طارق شاہ

محفلین

اپنے خوابوں میں تجھے جس نے بھی دیکھا ہوگا
آنکھ کھُلتے ہی تجھے ڈھونڈنے نِکلا ہوگا

زندگی صرف تِرے نام سے منسوب رہے !
جانے کتنے ہی دماغوں نے، یہ سوچا ہوگا

عباس دانا
 

طارق شاہ

محفلین

باغ میں لگتا نہیں، صحرا میں گھبراتا ہے دل
اب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم

نظِیر اکبرآبادی
 

طارق شاہ

محفلین

يہ سوچتے ہيں كب تلک ضمير كو بچائيں گے !
اگر يونہی جِيا كِيے، ضرورتوں کے درمياں

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
 

طارق شاہ

محفلین

اِک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا

ہم نغمہ سرا کچُھ غزلوں کے، ہم صُورت گر کچُھ خوابوں کے !
بے جذبۂ شوق سُنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو، تو بتائیں کیا

اطہر نفیس
 

طارق شاہ

محفلین

تِرے جُلو میں بھی، دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے
مِرے مزاج کو آسُودگی بھی راس نہیں

تڑپ رہیں عجب مرحَلوں سے دِیدہ و دِل
سَحر کی آس تو ہے، زندگی کی آس نہیں

ناصر کاظمی
 
اپنے خوابوں میں تجھے جس نے بھی دیکھا ہوگا
آنکھ کھُلتے ہی تجھے ڈھونڈنے نِکلا ہوگا

زندگی صرف تِرے نام سے منسوب رہے !
جانے کتنے ہی دماغوں نے، یہ سوچا ہوگا
 
تِرے جُلو میں بھی، دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے
مِرے مزاج کو آسُودگی بھی راس نہیں

تڑپ رہیں عجب مرحَلوں سے دِیدہ و دِل
سَحر کی آس تو ہے، زندگی کی آس نہیں

ناصر کاظمی
 

صائمہ شاہ

محفلین
یا رب عطا ہو درد میں تخفیف مستقل
یا اور بھی زیادہ ہو تکلیف مستقل

میری نحیف ذات سے ہے جانے کس لئے
خودساختہ خداؤں کو تکلیف مستقل

عزیز نبیل
 

صائمہ شاہ

محفلین
یہ کار۔ عشق بھی ہے عجب کار ۔ناتمام
سمجھیں کہ ہو رہا ہے مگر عمر بھر نہ ہو

اک لمحہء کمال کہ صدیوں پہ پھیل جائے
اک لحظہء وصال مگر مختصر نہ ہو

اختر عثمان
 

طارق شاہ

محفلین


بہر صُورت، تھی اِک تکلیف بیماریِ اُلفت میں
مُجھے آسان تھا مرنا، مگر پرہیز مشکل تھا

عزیز الحسن مجذوب
 

طارق شاہ

محفلین

پاسِ ادب، کہ پاسِ مرّوت کہیں اِسے !
اکثر لبوں تک آئے گِلے اور پلٹ گئے


گزری چمن سے موجِ صبا ناچتی ہُوئی
کانٹے مچل کے دامنِ گل سے لپٹ گئے

اختر ضیائی
 
آخری تدوین:
Top