طارق شاہ

محفلین


ہر آشنا میں کہاں خُوئے محرمانہ وہ
کہ بے وفا تھا مگر، دوست تھا پرانا وہ

کہاں سے لائیں اب آنکھیں اُسے، کہ رکھتا تھا !
عداوتوں میں بھی انداز مُخلصانہ وہ

احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین

سر پھری جوانی کی جب ہوا سنکتی ہے
جوش گدُ گدُاتا ہے، وَلوَلے اُبلتے ہیں

ہو خبر تو کیونکر ہو روز و شب کے ماروں کو
کیسے رات آتی ہے، کیسے دن نکلتے ہیں

حُسین انجم
 

طارق شاہ

محفلین


ہوش اُڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کِرنیں
تیری بستی میں ہُوں یا خوابِ طرب ہے کوئی

لِیئے جاتی ہیں کِسی دھیان کی لہریں ناصر
دُور تک سِلسِلۂ تاکِ طرب ہے کوئی

ناصر کاظمی
 

صائمہ شاہ

محفلین
سنائی جاتی ہیں درپردہ گالیاں مجھ کو
جو میں کہوں توکہیں آپ سے کلام نہیں

دباو کیا ہے سنے وہ جو آپ کی باتیں
رئیس زادہ ہے داغ آپ کا غلام نہیں

داغ دہلوی
 

صائمہ شاہ

محفلین
مجھ ٹوٹے ہوئے کو پھر یہاں کون بنائے گا
تجھ سے بھی اگر میری تکمیل نہیں ہوتی

خوشیاں میرے حصے کی رخصت پہ ہیں برسوں سے
اور دکھ ہیں جو اب ان کی تعطیل نہیں ہوتی

رضی الدین رضی
 

طارق شاہ

محفلین

عشق، اے سیماب! جب تک ہو نہ جُزوِ رُوح و تن !
زندگی کا لُطف، مرنے کا مزہ مِلتا نہیں

سیماب اکبرآبادی
 

طارق شاہ

محفلین

برقِ جمال یار یہ کہتی ہے، اے جگر !
کون اہلِ ہوش ہے، کِسے حیراں بنائیے

جگرمُرادآبادی
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

پھر عشقِ جُنوں پیشہ یوں سلسلہ جنباں ہے
راہیں بھی گُریزاں ہیں، منزل بھی گُریزاں ہے


جگرمُرادآبادی
 
Top