Impact of an increase in government expenditures۔۔۔ آپ کی قیمتی رائے، دلائل کے ساتھ

نایاب

لائبریرین
اوہ ۔۔۔ یہ تو متوازن " بجٹ " بنانے کے آسان اور قابل عمل طریقے سامنے لانا ہے ۔۔۔۔۔
سیدھی سچی بات کہ اک بار پاکستان کا بجٹ کسی " ان پڑھ دیہاتی سادہ دل " ماں " سے بنوا لیا جائے ۔
وہ دیئے گئے وسائل کے بل پر ایسا بجٹ بنا دے گی کہ
ملک کے تمام افراد کو یکساں سہولیات مہیا ہوتے بجائے قرض لینے کے ضرورت مند کو قرض دیتے ہنگامی حالات کے لیئے بچت بھی ممکن ہوگی ۔
یہ " تیکنو کریٹس " بیورو کریٹس " کسی ماں کی مانند مخلص نہیں ہوتے ۔ یہ مساوات کے بل پر بجٹ نہیں بناتے ۔۔۔
یہ وسائل سے ہونے والی آمدن کو کہیں اپنے پیٹ میں بھرتے کہیں اپنے دوستوں کو نوازتے ایسی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں کہ "ٹیکسز دینے والے " جو کہ وسائل کا منبع ہوتے ہیں ۔ وہ ٹیکس چوری میں الجھ جاتے ہیں ۔ اور اس کے بجائے " رفاہی کاموں " میں عطیات دیتے اپنے فرض سے ادا ہو جاتے ہیں ۔
کبھی صنعت کار تاجر زمین دار کو حکومت اپنے مفاد کے لیئے خصوصی رعایت دیتی ہے ۔ اور وسائل کی آمد رک جاتی ہے ۔
عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہم سب کی ماؤں نے پانچ ہزار سے لیکر پچاس ہزار تک آمدن میں اپنے گھر کے سب بچوں کو یوں پالا کہ کوئی بھی کسی اہم سہولت سے محروم نہیں رہا ۔۔۔ شادی غمی خوشی مہمانداری سب ہی ہوتی رہی ۔ ہنگامی حالات میں کچھ بچت بھی سامنے آ تی رہی ۔۔۔۔۔ کیونکہ ماں " وسائل " کی تقسیم میں کبھی " غیر منصفانہ " نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔
بجٹ بنانا سیکھنا ہو تو گزرے وقت کا قصہ پڑھنا بہتر ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جب کوئی فقیر ہی نہیں ملتا تھا ۔۔۔۔
حکمراں کا دربار سجا ہے ۔ امور سلطنت بارے گفتگو ہو رہی ہے ۔۔۔۔
پہلا سوال یہ سامنے آیا کہ " حکمران وقت " کا مشاہرہ کیا ہو ۔۔۔۔۔؟
سب نے اپنی رائے دی ۔۔۔۔۔۔۔ حکمراں نے سب کی سنی اور کہا کہ " میری تنخواہ " اک مزدور کے برابر کر دو ۔۔۔
ساتھیوں نے کہا مزدور کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے آپ کا گزارہ نہیں ہوگا ۔
فرمایا کہ مزدور کی تنخواہ اتنی بڑھا دو جس میں گزارہ آسانی سے ہو سکے ۔۔۔۔۔
(ملخص از حیات جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی )
جو ممالک اس آفاقی اصول پر اپنا بجٹ بناتے ہیں ۔ وہی اپنے بجٹ میں کامیاب رہتے ہیں ۔ عام آدمی کو سہولت مل جائے ۔
تو وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ممکن نہیں رہتی ۔۔۔
بہت دعائیں
 
بھیا آپ بھی تو مدد کر دیجیئے نا
اس سوال کا تعلق آپ کے نصاب سے ہے اور میں نے نصابی اکنامکس بالکل نہیں پڑھی البتہ عملی تجارت کا تجربہ ہے۔ میں آپ کو غلط مشورہ نہیں دینا چاہتا۔
البتہ میں "ایک ماہر اقتصادیات کے طور پر سوچیئے اور پاکستان کی مجموعی مانگ، قومی آمدنی اور مجموعی طور پر معیشت پر سرکاری اخراجات میں اضافے کے اثرات پر بات چیت کریں۔"
کے بارے میں یہ کہ سکتا ہوں کہ آئنی اور اپنی بنیاد اور اپنے قیام کی وجہ کے اعتبار سے پاکستان ایک فلاحی جمہوری ریاست ہے۔ اور حکومت کا مقصد کسی کو اقتدار دینا نہیں بلکہ ایک قیام پاکستان کے مقاصد کا حصول ہونا چاہئے۔ اسی لئے حکومت عوام سے ٹیکس تو لے سکتی ہے مگر منافع نہیں کما سکتی ۔ اور اس ٹیکس کی آمدنی کا سب سے بڑا مصرف بھی عوام کی فلاح کے کام ہی ہوسکتے ہیں۔ لیکن عوام کی فلاح کے کاموں کے ساتھ ساتھ حکومتی اخراجات کے لئے وہی فارمولا ہونا چاہئے جو زکوۃ اکٹھا کرنے والے عاملین کے اخراجات کا ہوسکتا ہے۔ جو یہ ہے کہ زکوۃ اکٹھی کر کے مستحقین تک پہنچانے میں جو خرچہ آتا ہے اتنی رقم عاملین لے سکتے ہیں۔
ایک فلاحی جمہوری ریاست میں بھی حکومت کے خرچے ایسے ہی ہونے چاہئے مگر عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اور اس کی وجہ ہمارا بدیانت سیاسی نظام ہے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
آپی میں تو فین ہوگئی آپ کی۔
آپ مجھے ٹیوشن دینا شروع کر دیں۔
میں اکنامکس میں 0 ہوں۔ :dont-know:
آپ کو لگتا ہے مجھے اکنامکس آتی ہے ؟ میں نے اکنامکس کبھی پڑھی ہی نہیں ہے ۔ ہاں اخبار پڑھنا فائدہ رہتا ہے ۔ آپ نے اکنامکس پڑھنی ہے آپ شاہد جاوید برکی کو پڑھ لیں ۔
''یو ان او '' میں کام کر چکے ہیں
ورلڈ بینک میں بھی
پاکستان میں ''ڈان'' میں لکھتے رہے ہیں
ان کے ریسرچ پیپرز ہیں
آپ ان کو پڑھیں اور جو ''0'' لگا ہے اس میں ''10'' کا اضافہ لگ کر آپ کو افاقہ ہوجائے گا۔ :)
 

شزہ مغل

محفلین
آپ کو لگتا ہے مجھے اکنامکس آتی ہے ؟ میں نے اکنامکس کبھی پڑھی ہی نہیں ہے ۔ ہاں اخبار پڑھنا فائدہ رہتا ہے ۔ آپ نے اکنامکس پڑھنی ہے آپ شاہد جاوید برکی کو پڑھ لیں ۔
''یو ان او '' میں کام کر چکے ہیں
ورلڈ بینک میں بھی
پاکستان میں ''ڈان'' میں لکھتے رہے ہیں
ان کے ریسرچ پیپرز ہیں
آپ ان کو پڑھیں اور جو ''0'' لگا ہے اس میں ''10'' کا اضافہ لگ کر آپ کو افاقہ ہوجائے گا۔ :)
شکریہ آپی جی۔
مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور پڑھنا بھی ضروری ہے
 
مغلانی بہن ایک کام کرو کہ ہمیں بتاؤ کہ اکانومسٹ کی تعریف کیا ہے، پھر میں شاید میں کچھ سوچ کر آپ کی مدد کر سکوں :)
 
آخری تدوین:
چھوڑیں بھیا آپ تو مجھ سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں اکنامکس کو
چلیں ایک نکتہ تو ہم نے جان لیا کہ حکومتی اخراجات کم سے کم ہونے چاہئیں کیونکہ حکومتی آمدنی کا اصل حقدار اور مالک عوام ہیں۔ جتنے زیادہ حکومتی اخراجات بڑھتے جائیں گے عوام کے لئے پیسہ اتنا کم ہوتا جائے گا۔ اور
معاشیات یا اقتصادیات دراصل وسائل اور پیداوار کی تقسیم اور اس کی طلب ورصد کے مطالعے کا نام ہے۔
ابھی بجٹ نے حکومت نے جو اعداد شمار پیش کئے ہیں اس کی روشنی میں آپ پرسنٹیج نکالیں کہ مجوزہ آمدنی میں سے ترقیاتی بجٹ کتنا ہے اور غیر ترقیاتی کتنا اور حکومتی اخراجات کے لئے کتنا بجٹ مختص کیا گیا ہے؟ غیر ترقیاتی بجٹ جتنا زیادہ ہوگا اس کا بوجھ وسائل پر ہی پڑے گا اور خسارہ قرضہ لیکر پورا کرنا پڑے گا اور وہ قرضہ بمعہ آئندہ بجٹ میں ایک اور بوجھ ہوگا۔
 
Top