’کیانی ہچکچاتے رہے، آپریشن کو ٹالتے رہے جس سے بہت نقصان اٹھایا‘

حاتم راجپوت نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 1, 2014

  1. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    [​IMG]
    ہم نے اس پر بہت وقت ضائع کر دیا ہے جس سے ہم سب کی مشکلات بڑھی ہیں: اطہر عباس

    پاکستان کی فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے کہا ہے کہ فوج نے تین برس قبل شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ہچکچاہٹ کے باعث یہ کارروائی نہ کی جا سکی۔
    بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں جنرل اطہر عباس نے کہا کہ فوجی قیادت نے 2010 میں اس آپریشن کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا جس کے بعد ایک سال فوجی کارروائی کی تیاری کی گئی لیکن عین موقعے پر جنرل کیانی کی جانب سے فیصلہ کرنے میں تذبذب کے باعث یہ آپریشن نہیں ہو سکا۔

    ’شمالی وزیرستان کو جنگ سے دور رکھا‘
    فوج میں یہ اصولی فیصلہ ہو چکا تھا کہ 2010 سے 2011 تک شمالی وزیرستان میں آپریشن کی تیاری کی جائے گی اور اسی سال یہ آپریشن کر لیا جائے گا اور اس علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا جائے گا۔‘
    اس سوال پر کہ جنرل کیانی نے آپریشن کے حق میں حتمی فیصلہ کیوں نہیں دیا، کیا اس میں ان کی ذاتی کمزوریوں کا دخل تھا، سابق فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر عمومی طور پر درست ہے۔
    ’’ان میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کے بارے میں ایک طرح کی ہچکچاہٹ پائی جاتی تھی۔ وہ یہ فیصلہ کرنے میں بہت تامل کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ فیصلہ کرنے سے ان کی ذات کے بارے میں باتیں کی جائیں گی۔ کہا جائے گا کہ یہ جنرل کیانی کا ذاتی فیصلہ تھا۔ اس لیے وہ اس فیصلے کو ٹالتے رہے۔ جس کی وجہ سے ہم نے بہت وقت ضائع کیا اور نقصان اٹھایا۔‘‘


    ’’وہاں زمین پر موجود فوجی کمانڈروں کی متفقہ رائے تھی کہ
    شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بغیر ملک میں امن
    قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر طرح کے شدت پسند اسی علاقے
    میں جمع ہو چکے تھے"

    اطہر عباس


    جنرل اطہر عباس نے کہا کہ اس شش و پنج میں بدقسمتی سے بہت وقت ضائع ہو گیا جس کی بھاری قیمت اس ملک، عوام، حکومت اور فوج کو ادا کرنی پڑی۔
    ’’اس تاخیر کی وجہ سے شدت پسندوں کے قدم مضبوط ہو چکے ہیں، ان کی تعداد بڑھ گئی ہے، ان کے وسائل میں اضافہ ہو چکا ہے، ان کے آپس میں رابطے بڑھ چکے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہاں پر معاملات زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔‘‘
    سابق فوجی ترجمان کے مطابق فوج کی اعلیٰ قیادت نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا فیصلہ وہاں پر تعینات فوجی کمانڈروں کی رائے اور وہاں سے ملنے والی انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پر کیا تھا۔
    [​IMG]
    ’جنرل کیانی کا خیال تھا کہ یہ فیصلہ کرنے سے ان کی ذات بارے میں باتیں کی
    جائیں گی‘

    ’’وہاں زمین پر موجود فوجی کمانڈروں کی متفقہ رائے تھی کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر طرح کے شدت پسند اسی علاقے میں جمع ہو چکے تھے۔‘‘
    جنرل اطہر عباس نے کہا کہ اس سے پہلے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں فوج کی اعلیٰ قیادت میں دو آرا پائی جاتی تھیں۔ ایک رائے اس کارروائی کے حق میں تھی جب کہ دوسرے گروہ کا خیال تھا کہ اس کارروائی کو ملتوی کیا جا سکتا ہے۔
    ’’اس کی بہت سی وجوہات تھیں جن میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل تھا کہ انھیں کیسے ہینڈل کیا جائے۔ اس کے علاوہ فوجی کارروائی کے متاثرین کا مسئلہ بھی بہت اہم تھا۔‘‘
    اطہر عباس نے کہا کہ فوجی قیادت کی رائے تھی کہ حکومت اور ملک کی سیاسی قیادت نے 2009 میں سوات سے نقل مکانی کرنے والوں کا ٹھیک طرح سے خیال نہیں رکھا تھا اور خدشہ تھا کہ شمالی وزیرستان سے بھی بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کریں گے۔

    ’’ان عوامل کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی تاخیر کا شکار ہوتی رہی اور اس کی ہم سب نے بھاری قیمت ادا کی۔‘‘

    [​IMG]
    29 نومبر 2013 میں پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف نے باضابطہ
    طور پر بری فوج کی کمان سنبھال لی تھی۔

    اطہر عباس کے مطابق امریکہ نے بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کے معاملے پر فوج کے لیے مشکلات پیدا کیں:

    ’’امریکہ سے ہر روز ایسے بیانات آتے تھے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے فوج پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ہم امریکیوں کو یہ بتاتے رہے کہ اس طرح کے بیانات ہماری مدد نہیں کر رہے بلکہ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنے میں مزید مشکل کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیتے تو اس سے یہی تاثر ملتا کہ یہ کارروائی امریکہ کی خواہش پر کی جا رہی ہے۔‘‘

    میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں حالات آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے 2010 میں تھے اس لیے اگر آج آپریشن کیا جا رہا ہے تو اس وقت بھی کیا جا سکتا تھا۔

    ’’میری ذاتی رائے میں یہ کارروائی 2011 میں ہو جانی چاہیے تھی۔ ہم نے اس پر بہت وقت ضائع کر دیا ہے جس سے ہم سب کی مشکلات بڑھی ہیں۔‘‘

    بی بی سی اردو ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 4
    • متفق متفق × 2
  2. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کل جب یہ خبر ٹی وی پر چلی تو میرے زہن میں فوراً یہ خیال آیا کہ کیا اطہر عباس کو اپنے سابقہ کمانڈر انچیف کے بارے ایسی باتیں کرنی چاہئے تھیں؟ جب کہ اس وقت فوج کو عمومی طور پر اخلاقی سپورٹ کی بھی ضرورت ہے؟
    جب کیانی چیف بنا تو اس وقت ایک فوجی افسر نے بتایا کہ اس کی شہرت ایک اچھے پروفیشنل فوجی کی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    میرا نہیں خیال کہ ایسے وقت میں فوج کی اخلاقی سپورٹ میں کوئی فرق پڑے گا۔ مثبت چیز یہ ہے کہ عوام کو حقیقت کا ادراک ہوا ہے اور فوج کو آئندہ شخصی فیصلوں سے زیادہ بحیثیت ادارہ فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ خاص طور پر جب معاملہ قومی سلامتی کا ہو۔ اور آج کل دہشت گردی کے تمام مسائل کسی نہ کسی طرح قومی سلامتی سے جڑے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
  4. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    مشرف بھی اسی فوج کا سابقہ کمانڈر انچیف ہے۔۔۔۔تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    فیصلے تو فوج کے اندرونی ڈھانچے اور چین آف کمانڈ کے مطابق ہی ہونگے اور ہونے بھی چاہئیں۔
    البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ موجودہ اور آئندہ آرمی چیف پچھلوں کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جس پر سنگین غدار یا آئین شکنی کا کیس بھی چل رہا ہے۔ جسے ان پروفیشنل ازم کی انتہا کہا جا سکتا ہے۔
     
  7. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ایسا کیس چلنا واقعی ان پروفیشنل ازم کی انتہا ہے ۔ ۔ :p
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  8. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کیسے؟
    وضاحت کر یں گے؟
     
  9. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کمنٹ میرا نہیں آپکا ہے، میں تو صرف آپ سے متفق ہوا ہوں۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ ابتری کے اس دور میں جنرل کیانی نے کیا کردار ادا کیا ، اب تک کی تمام گورنمنٹس میں سے زرداری کا دور شائد فرعون کے دور سے خاصی مماثلت رکھتا ہے مگر اس کے باوجود بھی کیانی صاحب نے لو پروفائل رکھا باقی رہا یہ آپریشن تو یہ بھی غریب مکاو آپریشن بن گیا دہشت گردوں کو اتنا وقت دیا گیا کہ وہ اپنا سامان تک بیچتے رہے اپنی دوکان بڑھانے سے پہلے تو آخر آپریشن کا حاصل کیا تھا غریبوں کو بے گھر کرنا ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  12. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    تو آپ کی رائے میں یہ آپریشن غیرمناسب ہے اور صرف دکھاوا ہے؟؟
     
  13. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جاری آپریشن تو ہونا چاہئے اور اچھے طریقے سے مکمل ہونا چاہئے مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ اس آپریشن سے مکمل نہیں ہوگی۔
     
  14. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    دہشت گردوں کے فرار کے بعد آپریشن کس بات کا اور کیا مقصد ؟ کیا فوج کو نہیں پتہ کہ لشکر جھنگوی اور دیگر طالبانی گروہوں کے ٹھکانے کہاں ہیں وزیرستان سے بھاگ کر کہاں پناہ لے رہے ہیں ؟ اور اگر نہیں پتہ تو ایسے تمام آپریشنز بیکار ہیں ایک ٹھکانہ تباہ کرنے سے دہشت گرد ختم نہیں ہوتے دوسرا ٹھکانہ ڈھونڈ لیتے ہیں ضرورت دہشت گردوں کو ختم کرنے کی ہے ٹھکانوں کو ختم کرنے کی نہیں ۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 1, 2014
  15. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    دنیا کھیل تماشا ہے
     
  16. ناصر علی مرزا

    ناصر علی مرزا معطل

    مراسلے:
    1,234
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    مقامی افراد کی نقل مکانی اور ان کو مناسب سہولتوں کی فراہمی میں بد ترین کوتاہیاں ،اپریشن میں تاخیر، دہشت گردوں کا فرار وغیرہ اپنی جگہ لیکن اپریشن کا فیصلہ درست ہے دیر اید درست اید
     
    • متفق متفق × 2
  17. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    دہشت گردوں کے ٹھکانے ابھی بھی وہاں موجود تھے جن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
     
  18. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    آپریشن کراچی میں بھی ہونا چاہئے بتھہ خورو اور قبضہ مافیا نے ناک میں دم کیا ہوا ہے
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 1, 2014
    • متفق متفق × 1
  19. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    17 فوجی جاں بحق ہوئے وہ کیا دکھاوا ہے؟

    ایک فوجی جنرل ڈبل کھیل کھیل رہا تھا ۔ دوسرے فیصلے کرنے میں ہچکچارہا تھا۔ عجب کھیل ہے
    جنگ جیسے سنجیدہ معاملات اور حکومت کبھی فوج کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    درست۔ تو اس بات کی ضمانت کیا ہے کہ فوج انٹیلی جنس کی اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں پر حملہ کرے گی اور وہ وہاں سے بھی فرار نہیں ہو جائیں گے؟ آپ کی ہی بات کے مطابق اگر ٹھکانوں کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں تو فوج کے علم میں آئے ہوئے لشکر جھنگوی اور طالبانی ٹھکانوں کا کیا مصرف؟ اور اگر دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانوں سے ختم نہیں کرنا تو کہاں سے ختم کرنا ہے؟
    طاقت کے زور پر طالبان و دیگر انتہا پسند عناصر کی فزیکل باڈی کو شکست دی جا سکتی ہے جس کی مدد سے وہ دہشت گردی کی مذموم کاروائیاں کرتے رہے ہیں۔
    باقی یہ کہ انتہا پسند طالبانی سوچ کو طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا صرف نظریے سے شکست دی جا سکتی ہے اور ایسے پر امن نظریے کے پرچار کیلئے حکومت کو علماء دین سے مدد طلب کرنی چاہئے۔ تا کہ عوامی شعور بیدار ہو سکے۔ میری نظر میں معاشرے کی انتہا پسندی آنکھ جھپکتے ہی مکمل تبدیل نہیں ہو سکتی اور اس کے لیے کچھ وقت تو درکار بہرحال ہو گا ۔ اس وقت میں عوام اور قوم کی سلامتی کیلئے دہشت گردوں کی کمر توڑنا بہرحال ضروری ہے جس کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس اہتمام پر تنقید ہونی چاہئے لیکن برائے تنقید کا کوئی مفید مصرف اگر کوئی ہے تو میری سمجھ میں نہیں آتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر