محمد وارث

لائبریرین
در آتشِ عشق انجم و افلاک نسوزند
در مطبخِ سلطاں خس و خاشاک نسوزند


ابوالفیض فیضی دکنی

عشق کی آگ میں انجم اور افلاک نہیں جلتے (بلکہ اشرف المخلوقات جلتے ہیں)، بادشاہ کے مطبخ (باورچی خانے) میں گھاس پھونس نہیں جلتے (بلکہ اچھی قسم کی لکٹری جلتی ہے)۔
 

حسان خان

لائبریرین
می‌کند اشکِ ندامت پاک دل را از گناه
نیست از دوزخ غمی تا دیدهٔ پُرنم بجاست
(صائب تبریزی)

اشکِ ندامت دل کو گناہ سے پاک کر دیتا ہے۔۔۔ جب تک دیدۂ پُرنم جگہ پر ہے، دوزخ کا کوئی غم نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
لطفِ تو لذیذتر ز شَکَّر
بی‌مِهریِ تو چو زهر قاتل
(سید ابوالقاسم نباتی)

تمہارا لطف شَکَر سے لذیذتر ہے؛ [جبکہ] تمہاری بے مِہری زہر کی طرح قاتل ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
شدم امّید كه آیی تو گل‌عِذار امشب
نیامدی و مرا كُشت انتظار امشب
(سید ابوالقاسم نباتی)
اے [یارِ] گُل چہرہ! مجھے امید ہوئی تھی کہ تم اِس شب آؤ گے۔۔۔ تم نہیں آئے اور مجھے انتظار نے اِس شب قتل کر دیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
ندیده ظلم چنین هیچ عاشقِ بی‌دل
که دید آنچه نباتی ز هجرِ یار امشب
(سید ابوالقاسم نباتی)

ایسا ظلم کسی بھی عاشقِ بے دل نے نہیں دیکھا ہے، جیسا اِس شب ہجرِ یار کے باعث 'نباتی' نے دیکھا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
عُذرخواهِ معصیت اشکِ پشیمانی بس است
نامهٔ خود را به دستِ ابرِ رحمت داده‌ام
(صائب تبریزی)

گناہ کے عُذرخواہ کے طور پر اشکِ ندامت کافی ہے۔۔۔ میں نے اپنا نامۂ [اعمال] ابرِ رحمت کے دست میں دے دیا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
چند صائب می‌کنی اندیشه از روزِ جزا؟
عُذرخواهِ مجرمان اشک پشیمانی بس است

(صائب تبریزی)
اے صائب! کب تک روزِ جزا کی فکر کرو گے؟ مجرموں کے عُذرخواہ کے طور پر اشکِ ندامت کافی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ازان خورشید بر گِردِ جهان سرگشته می‌گردد
که بر فِتراکِ صاحب‌دولتی بندد سرِ خود را
(صائب تبریزی)

خورشید اِس لیے دنیا کے گِرد سرگشتہ گھومتا ہے تاکہ کسی صاحبِ دولت و اقبال شخص کی شکاربند پر اپنے سر کو باندھ دے۔

علامہ اقبال نے بالِ جبریل کی ایک نظم میں مصرعِ ثانی کو ایک لفظی تغیّر کے ساتھ مُقتبس کیا ہے:
عجب کیا گر مہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں
'کہ بر فتراکِ صاحب دولتے بستم سرِ خود را'
 

حسان خان

لائبریرین
در وطن گر می‌شدی هر کس به آسانی عزیز
کَی ز آغوشِ پدر یوسف به زندان آمدی
(صائب تبریزی)

اگر ہر شخص [اپنے] وطن [ہی] میں بہ آسانی عزیز ہو جایا کرتا تو یوسف کب آغوشِ پدر سے زندان میں آتا؟
 

حسان خان

لائبریرین
یار برخاست، چو رفتم منِ بی‌دل، بِنشست
غَرَض آن بود که از بزم کند بیرونم
(شرف‌جهان قزوینی)

یار اُٹھ گیا، [اور] جب میں بے دل شخص چلا گیا تو [دوبارہ] بیٹھ گیا۔۔۔ [اُس کی] غَرَض یہ تھی کہ مجھے بزم سے بیرون کر دے۔
 

حسان خان

لائبریرین
شمعِ رخسارِ تو را تا که شدم پروانه
از غمِ آتشِ عشقت دگرم پروا نه
(سید ابوالقاسم نباتی)

جب سے میں تمہاری شمعِ رُخسار کا پروانہ ہوا ہوں، مجھے تمہاری آتشِ عشق کے غم کی مزید پروا و خوف نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
به ساغر نقل کرد از خُم شراب آهسته آهسته
برآمد از پسِ کوه آفتاب آهسته آهسته
(صائب تبریزی)

خّم سے ساغر میں شراب آہستہ آہستہ منتقل ہوئی۔۔۔ کوہ کے عقب سے آفتاب آہستہ آہستہ طلوع ہوا۔
 

حسان خان

لائبریرین
نیست اوجِ اعتبارِ پوچ‌مغزان را ثبات
کوزهٔ خالی فتد زود از کنارِ بام‌ها
(صائب تبریزی)

جن افراد کے مغز خالی ہوں (یعنی جو افراد احمق ہوں) اُن کی آبرو کی بلندی کو ثبات نہیں ہوتا۔۔۔۔ خالی کوزہ باموں (چھتوں) کے کنارے سے جَلد گر جاتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
شدم به زُهدِ قوی غرّه و ندانستم
که زورِ عشق به عَجز افکَنَد توانا را

(امیر علی‌شیر نوایی)
میں [اپنے] زُہدِ قوی پر مغرور ہو گیا تھا۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا کہ عشق کا زور توانا کو عاجزی کے ساتھ گرا دیتا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
گر نمی چینم گُلِ شادی، خوشم با خارِ غم
زانکہ من دیوانہ ام، گُل را نمی دانم ز خار


بابا فغانی شیرازی

اگر میں خوشی کے پھول نہیں چُنتا تو غموں کے کانٹوں کے ساتھ ہی خوش ہو جاتا ہوں، اور وہ اِس وجہ سے کہ میں دیوانہ ہوں، میں پھولوں اور کانٹوں کے درمیان کوئی فرق نہیں جانتا۔
 
زمین و آسمان و عرش و کرسی
ہمہ در تست، تو از کسے چہ پرسی
ترجمہ: زمین و آسمان، عرش اور کرسی. تمام کے تمام تیرے اندر موجود ہیں، تو دوسروں سے (ان کے اور ان کے حقائق و اسرار کے بارے میں) کیا پوچھتا ہے.
[سلطان باھو قدس سرہ]
 
تہنیت گوئید مستاں را کہ سنگ محتسب
بر سر ما آمد و ایں آفت از مینا گزشت
ترجمہ: مستوں کو یہ مبارک باد پہنچا دے کہ محتسب شہر نے جام و مینا توڑنے کے لیے جو سنگ باری کی، وہ پتھر ہمارے سر پر لگے اور یہ آفت صراحی کے سر سے ٹل گئی.
 

حسان خان

لائبریرین
تہنیت گوئید مستاں را کہ سنگ محتسب
بر سر ما آمد و ایں آفت از مینا گزشت
ترجمہ: مستوں کو یہ مبارک باد پہنچا دے کہ محتسب شہر نے جام و مینا توڑنے کے لیے جو سنگ باری کی، وہ پتھر ہمارے سر پر لگے اور یہ آفت صراحی کے سر سے ٹل گئی.
غلام رسول مہر کے مطابق یہ شعر رضی دانش مشہدی کا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
به جان قبول کنم هرچه شیخ فرماید
اگر نه منع کند عشق و جام و صهبا را
(امیر علی‌شیر نوایی)
اگر شیخ عشق و جام و صہبا کو ممنوع نہ کرے تو وہ جو چیز بھی فرمائے گا اور امر کرے گا میں اُسے دل و جاں سے قبول کروں گا۔
× ایک نسخے میں 'عشق و جام و صهبا' کی بجائے 'عشق و جامِ صهبا' نظر آیا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
فُروغِ مشعلهٔ حُسن از آتشِ عشق است
مدار حَیف ز اهلِ نظر تماشا را
(امیر علی‌شیر نوایی)
مشعلِ حُسن کی روشنی آتشِ عشق سے ہے۔۔۔ اہلِ نظر سے [اپنے] نظارے کو دُور مت رکھو۔
× ظاہراً اِس بیت میں شاعر نے 'حیف داشتن' کو 'دریغ داشتن' (امتناع کرنا، مضائقہ کرنا) کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔
 
Top