ATI کے بانی KY Ho کی رخصتی ، استعفی؟

جیسبادی

محفلین
ا‌ت‌ی کا بانی "ک۔ے۔ہو" اور چیرمین کچھ روز پہلے استعفی پکڑا کر گھر چلا گیا۔ "ہو" جو چینی تارکِ وطن تھا، نے ۱۹۸۵ میں بنک سے قرضہ لے کر کمپوٹر گرافکس کارڈ بنانے کا ٹورانٹو میں کارخانہ لگایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا کی دو بڑی وڈیو کارڈ بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک ہو گئی۔ کینیڈا جو ہائی ٹیک کمپنیوں کے لیے ترستا تھا، اس کے ایک چینی باشندے نے اسے ہائی ٹیک کی دنیا میں چار چاند لگا دیے تھے۔ پھر حالات نے کروٹ لی، دو سال پہلے "ہو" کو سٹاک مارکیٹ میں "اندرونی تجارت" کے الزام میں پھانس لیا گیا۔ تفتیش شروع ہوئی۔ کچھ ہفتے پہلے اسے الزامات سے باعزت طور پر بری کر دیا گیا۔ اس کے بعد استعفی آ گیا۔ سمجھ دار لوگوں کو کہانی میں کچھ تفصیل ایسی لگتی ہے جو پردے میں ہے۔ قیاس آرائی کی نہیں جا سکتی، ملک میں سپیچ کی آزادی کا قانون تو ہے نہیں۔
 
ایسے کاموں میں

ایسا تو ہوتا ہے ایسے کاموں میں
اور جناب کا کیا خیال ہے کہ سارے یورپ و مغرب میں آزادیاں موجود ہیں کی میاں جو تمھاری مرضی کرتے پھرو۔ بلکل ناہیں۔ ان ممالک میں ہمیشہ ہی شخصیات پر اقوام کو ترجیح دی جاتی رہی ہے اور جارہی ہے۔ کہ بندہ نہیں چاہیئے بلکہ قوم چاہئے اور پھر بندہ غائب اور قوم حاضر۔ بس ایک ادھ بندہ کو قوم کے فائدہ میں “کھنگالنا“ کچھ معنی نہیں رکھتا۔ مثلاُ امریکہ بہادر نے قومی مفاد کےلئے گیارہ ستمبر والا ڈرامہ کیا کہ نہیں۔

اور ہمارے یہاں گنگا الٹ ہیں بہتی ہے۔ کہ بندہ حاضر، قوم غائب۔ ایک بھٹو کی حکومت بنانے کےلئے ملک توڑ دو، ایک مشرف بچانے کو ملک کی سلامتی داؤ پر لگا دو، نام نہاد وردی بچانے کو ملک کا دفاع قربان۔ تو ایسا تو ہوتا ہی ہے اس طرح کے کاموں میں۔

انہوں نے کیا معلوم کیا دیکھ کر “چینی“ صاحب کو کونے لگا دیا ہے کہ میاں اللہ اللہ کرو اور چلتے بنو۔ ہو سکتا “چینی“ کا بھاؤ ہی گر گیا ہو۔
 

جیسبادی

محفلین
ڈاکٹر صاحب، آپ تو بڑے گہرے آدمی نکلے! بات آپ کی عمومی طور پر درست ہے۔ البتہ اس قصہ میں چینے کا کوئی قصور مجھے نہیں لگتا، بلکہ کچھ طاقتور لوگوں کا کیا کرایا لگتا ہے۔
 
'چینی' پر ایک قطعہ

بات تو ذرا ہٹ کر ہے، مگر 'چینی' پر ایک قطعہ یاد آگیا:

تعلقات چین اور امریکہ کے
ہیں بہت غیر یقینی صاحب
جبکہ اس دور میں امریکہ کے
نائب صدر ہیں، چینی صاحب

(انور شعور)
 
جیسبادی نے کہا:
ڈاکٹر صاحب، آپ تو بڑے گہرے آدمی نکلے! بات آپ کی عمومی طور پر درست ہے۔ البتہ اس قصہ میں چینے کا کوئی قصور مجھے نہیں لگتا، بلکہ کچھ طاقتور لوگوں کا کیا کرایا لگتا ہے۔

بہت شکریہ جیسبادی بھائی، مان لیتا ہوں کہ اس سارے قضیئے میں اس “چینے“ کا قصور نہ ہی ہواور نہ ہی میں نے اس کو الزام دیا ہے ۔ بلکہ میں تو ایک عمومی سی بات کر رہا تھا؛ کہ ترقی یافتہ معاشروں میں مملکت کے فائیدہ میں ایک بے گناہ کی ہلاکت جائزسمجھی جاتی ہے اور ہمارے ہاں گناہ گار پر مملکت قربان کر دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں عدمِ توازن کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تو ہے۔
 
Top