Doctor Brides' in huge demand in pakistan'

دوست

محفلین
ہمارے ہاں اسی نوے فیصد تعلیم درحقیقت پیشہ ورانہ تعلیم ہوتی ہے۔ روزی روٹی کے لیے تعلیم، اگر اس تعلیم کو حاصل کر کے استعمال نہ کیا جائے تو یہ ظلمِ عظیم ہے اس قوم پر بھی اور اس فرد پر بھی۔
 

زیک

مسافر
ایک طرف ہر خاتون کو حق حاصل ہے کہ وہ نوکری کرے یا نہ کرے۔ دوسرے اس پر زبردستی نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر یہ پروفیشنل تعلیم حکومت کی طرف سے subsidized ہے تو کوئی ایسا راستہ ڈھونڈا جا سکتا ہے کہ اس subsidy کو واپس کرنا پڑے یا کچھ سال اپنے فیلڈ میں کام کرنا پڑے وغیرہ۔
 

ماہی احمد

لائبریرین
تعلیم حاصل کرنا بُرا نہیں، نہ ہی کوئی اس کے خلاف کے خواتین پیشہ ورانہ تعلیم حاصل نہ کریں، بات صرف اتنی ہے کہ ایسا صرف تب کریں جب انہیں سپورٹ کرنے والے ہوں ورنہ محض سیٹس ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟؟؟
 

ابن رضا

لائبریرین
جب خواتین تعلیم حاصل کرنےکےلیے داخلے لیتی ہیں تو اس وقت ۔ان کے سپوٹران بے شمار ہوتے ہیں کہ وہ ماں باپ کے گھر ہوتی ہیں۔ مگر جیسے ہی تعلیم کے دوران کوئی مناسب رشتہ والدین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے اس خاتون کے ساتھ کیا رویہ روا رکھتے ہیں اس بات کا ادراک اس طالبہ کو داخلہ لیتے وقت نہیں ہوتا ۔ ذرا سوچیں جب کوئی اس طرح کی پروفیشنل تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ کتنے خواب بنتا ہے ۔ اب ایسا عموماً ممکن نہیں کے اپنے ہی ہاتھوں سے وہ سب کچھ چکنا چور کر دے ۔ جب اس کو شادی شدہ زندگی کے بعد اپنا گھر یا پروفیشن میں سے ایک منتخب کرنا پڑتا ہے تو اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ آپ کی اس بات سے کہ
ورنہ محض سیٹس ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟؟؟
تو لڑکیا ں سرے سے ہی یہی سوچ کر داخلہ نہ لیں تو وہ پھر تو سب کچھ ختم ہی سمجھیں تقریباً۔لہذا اگر کوئی لڑکی گھر بیٹھنے کو ترجیح دیتی ہے تو اس کے پیچھے بہت کم ذاتی فیصلہ ہوتا ہے جب کہ دباؤ میں کیے گئے فیصلوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
 

ماہی احمد

لائبریرین
جب خواتین تعلیم حاصل کرنےکےلیے داخلے لیتی ہیں تو اس وقت ۔ان کے سپوٹران بے شمار ہوتے ہیں کہ وہ ماں باپ کے گھر ہوتی ہیں۔ مگر جیسے ہی تعلیم کے دوران کوئی مناسب رشتہ والدین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے اس خاتون کے ساتھ کیا رویہ روا رکھتے ہیں اس بات کا ادراک اس طالبہ کو داخلہ لیتے وقت نہیں ہوتا ۔ ذرا سوچیں جب کوئی اس طرح کی پروفیشنل تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ کتنے خواب بنتا ہے ۔ اب ایسا عموماً ممکن نہیں کے اپنے ہی ہاتھوں سے وہ سب کچھ چکنا چور کر دے ۔ جب اس کو شادی شدہ زندگی کے بعد اپنا گھر یا پروفیشن میں سے ایک منتخب کرنا پڑتا ہے تو اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ آپ کی اس بات سے کہ

تو لڑکیا ں سرے سے ہی یہی سوچ کر داخلہ نہ لیں تو وہ پھر تو سب کچھ ختم ہی سمجھیں تقریباً۔لہذا اگر کوئی لڑکی گھر بیٹھنے کو ترجیح دیتی ہے تو اس کے پیچھے بہت کم ذاتی فیصلہ ہوتا ہے جب کہ دباؤ میں کیے گئے فیصلوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
مناسب رشتے میں سب کچھ آتا ہے جناب، دوسری بات یہ کہ صرف لڑکیوں یا ان کے والدین کو نہیں پورے معاشرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر بہو لا رہے ہیں تو اسے پریکٹس بھی کرنے دیں۔ لڑکوں کے ذہن میں یہ بات بہت اچھی طرح کلیئر ہوتی ہے کہ ہم اپنی بیوی کو جاب یا کام کرنے دیں گے یا نہیں، جب رشتہ ہو رہا ہو اس وقت منہ میں گھنگھنیاں (معلوم نہیں صحیح لفظ) ڈال کر بیٹھنے کی بجائے والدین پر اپنا موقوف واضح کر دینا چاہئے نا!
 

ابن رضا

لائبریرین
مناسب رشتے میں سب کچھ آتا ہے جناب، دوسری بات یہ کہ صرف لڑکیوں یا ان کے والدین کو نہیں پورے معاشرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر بہو لا رہے ہیں تو اسے پریکٹس بھی کرنے دیں۔ لڑکوں کے ذہن میں یہ بات بہت اچھی طرح کلیئر ہوتی ہے کہ ہم اپنی بیوی کو جاب یا کام کرنے دیں گے یا نہیں، جب رشتہ ہو رہا ہو اس وقت منہ میں گھنگھنیاں (معلوم نہیں صحیح لفظ) ڈال کر بیٹھنے کی بجائے والدین پر اپنا موقوف واضح کر دینا چاہئے نا!
محترمہ آپ کا نقطہ یہ تھا کہ جو خواتین نہیں پریکٹس کرتی انہیں سیٹس ضائع نہیں کر نی چاہیئں۔تو اسی کا جواب دیا تھا۔ آپ کہیں اور روانہ ہو گئیں۔ اس بات سے کس کو اختلاف ہے۔
 

ماہی احمد

لائبریرین
محترمہ آپ کا نقطہ یہ تھا کہ جو خواتین نہیں پریکٹس کرتی انہیں سیٹس ضائع نہیں کر نی چاہیئں۔تو اسی کا جواب دیا تھا۔ آپ کہیں اور روانہ ہو گئیں۔ اس بات سے کس کو اختلاف ہے۔
میں نے سپورٹنگ سسٹم کی بات تی تھی۔ والدین کو دیکھ بھال کر رشتہ کرنا چاہیئے نا، شادی سے پہلے اس قسم کی گفتگو کی جا سکتی ہے نا!۔
 

ماہی احمد

لائبریرین
محترمہ آپ کا نقطہ یہ تھا کہ جو خواتین نہیں پریکٹس کرتی انہیں سیٹس ضائع نہیں کر نی چاہیئں۔تو اسی کا جواب دیا تھا۔ آپ کہیں اور روانہ ہو گئیں۔ اس بات سے کس کو اختلاف ہے۔
دباؤ والی بات کا جواب دیا ہے۔ کاٹوں کی تراکیب مت کریں۔۔۔
 

ابن رضا

لائبریرین
میں نے سپورٹنگ سسٹم کی بات تی تھی۔ والدین کو دیکھ بھال کر رشتہ کرنا چاہیئے نا، شادی سے پہلے اس قسم کی گفتگو کی جا سکتی ہے نا!۔
ایسی دیکھ بھال کے چکر میں بیٹیاں اپنے گھر ہی بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ والدین کو بھی بہت سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔ سسٹم خود کچھ نہیں ہم کو انفرادی طور پر ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے تو سسٹم بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ والدین اگر بیٹیوں کی تقدیر لکھ سکیں تو ہر عورت مثالی زندگی جیئے
 
Top