Azad shai'r ban-neye

سیمل

محفلین
آزاد شاعر بنیے۔۔

“زہر دے اس پہ یہ تاکید کہ پینا ہوگا“

آفرین ہے ان لوگوں پر جنہوں نے بالآخر شاعری کو بھی صدیوں کی غلامی سے نجات دلوادی۔۔چند ظالموں نے اسے ردیف قافیہ کی ہتھکڑیوں،بیڑیوں اور وزن کے طوق میں جکڑا ہوا تھا۔۔۔اب ہم آزاد ہیں ، ملک آزاد ہے،،اور سب سے بڑھ کر شاعری آزاد ہے۔۔۔جیو آزاد شاعری۔۔۔جگ جگ جیو۔۔۔پوتوں پھلو۔۔

آزاد شاعر بننے کے لئے کچھ زیادہ جتن کرنے کی ضرورت نہیں۔۔صرف دو چار دن داڑھی بنانا چھوڑ دیں ۔۔سر کے بالوں کو بھی بڑھنے کے لئے آزاد چھوڑ دیں۔۔۔بہتر ہے کہ کنگھا نہ لگے۔۔تیل اور میل سے چکھٹ ہو جا ئیں اور ان میں جوئیں بھی ہوں تو کیا کہنے۔۔اگر آپ کے سر کی چوتی پہ بال نہ بھی ہوں تو تب بھی۔۔صرف پیچھے سے بڑھنے دیں۔۔دو ایک چوٹی بھی نکال لیں تو سونے پہ سہاگہ ہوگا۔۔آنکھوں میں کاجل بھی مناسب ہوگا۔۔کرتہ،پاجامہ اور بغل میں بیاض۔۔یاد رکھئے آپ “آزاد شاعر “ ہیں۔۔کسی چیز پر حتٰی کی پینے پلانے پر بھی پابندی نہ لگائیں۔بلکہ ہر وقت سرور میں کھوئے ہوئے اور آنکھیں چڑھی ہوئیں یا خلا میں گھورتی ہوئی ہوں،تو یہ ایک بہترین نظارہ ہوگا۔۔لوگ فورًا متاثر ہو جائیں گے۔۔عقیدت مند آپ کو اٹھا کر جہاں رکھنا ہوگا وہاں پہنچا آئیں گے۔۔

شاعرکے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز ہے خیالات۔۔۔۔انہیں خاص طور پر بالکل بی لگام چھوڑ دیجئے۔۔۔اس سے آپ دیکھیں گے کہ بیش بہا خیالات اور مضامین آپ پر ہمہ وقت ہجوم کیے رہیں گے۔۔اور آپ کو اتنے سارے مضامین کو احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہو جائے گا۔۔پھر بھی اپنے پرستاروں کو مستفید کرنے کے لئے،،اپنے خیالات میں سے بیش قیمت موتی چن کر،ہر مہینے بہترین سفید کاغذ اور رنگ برنگی جلد سے مزیّن کم از کم ایک کتاب ضرور چھپواسکتے ہیں۔ابھی وہ آپ کی ایک کتاب پہ سر دھن رہے ہوں گے کہ آپ کی دوسری، پھر تیسری اور پھر نہ جانے کتنی اور چھپوا کر ان کو اپنا گرویدہ بنا لیں گے۔ممکن ہے کہ چند عقیدت مند جزب و کیف و مستی میں اپنے سر کے بال بھی نوچ ڈالیں اور آپ کا نام لے لے کر ‘حال“ کھیلنے لگیں۔۔آپ کی شہرت کے لئے یہ اور بھی اچھا ہے۔۔گئے وہ دن جب پرانے شاعر ساری عمر میں بڑی مشکل سے ایک دیوان لکھتے تھے۔۔۔آپ دیوان پر دیوان لکھ کر لوگوں کو دیوانہ بنا دیں گے۔۔

اب کوئی عنوان آپ سے بچ نہیں سکے گا ۔۔

مثلاً محبوبہ پہ یہ غزل تو محفل لوٹ لے گی۔۔
“ مجھے اپنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبوبہ۔۔۔۔۔۔
کے بالوں۔۔۔۔۔۔۔
میں رہنے والی ہر جوں۔۔۔۔
سے پیار ہے۔۔۔۔۔
کیونکہ۔۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں میں رہتی ہے۔۔۔۔
اور میں باہر۔۔۔۔۔
پیاری اب اپنی۔۔۔
زلفیں سمیٹ لو۔۔۔۔
کہ جوئیں۔۔۔۔
بکھر کر بھٹک نہ جائیں۔۔۔۔۔
گھر کا راستہ۔۔۔۔
بھول نہ جائیں۔۔۔
آخر ان کے۔۔۔۔
انڈے بچے بھی ہوں گے۔۔۔۔
ان پر۔۔۔۔۔
ترس کھاؤ۔۔۔۔
ان کو۔۔۔۔
پھلنے۔۔۔۔
پھولنے کا موقع دو۔۔۔۔

اس غزل میںصاف معلوم ہو گیا کہ شاعر کو محبوبہ سے کتنا پیار ہے۔۔۔جب اس کی جووں سے اتنی محبت ہے۔۔

دوسری غزل ‘کشمکش“

اسکے پاس۔۔۔۔
آئینہ ہے۔۔۔
میرے پاس۔۔۔
بلیڈ۔۔۔۔
کس ترکیب سے۔۔۔۔
آئینہ اس سے لوں۔۔۔۔
کہ داڑھی بناؤں؟۔۔۔۔۔
اسی شش و پنج میں۔۔۔
گزر رہے ہیں رات اور دن ۔۔۔
پھول۔۔۔۔
ہنس رہے ہیں ۔۔۔۔
میری بے بسی پر۔۔۔۔
طوطے ٹیں ٹیں۔۔۔
اور بطخیں۔۔۔۔
قیں قیں کرتی ہیں ۔۔۔۔
الو۔۔۔۔
شور مچاتے ہیں ۔۔۔۔
کیا کروں؟۔۔۔۔
داڑھی بڑھنے دوں۔۔۔
کہیں پولیس والے۔۔۔۔
نہ پکڑ لیں۔۔۔
جیل سے بھاگا ہوا۔۔۔۔
سمجھ کر۔۔۔۔
اس غزل میں شاعر نے جس کوبصورتی کے ساتھ اپنے اوپر پڑنے والی مصیبت کا ذکر کیا ھے۔۔۔وہ ایک الو کے بھی آنسو نکال دے گی۔۔۔چی جائیکہ کہ انسان !
 

قیصرانی

لائبریرین
کوئی بات نہیں‌دوست بھائی، دو پیغامات میں سے ایک اتنا بڑا لکھا جانا ہی بہت کمال کی بات ہے۔ باقی املاء‌ کی غلطیاں تو ہمارا ایک طرح سے ٹریڈ مارک ہوتا ہے :lol: اس کے کیسے چھٹکارہ ملے گا
قیصرانی
 

سیمل

محفلین
دوست نے کہا:
:lol: :lol: :lol: :lol: :lol:
جیتے رہو عزیز آتے ہی چھکا لگا دیا۔ املاء کی کچھ غلطیاں البتہ موجود ہیں۔

بہت شکریہ آپکا۔ :)
۔۔ لیکن پہلی بات کہ میں عزیز نہیں بلکہ عزیزہ ہوں :)
اور دوسرا یہ کہ یہ پوسٹ بہت جلدی میں لکھی گئی تھی۔آپ نے غلطیوں کی نشاندہی کی ۔۔۔بے حد شکریہ ۔۔ میں نے مقدور بھر تصحیح کی کوشش کی ہے۔۔۔۔ مجھے امید ہے اب آپکو حٰتی الامکان املاء کی کم سے کم غلطیاں نظرآئیں گی
خوش رہیے۔۔۔۔۔ :)
 
Top