’فدائی بن کر جنت ملے گی‘

الف نظامی

لائبریرین


ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کئی خودکش حملے ہوچکے ہیں مگر ان میں زیادہ تر کا تعلق صوبہ پختون خواہ یا جنوبی پنجاب سے تھا مگر چند روز قبل ہونے والی گرفتاریوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خودکش بمباروں کی بھرتی اور ذہنی طور پر تیاری کا کام مقامی طور پر کیا جارہا ہے۔

سی آئی ڈی پولیس نے دو روز قبل سہراب گوٹھ کے علاقے سے شیر رحمان، زین اللہ اور چودہ سالہ عبدالسلام محسود کو گرفتار کیا ہے، پولیس کے مطابق شیر رحمان اور زین اللہ کا تعلق تحریک طالبان سے ہے جبکہ عبدالسلام محسود کو خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

(پولیس کی حراست میں عبدالسلام محسود کی بی بی سی سے ہونی والی گفتگو کے بارے میں یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بیان انھوں نے اپنی مرضی سے دیا یا اس کے پیچھے پولیس کا خوف کارفرما تھا۔)

مبینہ خودکش بمبار عبدالسلام محسود کی پیدائش کراچی کی ہے ان کے والد کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے جنڈولا سے ہے ۔

پولیس کے ایک تفتیشی سینٹر میں نویں جماعت کے طالب علم عبدالسلام سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ وہ خودکش بمبار بننے کے لیے کیسے تیار ہوے؟

عبدالسلام نے اپنی دستان سناتے ہوئے کہا کہ سہراب گوٹھ میں وہ ظاہر خان کی پرچون کی دکان پر بیٹھا کرتا ، جس کو وہ گزشتہ تین برسں سے جانتا ہے۔

’رمضان کے مہینے میں ایک روز ظاہر نے کہا کہ وہ فدائی بننے جا رہا ہے، میں نے پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا کہ بس یار فدائی کرنے کا بہت شوق ہو رہا ہے جنت تو مل جائیگی۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو بولا اگر قیامت والے دن مجھے سے پوچھا گیا کہ تم نے اللہ تعالی کے لیے کیا کیا ہے؟ اگر میں نے کچھ نہیں کیا ہوگا تو دوزخ میں ڈال دیں گے اگر فدائی حملہ کیا ہوگا تو یہ بول پاؤں گا کہ میرے پاس ایک جسم تھا جس کے ٹکڑے کرڈالے اور اسے قربان کر دیا۔‘

پراعتماد انداز اور روانی سے اردو میں بات کرنے والے اس چودہ سالہ نوجوان نے بتایا ظاہر کی باتوں سے اس میں بھی فدائی بننے کا شوق جاگا، ظاہر کی دکان پر اس کی رؤف نامی شخص سے ملاقات ہوئی جس نے پوچھا کہ کیا تمہیں فدائی کرنے کے لیے جانا ہے، اس نے کہا کہ کہو تو ابھی کرنے کو تیار ہوں۔

یاد رہے کہ کراچی میں کچھ روز قبل درگاہ عبداللہ شاھ غازی پر دو خودکش حملے کیے گئے تھے جن کی عمر بھی پولیس کے مطابق سترہ یا اٹھارہ سال تھی، جبکہ اس سے قبل شیعہ عالم علامہ حسن ترابی پر ہونے والے حملے میں بھی خودکش بمبار کی عمر پندرہ سولہ سال بتائی گئی تھی۔

سفید رنگ کے نئے قمیض شلوار پہنے ہوئے اس نوجوان نے بتایا کہ کچھ روز کے بعد اس کی مقامی طالبان رہنما شیر رحمان سے ملاقات ہوئی اور اس نے افغانستان جاکر امریکی فوج پر فدائی حملہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مگر شیر رحمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تو اس کا کوئی تعلق نہیں پر وزیرستان سے ہے ۔

عبدالسلام نے بتایا کہ اس نے شیر رحمان کو بتایا کہ وہ وزیرستان نہیں افغانستان جانا چاہتا ہے، جس پر شیر رحمان نے سوال کیا کہ کیا تم وزیرستان کے طالبان سے کبھی ملے ہو؟ ’جب تم ان سے ملو گے تو پتہ چلے گا ان کے چہرے سے نور نظر آتا ہے، ہاتھ ملاؤ گے تو ہاتھ نہیں ہٹا پاؤگے وہ اتنے خوبصورت ہیں، دیکھو گے کہ واقعی یہ جنتی ہیں اور انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہوگا۔‘

چہرے پر بغیر کسی خوف اور خطرے کے تاثرات لیے اس نوجوان نے بتایا کہ شیر رحمان نے اس سے کہا کہ افغانستان کے طالبان تمہیں نہیں چھوڑیں گے کیونکہ تمہاری داڑھی نہیں، تم کراچی میں فدائی کرلو، کیونکہ افغانستان میں خودکش کرو یا پاکستان میں دونوں جگہ ثواب ایک جتنا ہی ملے گا۔

عبدالسلام کے بقول شیر رحمان نے کہا کہ وہ کوشش کرگے اور جب بندے آئیں گے تو ملاقات کروائےگا جس کے بعد اس نے زین اللہ سے ملاقات کرائی، زین اللہ نے اسے سمجھایا کہ وہ فدائی نہ کرے کیونکہ ابھی اس کی عمر نہیں ہے اور اسے مشورہ دیا کہ خودکش حملے کی جیکٹ بنانا سیکھو کیونکہ جتنے لوگ پھٹیں گے تمہیں ثواب ہوگا مگر اس نے انکار کردیا ۔

چار بھائیوں کے اس چھوٹے بھائی نے بتایا کہ ظاہر افغانستان میں پہلے بھی جہاد کرکے آیا تھا، وہ جب اس کی دکان پر بیٹھتا تو وہ کہتا کہ تم جب فدائی کا جیکٹ پہنوں گے اور حملہ کرنے جاؤں گے تو تمہارے سامنے جنت ہوگی، تم جنت میں داخل ہوگے اور پیچھے پھٹیں گے اور لوگ ۔

’میرے ذہن میں بس ایک بات ہوتی تھی کہ فدائی بننا ہے، جب لیڈی ٹیچر مجھے ٹیوشن پڑہاتی تھی یا کام کرتا تھا تو چوبیس گھنٹے میرے ذہن میں فدائی، جنت، فدائی جنت ہوتا تھا۔‘

عبدالسلام محسود کسی مشن پر روانہ ہوتا اس سے قبل ہی پولیس نے شیر رحمان اور زین اللہ کو گرفتار کرکے عبدالسلام کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

عبدالسلام محسود کی گرفتاری کے بعد اس کے والد کی طبیعت بگڑ گئی وہ پہلے ہی شوگر کے مریض ہیں۔
 
Top