‘کلیاں اور شگوفے‘

عائشہ عزیز

لائبریرین
یہ مزے کی کہانی فیس بک پر نظر آئی تھی ۔۔۔

اس آدمی نے 37 سال کی شادی کے بعد نوجوان محبوبہ کیلئے اپنی بیگم کو گھر سے نکال دیا، پھر بیوی نے کیسے انتقام لیا...؟
جان کر آپ ہنسی روک نہ پائیں گے...
.
جیک اور ایڈیتھ 37 سال سے خوشحال اور پرسکون ازدواجی زندگی گزار رہے تھے مگر جب جیک کی نوجوان سیکرٹری نے اس پر اپنے حسن کا جادو کیا تو اس نے نہ صرف ایڈیتھ کو طلاق دے دی بلکہ اسے اپنے کروڑوں ڈالر کے محل نما گھر سے بھی محض تین دن میں نکل جانے کا حکم دے دیا۔
.
بیچاری ایڈیتھ نے ایک دن اپنا سامان پیک کرنے میں صرف کیا، دوسرے دن مزدور بلوا کر سارا سامان نئی جگہ منتقل کروایا اور اس گھر میں اپنے آخری دن کے موقع پر ایک بہت ہی خاص کام کیا۔
.
ایڈیتھ نے جھینگوں اور چٹنی کے ساتھ اپنی آخری دعوت خود ہی کی اور پھر جھینگے کے خول، اور مچھلی کے انڈوں اور نمک سے تیار کردہ چٹنی caviar میں ڈبوئے اور یہ خول تمام گھر میں پردے لٹکانے والے پائپوں )rods( کے اندر ڈال دئیے۔
.
اگلے دن جیک اور اس کی محبوبہ اپنے محل میں رہنے کیلئے آگئے۔
.
کچھ دن تو بہت مزے میں گزرے لیکن پھر سارے گھر میں عجیب سی بو پھیلنا شروع ہوگئی جو آہستہ آہستہ اس قدر تیز ہوگئی کہ گھر میں رہنا ناممکن ہوگیا۔
.
جیک نے سارے گھر میں خوشبو کا چھڑکاؤ کروایا، پردے اور قالین تبدیل کروائے، ہر طرح کے ماہرین سے مشورہ لیا، لیکن بو کا کوئی علاج نہ ہوا۔
آخر کار بیچارے نے گھر بیچنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کی بدبو کی کہانی سارے شہر میں مشہور ہوچکی تھی اور کوئی اسے خریدنے کو تیار نہیں تھا۔
.
جب یہ خبر ایڈیتھ تک پہنچی تو اس نے جیک سے کہا کہ جس گھر میں اس نے زندگی گزاری ہے وہ جیسا بھی ہے وہ اسے خریدلے گی، اور پھر اصل قیمت کے دسویں حصے میں گھر ایڈیتھ نے خریدلیا۔
.
جیک اور اس کی محبوبہ بہت خوش تھے کہ انہوں نے بہت بڑی مصیبت سے جان چھڑوالی۔
.
ایک ہفتے بعد جب ان کا سارا سامان پیک کرکے نئے گھر لے جایا جارہا تھا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔
نئے گھر لے جائے جانے والے سامان میں ہر چیز شامل تھی۔
.
.
.
پردے لٹکانے والے پائپ بھی۔;;;;;;

حمیرا عدنان سیدہ شگفتہ مقدس فرحت کیانی ناعمہ عزیز عائشہ عزیز
:rollingonthefloor::rollingonthefloor:
 

فرحت کیانی

لائبریرین
یہ مزے کی کہانی فیس بک پر نظر آئی تھی ۔۔۔

اس آدمی نے 37 سال کی شادی کے بعد نوجوان محبوبہ کیلئے اپنی بیگم کو گھر سے نکال دیا، پھر بیوی نے کیسے انتقام لیا...؟
جان کر آپ ہنسی روک نہ پائیں گے...
.
جیک اور ایڈیتھ 37 سال سے خوشحال اور پرسکون ازدواجی زندگی گزار رہے تھے مگر جب جیک کی نوجوان سیکرٹری نے اس پر اپنے حسن کا جادو کیا تو اس نے نہ صرف ایڈیتھ کو طلاق دے دی بلکہ اسے اپنے کروڑوں ڈالر کے محل نما گھر سے بھی محض تین دن میں نکل جانے کا حکم دے دیا۔
.
بیچاری ایڈیتھ نے ایک دن اپنا سامان پیک کرنے میں صرف کیا، دوسرے دن مزدور بلوا کر سارا سامان نئی جگہ منتقل کروایا اور اس گھر میں اپنے آخری دن کے موقع پر ایک بہت ہی خاص کام کیا۔
.
ایڈیتھ نے جھینگوں اور چٹنی کے ساتھ اپنی آخری دعوت خود ہی کی اور پھر جھینگے کے خول، اور مچھلی کے انڈوں اور نمک سے تیار کردہ چٹنی caviar میں ڈبوئے اور یہ خول تمام گھر میں پردے لٹکانے والے پائپوں )rods( کے اندر ڈال دئیے۔
.
اگلے دن جیک اور اس کی محبوبہ اپنے محل میں رہنے کیلئے آگئے۔
.
کچھ دن تو بہت مزے میں گزرے لیکن پھر سارے گھر میں عجیب سی بو پھیلنا شروع ہوگئی جو آہستہ آہستہ اس قدر تیز ہوگئی کہ گھر میں رہنا ناممکن ہوگیا۔
.
جیک نے سارے گھر میں خوشبو کا چھڑکاؤ کروایا، پردے اور قالین تبدیل کروائے، ہر طرح کے ماہرین سے مشورہ لیا، لیکن بو کا کوئی علاج نہ ہوا۔
آخر کار بیچارے نے گھر بیچنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کی بدبو کی کہانی سارے شہر میں مشہور ہوچکی تھی اور کوئی اسے خریدنے کو تیار نہیں تھا۔
.
جب یہ خبر ایڈیتھ تک پہنچی تو اس نے جیک سے کہا کہ جس گھر میں اس نے زندگی گزاری ہے وہ جیسا بھی ہے وہ اسے خریدلے گی، اور پھر اصل قیمت کے دسویں حصے میں گھر ایڈیتھ نے خریدلیا۔
.
جیک اور اس کی محبوبہ بہت خوش تھے کہ انہوں نے بہت بڑی مصیبت سے جان چھڑوالی۔
.
ایک ہفتے بعد جب ان کا سارا سامان پیک کرکے نئے گھر لے جایا جارہا تھا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔
نئے گھر لے جائے جانے والے سامان میں ہر چیز شامل تھی۔
.
.
.
پردے لٹکانے والے پائپ بھی۔;;;;;;

حمیرا عدنان سیدہ شگفتہ مقدس فرحت کیانی ناعمہ عزیز عائشہ عزیز
:LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL:
زبردست زبردست!!!
کیسی ہیں سارہ؟ بہت عرصے بعد آپ کی کوئی پوسٹ پڑھنے کو ملی۔
 
پتا نہیں تھا نہ کہ تم بھی یہاں پائے جاؤگے ۔۔ :p
12507158_1036395496404243_624471527785195705_n.jpg


انجن کے پیچھے دبے تو آئیں گے ہی۔۔۔:ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::p
 

سارہ خان

محفلین
بات اصل میں یہ ہے کہ نئی اور پرانی دنیا کو ملا کر جو کرہ ارض بنتا ہے اس میں تین چوتھائی تو بحر الکاہل ، بحر الغافل ، بحر الجاہل وغیرہ کی قسم کے بڑے بڑے سمندر ہیں یعنی پانی ہی پانی۔ اب رہ گئی ایک چوتھائی دنیا جو خدا نظرِ بد سے بچائے خشکی ہے اس چوتھائی دنیا میں لق و دق صحرا ، سر بفلک پہاڑ ، ریگستان جن کو انسان سے کوئی تعلق نہیں بس شترستان کہنا چاہیے اور جھیلیں دریا نالے وغیرہ ہیں۔ باقی جو بچی تھوڑی بہت خشکی اس میں کھیت اور باغ وغیرہ سے بچی ہوئی خشکی کو گاوں ، تحصیل ، پرگنہ ، شہر ، ضلع ، صوبہ ، ملک اور برا عظم وغیرہ میں تقسیم کردیا گیا ہے اور یہ ہے وہ مختصر سی گنجائش جس میں اشرف المخلوقات مع چرندوں پرندوں اور درندوں کے رہتے ہیں۔ اس محدود گنجائش میں آبادی کا یہ حال ہے کہ خدا کی پناہ روز روز بڑھتی جا تی ہے۔ دنیا کی وسعتیں محدود ہیں اور نسل انسانی کی ترقی غیر محدود ، اب جو لوگ بیکاری کا رونا روتے ہیں تو آپ ہی بتائیے کہ دنیا کا قصور ہے یا دنیا میں بسنے والوں کا ، ہاں اگر نظامِ فطرت ہوتا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک آدھ بیگھ زمین بھی پیدا ہوا کرتی تو واقعی بیکاری کے متعلق ہماری تمام شکائیتیں حق بجانب تھیں مگر اب تو ہر نیا پیدا ہونے والا اس چھوٹی سے دنیا میں گنجائش حاصل کرنا چاہتا ہے جو باوا آدم سے لیکر اب تک یعنی از آدم یا ایں دم ایک انچ بھی نہیں بڑھی ، آپ کہیں گے واہ بڑھی کیوں نہیں ، یہ جو کولمبس نے امریکہ کا پتہ لگا کر اس دنیا میں ایک اور اضافہ کیا وہ کدھر گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ پہلے ہی موجود تھا جب تک انسان کی جستجو میں کامیاب ہونے کی صلاحیت پیدا نہ ہوئی وہ پوشیدہ رہا اور اور جب اس کو ڈھونڈا گیا تو وہ مل گیا۔ لیکن اب یہ امید رکھنا کہ کوءی اور امریکہ مل جائے گا غلط ہے اس لئے کہ اب انسان کو بیکاری کے غم نے یا تو اس قدر پست ہمت کر دیا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالنے میں بھی کاہلی سے کام لیتا ہے یا سرمایہ داری نے ایسا دماغ خراب کر دیا ہے کہ مریخ پر حکومت کرنے کی فکر ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی یہ ہوا میں قلعہ بنانے کی جدوجہد میں کامیاب ہو جائے لیکن ابھی تو ہم دنیا سے جا کر مریخ میں آباد ہونے کے لئے تیار نہیں۔

لاحول و لا قوۃ کہاں سے کہاں پہنچے۔ ہاں تو ہم یہ کہہ رہے تھے کہ انسان کی کثرت نے دنیا میں بیکاری کی وبا پھیلا دی ہے ، بات یہ ہے کہ بڈھے تو مرنے کا نام نہیں لیتے اور بچہ پیدا ہونا بند نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آبادی بڑھتی جاتی ہے۔ اب یہ دیکھئے کہ جہاں پانچ بچے تعلیم حاصل کرتے تھے وہاں اب پانچ ہزار تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ تھا کہ یہ پانچ بچے پڑھنے کے بعد مختلف جگہوں پر ملازم ہو جاتے تھے ، ملازمت کرتے تھے ، پنشن لیتے تھے اور مر جاتے تھے۔لیکن ان کے امیدوار بجائے پانچ کے پانچ ہزار ہیں ، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پانچ تو بدستور برسرِکار ہو جائیں گے ، اب رہے چار ہزار نو سو پچانوے وہ یقینی طور پر بیکار رہیں گے۔ غلطی دراصل حساب کی ہے کہ اب آمد و خرچ برابر نہیں رہا۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ ادھر پانچ بچے پیدا ہوئے تو ادھر پانچ بڈھے مر گئے ، ادھر پانچ ملازم ہوئے تو ادھر پانچ ملازموں نے پنشن لے لی ، لیکن اب بڈھوں نے مرنا ترک کر دیا ہے اور بچے برابر پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس صورت میں کوئی بڑے سے بڑا ریاضی دان ہم کو بتائے کہ حساب فہمی کا آخر کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
تحریر :شوکت تھانوی

( یہ اقتباس محفل کے اس سیکشن سے لیا گیا ہے جہاں تبصرے کا اختیار مجھے نہیں تھا ۔ اس لیے یہاں کاپی کیا)

کیا ہی زبردست لکھا ہے لکھنے والے نے ۔۔۔
 
اب بڈھوں نے مرنا ترک کر دیا ہے اور بچے برابر پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس صورت میں کوئی بڑے سے بڑا ریاضی دان ہم کو بتائے کہ حساب فہمی کا آخر کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
۔۔۔

بہت عمدہ کیا کھنے ۔۔۔
اپیا بڈھے تو مر رہے ہیں بہت جلد مر رہے ہیں آجکل البتہ بڈھیاں بلکل کم ۔۔۔:ROFLMAO:
ہمارے خانداں کا یہی حال ہے :p:p:LOL::LOL:
 

سارہ خان

محفلین
دوراندیش۔
ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ سرزنش ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮔﮭﺎﻣﮍ ﮨﻮ ۔ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﻣﯿﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻧﻮﮐﺮ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﻭﺭﺍﻧﺪﯾﺶ ﮐﮧ ﻣﯿﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﺎ
ﺑﻠﺐ ﻣﻨﮕﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺗﻞ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﺗﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﻣﻮﻡ ﺑﺘﯿﺎﮞ
ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﻠﺐ ﻓﯿﻮﺯ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻻﻟﭩﯿﻦ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﭼﻞ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﭼﻤﻨﯽ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﻡ ﺑﺘﯽ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﺗﻢ ﮐﻮ
ﭨﯿﮑﺴﯽ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺗﻢ ﺁﺩﮬﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﭩﮑﺎﺗﮯ ﺁﮔﺌﮯ ۔ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﯽ
ﭨﯿﮑﺴﯽ ﺗﻮ ﻣﻠﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﭨﺮ ﺭﮐﺸﺎ ﮐﮩﺌﮯ ﺗﻮ ﻟﯿﺘﺎ ﺁﺅﮞ ۔ ﻣﯿﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻧﻮﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ
ﺗﻮ ﻣﻮﭨﺮ ﺭﮐﺸﺎ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺩ ﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺕ ﻧﮧ ﭘﮍﺗﯽ ۔
ﻧﻮﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﻗﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﻠﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯽ ۔ ﭼﻨﺪ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺍﺗﻔﺎﻕ
ﺳﮯ ﺁﻗﺎ ﭘﺮ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﻤﻠﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺑﮭﯿﺠﺎ ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ۔ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ
ﺗﯿﻦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﺑﻐﻞ
ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﺎ ﺗﮭﺎﻥ ﺗﮭﺎ ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ
ﭘﺮ ﭘﮭﺎﺅﮌﺍ ۔
ﺁﻗﺎ ﻧﮯ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺎﮞ "
ﻧﻮﮐﺮ ﻧﮯ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﮐﮧ :
" ﺟﻨﺎﺏ ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮩﺖ ﺣﺎﺫﻕ ﮨﯿﮟ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ
ﺩﺧﻞ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻭﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ
ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﻔﻦ ﮐﺎ ﮐﭙﮍﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺻﺎﺣﺐ
ﻏﺴﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮔﻮﺭﮐﻦ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﺎﮔﻨﺎ ﻧﮧ
ﭘﮍﮮ ۔
ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎﺀ
 
Top