’14 سال کی تھی جب مجھے فروخت کر دیا گیا‘

نیپال سے انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے کے لیے اغوا کی جانے والے چودہ سالہ لڑکی کی کہانی، کامکس کی زبانی

01.jpg

02.jpg

03.jpg

04.jpg

05.jpg

06.jpg

07.jpg

08.jpg

09.jpg

10.jpg

11.jpg

12.jpg

بہ شکریہ بی بی سی اردو
 

یوسف-2

محفلین
جب تک دنیا میں بازار حسن قائم رہے گا، حکومتی اجازت بلکہ اس کی سرپرستی میں عزتوں کا سودا ہوتا رہے گا، عورتوں کی خرید و فروخت کا کاروبار جاری و ساری رہے گا۔ خواتین کے حقوق کی علمبردار نام نہاد تنظیمیں کبھی بھی اور کسی ملک میں بھی ان بازار حسن کے خلاف کیوں نہیں اٹھ کھڑی ہوتیں؟؟؟ جب تک ”روٹ کاز“ کو ختم نہیں کیا جاتا، یا اس کے خاتمے کے لئے آواز بلند نہیں کی جاتی، خواتین کے اغوا اور خرید و فروخت پر مگر مچھ کے آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوگا۔:eek: بی بی سی یا اسی جیسے اداروں نے کبھی بھی عصمت فروشی کے حقیقی خاتمے کے لئے کبھی بھی کوئی آواز نہیں بلند کی۔
 

سید زبیر

محفلین
تعلیم کی اپنی جگہ بہت اہمیت ہے جس سے انسان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے لیکن میر خیال ہے خاندانی اور معاشرتی بندھوں کی مضبوطی سے بھی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے (آمین)
 

مہ جبین

محفلین
اللہ پاک سب بہنوں اور بیٹیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس غلیظ و گھناؤنے کاروبار کا حصہ بننے سے بچائے آمین
 

شمشاد

لائبریرین
تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی حکومت اس سسٹم کو ختم کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی۔
 
جب تک دنیا میں بازار حسن قائم رہے گا، حکومتی اجازت بلکہ اس کی سرپرستی میں عزتوں کا سودا ہوتا رہے گا، عورتوں کی خرید و فروخت کا کاروبار جاری و ساری رہے گا۔ خواتین کے حقوق کی علمبردار نام نہاد تنظیمیں کبھی بھی اور کسی ملک میں بھی ان بازار حسن کے خلاف کیوں نہیں اٹھ کھڑی ہوتیں؟؟؟ جب تک ”روٹ کاز“ کو ختم نہیں کیا جاتا، یا اس کے خاتمے کے لئے آواز بلند نہیں کی جاتی، خواتین کے اغوا اور خرید و فروخت پر مگر مچھ کے آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوگا۔:eek: بی بی سی یا اسی جیسے اداروں نے کبھی بھی عصمت فروشی کے حقیقی خاتمے کے لئے کبھی بھی کوئی آواز نہیں بلند کی۔
:zabardast1:
 
Top