’کیانی ہچکچاتے رہے، آپریشن کو ٹالتے رہے جس سے بہت نقصان اٹھایا‘

حاتم راجپوت نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 1, 2014

  1. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    جو حملہ 2011 میں ہونا چاہیے تھا وہ 2014 میں کر کے دہشت گردوں کو وقت نہیں دیا گیا کیا ؟ اہتمام پر تنقید اس لئے کہ اہتمام واز ٹو لیٹ ، پھر بھی مجھے اس بات کی دلی خوشی ہوئی کہ آخر کوئی تو قدم اٹھایا گیا مگر اتنے سارے بے گھر بچے اور غریب لوگ دیکھ کر خوشی ماند پڑ گئی طالبان اب صرف وزیرستان تک محدود نہیں ہیں طالبانی سوچ ہر جگہ پائی جاتی ہے اور کمر توڑنے کا اہتمام بہت دیر سے کیا گیا اب تو ان کی جڑیں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    دراصل یہی وقت درست تھا اپریشن کا۔ اس وقت امریکی فوج افغانستان سے باہرجارہی ہے اور اس کو ایک محفوظ ایکزٹ چاہیے ۔ اس تحفظ کے لیے ضروری تھا کہ پاکستانی افواج اپنے علاقے میں دھشت گردوں کی پناہ گاہیں تباہ کریں اور طالبان کو کنٹرول کریں تاکہ افغانستان میں استحکام اسکے۔
    6 لاکھ سے زائد بے گھر افراد کی وجہ سے ہم لوگ اس طرح کے اپریشن کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس قسم کے اپریشن کے اثرات دوررس ہیں ۔
    طالبانی سوچ اگر ہر جگہ پائی جاتی ہے تو کیا کیجیے؟ کیا ہر جگہ اپریشن کریں گی پاکستانی افواج؟ یہ ممکن نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ پاکستان میں ایک جہموری حکومت کو استحکام دیا جائے تاکہ ملک میں استحکام ائے۔ ملک میں معاشی ترقی ائے اور ملک میں امن ہے۔
    اپریشن سے ممکن ہے فوری طور پر فوجی غلبہ حاصل ہوجائے اور امریکی افواج کو نکلنے کاراستہ مل جائے مگر مکمل استحکام صرف جہموری اور سیاسی طریقے سے ہی اسکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    [​IMG]
    پختونوں کو صرف اسلام پسندی کی سزا مل رہی ہے یا پاکستانی ریاست کا ساتھ دینے کی
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    [​IMG]

    گڈ طالبان بیڈ طالبان کا معاملہ اب تک لگ رہا ہے
     
  5. ناصر علی مرزا

    ناصر علی مرزا معطل

    مراسلے:
    1,234
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    " پہلے جنرل اطہر عباس آپریشن نہ کرنے کی درجنوں وجوہات بیان کرتے تھے،مگر آج وہ وہی بات کررہے ہیں جس کے خلاف وہ ( دوران نوکری ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو) دلائل دیا کرتے تھے - ہمارے یہاں یہ روایت نہ جانے کب دم توڑے گی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہر اچھا کام اپنے نام منسوب کردیا جاتا ہے اور ہر ناکامی (اور خامی) کی ذمہ داردی دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے" طلعت حسین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اسلام آباد (تبصرہ: انصار عباسی) یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے متعلق بیان کیوں دیا لیکن جنرل کیانی اور ان کی قیادت کے حوالے سے ان کے بیان کی وجہ سے فوج کے ادارے کو فائدہ ہوگا اور نہ ہی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن میں کوئی مدد ملے گی۔ انہوں نے ایک ایسے آرمی چیف کے متعلق بیان دیا جس کا جمہوریت، قانون اور آئین کی بالادستی کیلئے کردار بے مثال رہا ؛ سابق آرمی چیف نے نہ صرف فوج کو سیاست سے پاک کیا بلکہ موثر انداز سے عالمی اور علاقائی دشمنوں کے پاکستان مخصوص عزائم کو ناکارہ بنایا۔ میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے پیر کو انکشاف کیا تھا کہ پاک فوج تین سال قبل شمالی وزیرستان میں آپریشن کیلئے تیار تھی لیکن ایسا اسلئے نہیں ہوسکا کہ جنرل کیانی اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں اطہر عباس نے کہا تھا کہ فوجی قیادت نے 2010 میں اس آپریشن کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا جس کے بعد ایک سال فوجی کارروائی کی تیاری کی گئی لیکن عین موقع پر جنرل کیانی کی جانب سے فیصلہ کرنے میں تذبذب کے باعث یہ آپریشن نہیں ہو سکا۔فوج میں یہ اصولی فیصلہ ہو چکا تھا کہ 2010 سے 2011 تک شمالی وزیرستان میں آپریشن کی تیاری کی جائے گی اور اسی سال یہ آپریشن کر لیا جائے گا اور اس علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا جائے گا۔ یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کیا تھا لیکن آرمی چیف تذبذب کا شکار تھے۔ فوج اپنے آرمی چیف کی مرضی کے بغیر کیسے فیصلہ کرسکتی ہے؟ فوج میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ فوج یا پھر ’’علاقے میں تعینات فوجی افسران‘‘ کے پاس؟ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ 11/9 کے بعد جنرل پرویزمشرف کے بھیانک یو ٹرن کی وجہ سے جس وقت پاکستان اپنے علاقائی اور بین الاقوامی دشمنوں کا ہدف بنا ہوا تھا اس وقت پاکستان اور اس کی فوج پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کیلئے امریکا کا زبردست دبائو تھا۔ پاکستان پر دبائو تھا کہ وہ پاکستان نواز حقانی نیٹ ورک اور دیگر طالبان گروپس کے خلاف کارروائی کرے حالانکہ ان گروپس کا ریاست پاکستان کے خلاف کارروائیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ اُن دنوں اُس وقت کی سویلین حکومت نے بھی واشنگٹن کے دبائو کے سامنے شکست تسلیم کرلی تھی اور فیصلے کے معاملے میں سب کچھ جنرل کیانی پر چھوڑ دیا تھا۔ جنرل کیانی نے اس وقت سوات اور دیگر قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع کر رکھا تھا اور انہوں نے اس وقت وضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ واشنگٹن کی خوشنودی کیلئے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع نہیں کریں گے اور یہ آپریشن صرف اسی صورت کیا جائے گا جب یہ اقدام پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ اُن برسوں کے دوران نہ صرف امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہا تھا بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی واضح کوششیں بھی ہو رہی تھیں۔ فوج کے ایک میجر جنرل کو شاید پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کی واضح تصویر کا علم ہی نہ ہو لیکن آرمی چیف کے ذہن میں یہ سنجیدہ نوعیت کی معلومات ضرور ہوگی کہ انہوں نے امریکی صدر کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا: یعنی کہ امریکا پاکستان کو غیر مستحکم اور جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہتا ہے۔ اتنی بصیرت کے حامل آرمی چیف کس طرح یہ حقیقت کو نظرانداز کردیں گے کہ 11/9 کے بعد پاکستان کی زبردست قربانیوں کے باوجود افغانستان کو پاکستان مخالف عناصر کے ہاتھوں میں دیدیا گیا۔ زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے افغانستان میں بھارتی اثر رسوخ بھی بڑھنے دیا گیا۔ جب جنرل کیانی نے آرمی چیف کی حیثیت سے کمان سنبھالی تو انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہیں پاک فوج کے وقار کو بحال کرنا تھا۔ انہیں فوج کو سیاست سے پاک اور جمہوری عمل کی حمایت کرنا تھی۔ سب سے اہم یہ کہ واشنگٹن کے اثر رسوخ اور اس کی پاکستان کے معاملات میں مداخلت کو روکنا تھا کیونکہ مشرف کے دور میں یہ سب بے مثال انداز سے ہو رہا تھا۔ پرویز مشرف کے دور میں امریکا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی۔ پاکستانی فضائی اڈے امریکیوں کے حوالے کردیئے گئے تھے۔ پاکستان بھر میں کئی خفیہ ایجنٹس پھیل چکے تھے۔ جنرل کیانی کے تحت پاک فوج اور آئی ایس آئی نے تقریباً ان تمام چیزوں کو ختم کیا۔
     
  7. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    ایک اور کھیل شروع،، معرکہ صلاح الدین، طالبان کا بدلہ اور ری ایکشن شروع ہونے والا ہے، طالبان کا اعلان
    یہ تو ہم پاکستانیوں کو بہت بھاری پڑجائے گا۔ عمران خان تبھی کہہ رہے تھے کہ بات چیت سے مسئلہ حل کیا جائے
    اللہ امن دے ہم سب کو، آمین
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    صلاح الدین ایوبی تو یہود و نصاری کے خلاف جہاد کرتے رہے، یہ طالبان ہم پاکستانیوں کو یہودی سمجھتے ہیں؟
     
  9. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    اللہ جانے اور وہ جانے میں کیا کہہ سکتا ہوں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    صلاح الدین ایوبی ہی کے زمانے میں ایک بہت بڑی دہشت گرد قوت تھی جسکا نام تھا "حشیشین" انکے فدائین بھی تھے، انکا شیخ الجبل اور انکا قلعہ الموت۔۔۔یہ بیک وقت مسلمانوں اور عیسائی حکومتوں کیلئے درد سر بنے ہوئے تھے اور بہت سی شخصیات کو انہوں نے قتل کیا بہت دہشت پھیلائی۔۔۔آخر کار ان سب کا قلع قمع کردیا گیا بڑی مشکل سے۔آجکے دور کے حشیشین پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مورچہ بند ہیں۔۔۔وہی انکا قلعہ الموت ہے جہاں سے انکے فدائین ، مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں، انکا بھی شیخ الجبل ہے۔۔۔امید ہے جلد ہی انکا بھی قلع قمع یہاں سے کردیا جائے گا۔۔۔۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    اسلام پسندی دوسرے مسلمانوں کو بے دریغ قتل کرنے کا نام ہے کیا ؟
     
  12. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    ان معصوم پختونوں نے جو بے گھر ہوئے ہیں کسی کا کیا نقصان کیا تھا؟
     
  13. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    متفق ان کا کوئی قصور نہیں لیکن گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے
     
  14. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    گہیوں تو نہیں پس رہا البتہ گھن ہی پس رہا ہے

    اپنے ارام دہ گھر میں انٹرنیٹ پر یہ بات کرنا بہت اسان ہے کہ گھن بھی پس جاتا ہے۔ جس پس رہا ہے اس کے دل سے پوچھیں کہ گھن پس رہا ہے تو کیا حالت ہوتی ہے
     
  15. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    خان صاحب
    میرا یہ ماننا ہے کہ مجھے دی گئی ہر نعمت اللہ کی دین ہے اور اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے خواہ وہ میرا آرام دہ گھر ہو یا انٹرنیٹ اب اس کا گلہ آپ چاہیں تو اللہ سے کر سکتے ہیں اور وہ جس حال میں بھی رکھے گا میں شکر گذار ہی رہوں گی
    آپ ہی نے میرے مراسلے کو پرمزاح قرار دیا تھا جب میں نے گھن کے پسنے کی شکایت کی تھی میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ شکایت کس بات کی کر رہے ہیں فوجی آپریشن کی ، مجھے دی گئی نعمتوں کی یا گھن کے پسنے کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    اللہ آپ کو اور ہم سبکو مزید نعمتیں عطا کرے

    مدعا یہ تھا کہ ہم یہ اسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ بے گھر ہوگئے اور چلو کوئی بڑی بات نہیں۔ مگر ان کے دل سے پوچھیں جن پر یہ گزررہی ہے۔ اور ان کے کوئی گناہ بھی نہیں۔
    میرے مراسلات کو کبھی بھی ذاتی نہ لیں
    میں شکایت کررہاہوں تو ان معصوم لوگوں کی جنھیں مجرم سمجھ کر ہر کوئی لطف لے رہا ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر