1. گوگل کروم کے حالیہ نسخہ 53 میں محفل کا اردو ایڈیٹر بعض مقامات پر درست کام نہیں کر رہا۔ جب تک اس کا کوئی حل نہ دریافت کر لیا جائے، احباب گوگل کروم کے پچھلے نسخوں یا دیگر کسی براؤزر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس بلائے نا گہانی سے ہم کافی پریشان ہیں اور جلدی ہی اس کا کوئی حل دریافت کرنے کی کوشش جاری ہے۔ تفصیل ملاحظہ فرمائیں!

    اعلان ختم کریں

آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

نبیل نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 24, 2007

  1. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    1,066
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جی ضرور انشا اللہ۔ میں اس حوالے سے ایک مقالہ تحریر کر رہا ہوں۔ انشا اللہ آپ سے شئیر کروں گا۔
     
  2. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    1,066
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    متفق۔ آج کل عموماً ایک ہی طرح کی کتب انھی مقاصد کے لیے پڑھی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے۔ آمین
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    372
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    بہت ہی اچھی کتاب ہے۔
     
  4. انجانا

    انجانا محفلین

    مراسلے:
    302
    موڈ:
    Brooding
    سوات سے لاہور تک کا 10 گھنٹوں کا سفر اور جنٹل مین سبحان اللہ کا مطالعہ جاری ہے
     
  5. Mehmal

    Mehmal محفلین

    مراسلے:
    50
    موڈ:
    Breezy
    جزاک اللہ بھائی
     
    • متفق متفق × 1
  6. Mehmal

    Mehmal محفلین

    مراسلے:
    50
    موڈ:
    Breezy
    اب یہ کتاب شروع کی ہے بڑا مزہ ارہا ہے
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    1,066
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    گلزار جاوید کی مصاحبوں کی آن لائن کتاب "براہِ راست"
    کا مطالعہ جاری ہے۔

    یہ مطالعہ جزوی ہے۔ تین صاحبان کے مصاحبے درکار تھے۔
     
  8. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    52
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ابو شجاع ابو وقار کی "غازی" پڑھ رہا ہوں۔ "جانباز" بھی پڑھنے کا ارادہ ہے۔ کیا واقعۃً یہ حقیقی واقعات پر مبنی ہے؟ یا کچھ رنگ آمیزی بھی ہے؟ ہمارے ہاں اس بارے میں دو رائیں پائی جاتی ہیں۔
    محمد وارث
     
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    18,783
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی میں نے یہ کتابیں نہیں پڑھیں سو کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. بدر الفاتح

    بدر الفاتح محفلین

    مراسلے:
    1,742
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    میں نے یہ دونوں کتابیں پڑھی ہیں!
    بلکہ جانباز مکمل نہیں پڑھی!ہمت جواب دے گئی تھی۔
    مجھے تو کافی حد تک رنگ آمیزی ہی لگی ہے، باقی مصنف اسی پر مصر ہیں کہ یہ حقیقت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    25,776
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Drunk
    دا اورجنل ڈاگ بائبل
     
  12. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    52
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بالکل! ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد محفلین

    مراسلے:
    3,100
    جھنڈا:
    Pakistan
    Ace Against ODDs by Sania Mirza
    بھابھی جی کی بائیو گرافی پڑھنے کی کوشش کی جا رہی۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  14. محمّد

    محمّد محفلین

    مراسلے:
    96
    دھنی بخش کے بیٹے از حسن منتظر
    3/5
    گرداب از سید سعید نقوی
    1/5
    عکس از عمیرہ احمد
    2/5
    سگ بان از فاروق سرور
    1/5
     
  15. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    18,783
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ایل کے آڈوانی کی خود نوشت پڑھنے کے بعد، تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کے لیے کسی کانگریسی (نٹور سنگھ) اور غیر کانگریسی غیر بھاج پائی (آئی کے گجرال) کی خود نوشت پڑھنے کا ارادہ تھا لیکن بیچ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعلق ایک ہی مصنف کی تین کتابیں ہاتھ لگ گئی ہیں سو اُن میں سے پہلی شروع کی ہے۔

    The Saffron Tide: The Rise of the B.J.P. by Kingshuk Nag

    مصنف ٹائمز آف انڈیا کے ایک ایڈیٹر ہیں اور بھارتی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں اور کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب 2014ء میں شائع ہوئی تھی جب بھاج پا کو مرکزی سرکار سے دس سالہ سنیاس کے بعد مودی کی قیادت میں دوبارہ موقع ملا تھا۔

    کتاب میں بھاج پا کی تاریخ کو شروع سے بیان کیا گیا ہے جب 1951ء ایک بنگالی شیام پرشاد مُکرجی نے نہرو کی کابینہ سے استغفیٰ دے کر بھارتیہ جَن سَنگھ کی بنیاد رکھی تھی۔ شیام پرشاد نے تقسیم سے پہلے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کانگریس سے کیا تھا لیکن بعد میں کٹر ہندو مہا سبھا کے رکن بن گئے تھے۔ لیکن شیام پرشاد کو زیادہ موقع نہیں ملا اور وہ 1953ء میں اکاون سال کی عمر میں کشمیر میں شیخ عبداللہ کی حراست میں مبینہ طور پر ہلاک ہو گئے تھے۔ مکرجی کے بعد مصنف نے بھاج پا پر کٹر ہندو مگر غیر سیاسی تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سَنگھ آر ایس ایس RSS کے اثرات کا بھرپور تجزیہ کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے بھاج پا پر اپنی گرفت مضبوط کی اور کس طرح سَنگھ پریوار اب تک بی جے پی پر حاوی ہے اور کس طرح بی جے پی کے سارے اہم فیصلے اور نامزدگیاں آر ایس ایس کے زیرِ اثر کی جاتی ہیں۔

    جن سنگھ 1977 میں ختم ہو کر جنتا پارٹی کا حصہ بن گئ تھی اور مرار جی ڈیسائی کی حکومت میں اہم وزاتوں پر بھی فائز رہی۔ 1979ء میں جنتا پارٹی کی اندرا گاندھی کی کانگریس کے ہاتھوں شکست کے بعد جنتا پارٹی اندرونی تنازعات کا شکار ہو گئی تھی، جس میں سب سے اہم سابقہ جن سنگھ کے ارکان کی آر ایس ایس کی رکنیت تھی، جنتا پارٹی میں دوسری پارٹیوں کے شامل ارکان کا کہنا تھا کہ جن سنگھ کے ارکان کو دہری رکنیت (جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی رکنیت) ترک کرنی چاہیے اور اگر جنتا پارٹی میں رہنا ہے تو آر ایس ایس سے علیحدہ ہونا ہوگا۔ واجپائی اور آڈوانی دونوں کو یہ منظور نہ تھا اور یوں وہ 1980ء میں جنتا پارٹی سے علیحدہ ہو گئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بنیاد رکھی۔

    بے جی پی کے عروج کا دور رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے تنازعے سے شروع ہوا۔ جس نے بہرحال ان کو 1998ء میں دہلی کی مرکزی سرکار دلا دی، لیکن 1999ء میں صرف ایک ووٹ کے فرق سے ان کی حکومت گر گئی۔ 1999ء کے نئے لوک سبھا کے الیکشنز میں وہ پھر حکومت میں آئے اور واجپائی کی قیادت میں انڈیا میں پہلی نان کانگریس حکومت بنی جس نے سرکار میں پورے پانچ سال کی ٹرم مکمل کی۔ لیکن 2004ء اور 2009ء کے انتخابات میں ان کو شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان شکستوں کے بعد بی جے پی میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں اور واجپائی اور آڈوانی دونوں کی اہمیت نہ صرف ختم ہو کر رہ گئی بلکہ دونوں ہی ریٹائر ہونے پر مجبور کر دیے گئے۔ 2014ء کے الیکشنز مودی کی سربراہی میں لڑے گئے اور پہلے سے زیادہ نشتیں جیت کر یہ پارٹی حکومت میں واپس آئی۔ ناقدین کے مطابق انڈیا کی سیاست اب مودی کی گرفت میں ہے اور 2019ء کے اگلے الیکشنز میں بھی وہی جیتتے نظر آ رہے ہیں۔

    عمدہ معلوماتی کتاب ہے۔
    [​IMG]
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 21, 2017
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. ظل عرش

    ظل عرش محفلین

    مراسلے:
    71
    وعلیکم السلام.
    ماشاءاللہ نبیل بہت عمدہ سوچ اور کاوش ہے.. دعا ہے ہم سب اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں.
    میں آجکل Literary Criticism پڑھ رہی ہوں. میں ریسرچ کے حوالے سے content analysis کی مختلف اقسام کا، مختلف literary theories کے تناظر میں مطالعہ کر رہی ہوں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. ظل عرش

    ظل عرش محفلین

    مراسلے:
    71
    پلیز مصنف اور ناول کے حوالے سے اگر ممکن ہو تو اپنا نکتہ نظر ضرور شیر کریں.
     
  18. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    1,066
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کس مضمون میں تحقیق کے حوالے سے یہ مطالعہ جاری ہے ؟ میں نے ماڈرن لینگوئیسٹک سوسائٹی آف امیریکہ کی کچھ کاوشات اس حوالے سے پڑھی تھیں۔ اس کے علاوہ گیان چند کی کتاب "تحقیق کا فن" اور تنویر احمد علوی کی کتاب"اصولِ تحقیق و ترتیبِ متن" کا مطالعہ کیا تھا۔ دونوں کتابیں ابھی میرے پاس ہیں۔ میرا مضمون اردو تھا۔
     
  19. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    25,776
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Drunk
    9 سال گزر گئے اب تو یاد بھی نہیں
     
  20. ظل عرش

    ظل عرش محفلین

    مراسلے:
    71
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر