طارق شاہ

محفلین

قرار چھِين ليا، بے قرار چھوڑ گئے
بہار لے گئے، يادِ بہار چھوڑ گئے

ہماری چشمِ حزيں کا، خيال کچھ نہ کِيا !
وہ عمر بھر کے لئے، اشکبار چھوڑ گئے

اختر شیرانی
 

طارق شاہ

محفلین

تمام عمر ہے اب، اور فراق کی راتيں
يہ نقشِ گيسوئے مشکيں بہار چھوڑ گئے

ترس رہے ہيں مسرّت کو عشق کے ارماں
ہميں ستم زدہ و سوگوار چھوڑ گئے

اختر شیرانی
 

طارق شاہ

محفلین

کوئی کیوںکر بُھلا دے، ہائے ایسے کی محبت کو
وفائیں دلنواز اُس کی، جفائیں خُوشگوار اُس کی

اختر شیرانی
 

طارق شاہ

محفلین


میری چاہت میں بھی اب سوچ کا رنگ آنے لگا
اور تِرا پیار بھی شدّت میں ہُوا آہستہ

نیند پر جال سے پڑنے لگے آوازوں کے !
اور پھر ہونے لگی تیری صدا آہستہ

پروین شاکر
 

طارق شاہ

محفلین

تم سے اُلفت کے تقاضے نہ نِباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنّا تھی کہ، چاہے جاتے

شان الحق حَقّی
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت
پر اصلی کم، بہرُوپ بہت

اُس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا
جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت

ابن انشا
 

طارق شاہ

محفلین

ہمنشیں! پُوچھ نہ مجھ سے کہ، محبّت کیا ہے ؟
اشک آنکھوں میں اُبل آتے ہیں، اِس نام کے ساتھ

احسان دانش
 

طارق شاہ

محفلین

اُن سے پُوچھو، کبھی چہرے بھی پڑھے ہیں تم نے؟
جو کتابوں کی کِیا کرتے ہیں باتیں اکثر

جاںثار اختر
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین


عاشقوں کی نگہِ شوق کہیں تھکتی ہے !
دیکھتے ہی رہیں اُس کو، وہ اگر دیکھ نہ لے

جگر مُرادآبادی
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین


ذکر کرتے ہیں تِرا مجھ سے، بَعُنوانِ جَفا !
چارہ گر پُھول پُرو لائے ہیں تلواروں میں

احمد ندیم قاسمی
 
Top