Mein Kampf (میری جدوجہد) - از: Adolf Hitler

جاسمن

مدیر

زیک

تقریباً غائب
دورانِ طالب علمی اس کتاب کا اردو ترجمہ پڑھا تھا۔ اب پھر شروع کی ہے۔ ابھی ڈاکٹر مبارک علی اور نار این کا تبصرہ پڑھا ہے۔
جب پہلی بار پڑھی تھی تو کیا احساسات تھے؟ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اردو ترجمہ کیوں کہ امکانِ غالب ہے کہ یہ انگریزی ترجمے سے کیا گیا ہو گا؟
 

جاسمن

مدیر
جب پہلی بار پڑھی تھی تو کیا احساسات تھے؟ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اردو ترجمہ کیوں کہ امکانِ غالب ہے کہ یہ انگریزی ترجمے سے کیا گیا ہو گا؟
زیک!
اب مجھے بہت کچھ بھول گیا ہے۔ ہم سب سہیلیوں کے گروپ نے پڑھی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہم ہٹلر کی شخصیت سے کچھ متاثر تھے لیکن بہت سی باتوں پہ ہم اختلاف کرتے تھے۔
پھر کچھ اور بھی کتابیں پڑھیں۔۔۔ملتے جلتے موضوعات پہ۔ اس کی اور اس کی محبوبہ کی خودکشی۔۔۔ہمارے لیے رنج کا باعث بھی شاید بنی تھی۔

اب دوبارہ پڑھنے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ پرانا پڑھا بھول گیا۔ اب جاننا چاہ رہی ہوں کہ اس کے کیا نظریات تھے۔
دوسرے میرا بیٹا یہ کتاب انگریزی میں پڑھنے والا ہے تو مجھے پتہ چلے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔
یہ عمر ہے نظریات بننے کی۔ ہم دونوں پڑھیں گے تو آپس میں بحث کر سکیں گے۔
اردو میں مجھے آسانی محسوس ہوتی ہے۔
 

بافقیہ

محفلین
زیک!
اب مجھے بہت کچھ بھول گیا ہے۔ ہم سب سہیلیوں کے گروپ نے پڑھی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہم ہٹلر کی شخصیت سے کچھ متاثر تھے لیکن بہت سی باتوں پہ ہم اختلاف کرتے تھے۔
پھر کچھ اور بھی کتابیں پڑھیں۔۔۔ملتے جلتے موضوعات پہ۔ اس کی اور اس کی محبوبہ کی خودکشی۔۔۔ہمارے لیے رنج کا باعث بھی شاید بنی تھی۔

اب دوبارہ پڑھنے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ پرانا پڑھا بھول گیا۔ اب جاننا چاہ رہی ہوں کہ اس کے کیا نظریات تھے۔
دوسرے میرا بیٹا یہ کتاب انگریزی میں پڑھنے والا ہے تو مجھے پتہ چلے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔
یہ عمر ہے نظریات بننے کی۔ ہم دونوں پڑھیں گے تو آپس میں بحث کر سکیں گے۔
اردو میں مجھے آسانی محسوس ہوتی ہے۔
آپی ! میری حقیر رائے یہ ہے کہ عقل کی پختگی سے قبل بچوں اور نو عمر لڑکوں کو ایسی کتابوں کے مطالعہ سے روکیں۔ کہیں بچہ شدت پسندی پر مائل نہ ہوجائے۔ اور ہر غلط کے خلاف شدت انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ ہو نہ ہو کم از کم اس کی انسانی ہمدردی ضرور متاثر ہوگی۔ لڑکے اس عمر میں مثبت کتابیں پڑھیں تو بہتر۔
 

جاسمن

مدیر
آپی ! میری حقیر رائے یہ ہے کہ عقل کی پختگی سے قبل بچوں اور نو عمر لڑکوں کو ایسی کتابوں کے مطالعہ سے روکیں۔ کہیں بچہ شدت پسندی پر مائل نہ ہوجائے۔ اور ہر غلط کے خلاف شدت انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ ہو نہ ہو کم از کم اس کی انسانی ہمدردی ضرور متاثر ہوگی۔ لڑکے اس عمر میں مثبت کتابیں پڑھیں تو بہتر۔

آپ کی رائے قابلِ احترام ہے۔ کیا پڑھیں، کیا دیکھیں، کیا سنیں، کیسے دوست بنائیں، کیسی سوچ ہو وغیرہ ان سب معاملات کے لئے بچوں سے بات کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ان پہ چیزیں تھوپنے کا تاثر بھی نہ ہو لیکن بات بھی بن جائے۔
آج کا نوجوان ہم سے کہیں آگے ہے۔ اس کی رفتار کا ساتھ دینا ہمارے لئے بہت مشکل ہے۔ جس ایشو پہ بات کرنے کے بارے میں ہم ابھی سوچ رہے ہوتے ہیں، وہ اس سے گذر کے کب کے آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔
بہرحال ان کی سوچ کو مثبت رخ پہ ڈال کے کچھ آزادی دے دینا اور ساتھ ہی دعا کرنا مجھے بہتر لگتا ہے۔
ابھی یہ کتاب اسے پڑھنے نہیں دیتی۔ :)
 

محمد داؤد

محفلین
اللّٰہ اللّٰہ، میں کہاں اینٹی نازی گروپ میں آگیا، ساروں نے ہی من فیوہرر سے دشمنی پال رکھی ہے، کوئی طنز کر رہا ہے اور کوئی نفرت۔ ایسے ہی فیصلہ نہ کیجیے، ذرا ادھر کی بھی سن لیجیے۔۔۔:ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
 
آخری تدوین:
Top