25 سال بعد کلکتہ میں ختم توریت منعقد ہوئی ۔

افضل حسین

محفلین
کلکتہ میں کبھی 6،000 ہزار یہودی تھے مگر آج انکی تعداد بشمکل 25 ہے ۔ختم توریت منعقد کرنے کے لئے کم ازکم 10 مردوں کا کورم (Quorum) لازمی ہوتاہے ۔ آخری دفعہ 1988 میں ختم توریت منعقد ہوئی تھی ۔ گزشتہ کل کے ختم توریت میں کل گیارہ یہودی شریک ہوئے جس میں سے صرف 5افراد کلکتہ سے تھے باقی یہودیوں کو ہندوستان میں مقیم اسرئیل کے سفیر الون اشپیز اپنے ساتھ دہلی سے لے کر کلکتہ آئے تھے۔یہ تقریب کلکتہ میں موجود واحد یہودی عبادت گاہ (Synagogue) " مگین ڈیوڈ" میں منعقد ہوئی ۔
 

افضل حسین

محفلین
کلکتہ میں یہودیوں کی آبادی 25 ہونے کے باوجود ان کا ایک بہت ہی معیاری انگریزی میڈیم اسکول ہے جس میں 90 فیصد مسلمان بچے اور بچیاں پڑھتے ہیں ۔جبکہ مسلمانوں کی آبادی 20 سے 30 لاکھ ہوگی مگر اس معیار کا کو کوئی اسکول نہیں ہے ۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
کلکتہ میں کبھی 6،000 ہزار یہودی تھے مگر آج انکی تعداد بشمکل 25 ہے ۔ختم توریت منعقد کرنے کے لئے کم ازکم 10 مردوں کا کورم (Quorum) لازمی ہوتاہے ۔ آخری دفعہ 1988 میں ختم توریت منعقد ہوئی تھی ۔ گزشتہ کل کے ختم توریت میں کل گیارہ یہودی شریک ہوئے جس میں سے صرف 5افراد کلکتہ سے تھے باقی یہودیوں کو ہندوستان میں مقیم اسرئیل کے سفیر الون اشپیز اپنے ساتھ دہلی سے لے کر کلکتہ آئے تھے۔یہ تقریب کلکتہ میں موجود واحد یہودی عبادت گاہ (Synagogue) " مگین ڈیوڈ" میں منعقد ہوئی ۔
کافی دلچسپ اور معلوماتی خبر ہے۔
کلکتہ میں یہودیوں کی آبادی 25 ہونے کے باوجود ان کا ایک بہت ہی معیاری انگریزی میڈیم اسکول ہے جس میں 90 فیصد مسلمان بچے اور بچیاں پڑھتے ہیں ۔جبکہ مسلمانوں کی آبادی 20 سے 30 لاکھ ہوگی مگر اس معیار کا کو کوئی اسکول نہیں ہے ۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم تعلیم کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
کتنا بڑا فرق ہے مسلم اور غیر مسلم اقوام کے درمیان۔۔۔
حالانکہ یہ حدیث پاک تقریباً ہر مسلم ادارے میں لکھی ہوتی ہے
"علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔"
مگر۔۔۔۔۔۔
ہم نے ہی فرامین بھی ٹالے تیرے

کتنے عجیب ہیں ہم بھی
ہائے۔۔۔ اقبالؒ کتنی سچی بات کہہ گئے برسوں پہلے

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
 

x boy

محفلین
کافی دلچسپ اور معلوماتی خبر ہے۔

۔
حالانکہ یہ حدیث پاک تقریباً ہر مسلم ادارے میں لکھی ہوتی ہے
"علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔"

۔
۔ا


شکریہ
آپ نے بات اچھی کہی ہے پریہ حدیث نہیں ہے
اس کی کوئی سند صحیح میں نہیں ہے بلکہ ضعیف میں بھی نہیں ہے
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
شکریہ
آپ نے بات اچھی کہی ہے پریہ حدیث نہیں ہے
اس کی کوئی سند صحیح میں نہیں ہے بلکہ ضعیف میں بھی نہیں ہے
اللہ معاف فرمائے۔
یقینا یہ میری غلطی ہے۔ آپ کے مراسلے کے بعد انٹرنیٹ پہ کچھ سرچنگ کی تو مزید یہ معلوم ہوا اس بارے میں
”علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے“
واضح رہے کہ یہ جملہ حدیث ہرگز نہیں۔ اسے بیہقی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔ امام ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597ھ) نے اپنی کتاب ”الموضوعات“ میں اسے من گھڑت قراردیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”یہ حدیث رسول اللہﷺ سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ اس کے راوی حسن بن عطیہ کو فی کو امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک سے سننے والے راوی ابو عاتکہ کو امام بخاری رحمہ اللہ ”منکَر حدیث“ (جس کی روایت قابل قبول نہیں) قرار دیتے ہیں جبکہ ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث باطل ہے جس کی کوئی اصل نہیں (کتاب الموضوعات، ص 155,154)

لنک
 
Top