رہا ہے)۔عشق بادِ بہاری کی مثل متزلزل ہورہی ہے۔ہر وہ شاخ،جو خشک نہیں ہے، رقصاں ہورہی ہے۔
 

عین احمد

محفلین
شاید یہ ترجمہ مناسب ہو۔

معشوقه چو آفتابِ‌تابان گردد
عاشق به‌مثالِ ذره گردان گردد
چون بادِ بهار عشق جنبان گردد
هر شاخ که خشک نیست رقصان گردد
(مولانا رومی)

محبوب آفتابِ تاباں کی مانند گردش کررہا ہے۔عاشق ذرے کی مانند گرداں ہو رہا ہے (گھوم رہا ہے)۔عشق بادِ بہاری کی مثل متزلزل ہورہی ہے۔ہر وہ شاخ،جو خشک نہیں ہے، رقصاں ہورہی ہے۔
-
آہ شکریہ سلامتی ہو آپ ذوق شوق قائم رہے آپکا ہمیں آپ بہت کچھ سیکھنے کو ملیگا انشاءللہ -
ایک ادنا طالب علم ہیں -
شاید یہ ترجمہ مناسب ہو۔

معشوقه چو آفتابِ‌تابان گردد
عاشق به‌مثالِ ذره گردان گردد
چون بادِ بهار عشق جنبان گردد
هر شاخ که خشک نیست رقصان گردد
(مولانا رومی)

محبوب آفتابِ تاباں کی مانند گردش کررہا ہے۔عاشق ذرے کی مانند گرداں ہو رہا ہے (گھوم رہا ہے)۔عشق بادِ بہاری کی مثل متزلزل ہورہی ہے۔ہر وہ شاخ،جو خشک نہیں ہے، رقصاں ہورہی ہے۔
 
Top