2 لاکھ مسلمان اور مسجد ایک نہیں

فخرنوید

محفلین
السلام علیکم! ابھی ایک تازہ خبر پڑھی ہے جس کے مطابق

1100485472-1.gif
 

ابوشامل

محفلین
فخر نوید صاحب! المیہ یہ ہے کہ ہمارے اخباری و خبری اداروں میں تحقیق کا رحجان صفر بلکہ منفی میں ہے۔ کسی بھی خبر کے سلسلے میں کوئی تحقیق نہیں کی جاتی۔ یونان صدیوں تک سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں رہا ہے اور عثمانیوں کے مبینہ مظالم کے خلاف جب انہوں نے 19 ویں صدی کے اواخر میں آزادی حاصل کی تو ردعمل کے طور پر ملک بھر میں مساجد کے قیام پر پابندی عائد کر دی گئی۔ البتہ اب اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں کہ یونانی پارلیمان نے مساجد کے قیام کی منظوری دی ہے۔ یہ جو کھنڈرات کی مسجد کا ذکر کیا گیا ہے بہت مضحکہ خیز انداز میں، اس کی وجہ سے خبر کی صحت "صفر" ہو گئی ہے۔ یہ ایتھنز کے ایکروپولس میں واقع عمارت "پارتھینون" کے بارے میں ہے جسے عثمانیوں نے فتح کے بعد مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ یہ کوئی عثمانیوں کی تعمیر کردہ مسجد نہیں تھی بلکہ یہ یونانی قدیم معبد تھا جسے مسجد کی حیثيت دی گئی۔ جب عثمانیوں کا دور اقتدار ختم ہوا تو اس کی له حیثیت بھی ختم ہو گئی۔ مجھے تو یہ خبر کم اور تحریک منہاج القرآن کی تشہیری مہم کا حصہ زیادہ لگ رہی ہے۔
 

فخرنوید

محفلین
جناب ابو شامل اگر آپ خبر کا رپورٹر دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا ۔

این این آئی ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ہے۔
یہ کوئی منہاج القرآن کی اپنی خبر یا اخبار نہیں
 

ابوشامل

محفلین
محترم میں نے نیوز ایجنسی کو ہی کہا ہے، آپ کو ہر گز نہیں۔ امید ہے آپ نے برا نہیں منایا ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ آپ کو کس نے کہہ دیا این این آئی (نیوز نیٹ ورک انٹرنیشنل) غیر ملکی خبر رساں ادارہ ہے؟ اس بارے میں کچھ تحقیقات کر لیں کہ این این آئی کیا ہے؟ میں بس اتنا کہوں گا کہ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں قائم ہونے والا ادارہ "نواز نیوز انٹرنیشنل" کے نام سے "بدنام" تھا۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔
 

طالوت

محفلین
اب شاید بھائیوں کا برا تو لگے اور لگنا بھی چاہیئے ، منہاج والے بھی خوب پیسہ بنا رہے ہیں ، ورنہ ہمارے نامی گرامی قبلہ و کعبہ علماء کا ذریعہ معاش آج تک سمجھ نہیں آیا لیکن ساری قوم کو سادگی کا درس دینے والوں کی اپنی پگڑیاں چھ چھ میٹر کی ہوا کرتی ہیں ، کیا خیال ہے ؟
وسلام
 
Top