یہ ہے منکرینِ حدیث کی شناختی علامات !!

مغل صاحب، سلام، پتہ نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ میں سمجھا نہیں۔ اس روایت کو پھر سے پڑھئیے۔ اس قسم کی سیاسی روایات کو رسول اللہ سے منسوب کرنے کا کیا مقصد ہے کہ خلافت ختم ہونے سے پہلے بارہ خلیفہ قریش سے ہونگے،

تاریخ‌گواہ ہے کہ خلافتت ختم ہونے سے پہلے قریش سے بارہ خلیفہ نہیں ہوئے۔ ایسی سیاسی روایات کب ان کتب میں شامل ہوئیں، کوئی ریکارڈ نہیں۔ جن حضرات سے یہ کتب منسوب ہیں وہ رسول اکرم کی وفات کے 250 سال بعد گذرے اور ان لوگوں سے منسوب شدہ کتب کا کوئی اصلی نسخہ آج تک منظر عام پر نہیں آیا۔ اس قسم کی سیاسی روایتوں کا واحد مقصد کسی طور فرد واحد کی حکومت کو قائم کرنا یا پھر کسی خاص گروہ کو سیاسی برتری بذریعہ ایمان فراہم کرنا بہت واضح ہے

اسلام کے وسیع تر مقصد یعنی دنیا بھر میں اسلام یعنی امن و آشتی و سلامتی کے نفاذ سے اس قسم کی روایات سے کیا سپورٹ ملتی ہے ذرا غور فرمائیے؟
 

jaamsadams

محفلین
انکل آپ نے پیدا ہونے میں تاخیر کردی۔ اس دور میں تو ڈالڈا کو دیسی گھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور دیسی گھی کو ڈالڈا بنا دیتے ہیں۔

بقول شاعر،

جنوں کا نام کرد رکھ دیا اور کرد کا جنوں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اور آب حیات کی بوتل میں شراب بھری ہوتی ہے

اور تو اور تو منکران حدیث نے اہلحدیث کا لیبل لگا لیا ہے، بس اب تو ٹھیکیدار بن گئے

جو حدیث مطلب کی ہو وہ صحیح ہوجاتی ہے اور جو انکے لئے رکاوٹ بنے وہ غلط

چاہیں تو ضعیف کو موضوع بنا دیں اور موضوع کو ضعیف

چاہیں تو بخاری کی کھانٹ چھانٹ کرکے اپنی منظور شدہ نئی کتاب بنا لیں

چاہیں تو للو پنجو، عظیم ائمہ و محدثین کی غلطیوں کو ٹھیک کرتے پھریں

چاہیں تو قرآن کی من گھڑت اور من پسند مفہوم اور تفاسیر کردیں

امام حسین جو کہ جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں انھیں قصوروار اور یزید کو امیرالمومنین بنا دیں

سمجھ گئے نا آپ سب - کوئیک نے ڈاکٹر کا بورڈ لگا رکھا ہے

اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ رحمۃ کا ایک نعتیہ قطعہ یاد آگیا

سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والے جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے
 

طالوت

محفلین
میرے خٰیال میں نام نہاد حدیثوں‌کے متوالے پہلے آپس میں طے کر لیں کہ ان کی طرف سے حدیث (دراصل سنی سنائی روایتیں) کی کون کون سی کتابیں حرف آخر ہیں پھر اس پر مزید کام ہو سکتا ہے اگرچہ یہ بارہا ہو چکا ہے ۔۔ وگرنہ اس طرح کی بےہودگیوں کا کیا جواب ہو سکتا ہے بھلا ؟
وسلام
 

مغزل

محفلین
فاروق سرور صاحب دوبارہ ایک عرصہ سے نہیں آئے آخری بار ایک محفل میں تقریر فرماتے نظر آئے تھے جس میں حمایت علی شاعر موجود تھے۔
 
السلام علیکم،

تھوڑی سی وضاحت اور پھر ایک واحد سوال۔

روایات اور احادیث میں ایک نمایاں فرق ہے۔ سنیوں‌کے پاس کم از کم چھ عدد کتب روایات ہیں جن کو سنی بہت ہی متفق علیہ سمجھتے ہیں اور شیعہ حضرات کے پاس 3 عدد کتب روایات ہیں جن کو یہ حضرات بہیت ہی آ تھینٹک سمجھتے ہیں۔

ان کتب میں پائی جانے والی تمام روایات کو آپ بآسانی دو قسم کی روایات میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

1۔ ایک وہ روایات جو قرآن حکیم کے عین مطابق اور عین موافق ہیں، یعنی کوئی بھی جزو اللہ تعالی کے فرمان کی حکمت یا رحمت سے زیادہ نہیں۔ ان موافق و مطابق قرآن روایات کو سب ہی سنت رسول یا حدیث رسول قرآر دیتے ہیں۔ ان روایات میں صحیح سے لے کر ضعیف تک احادیث شامل ہیں۔ لیکن کوئی بھی خلاف قرآن نہیں۔

2۔ دوسری وہ روایات جو قرآن حکیم کی آیات کے مخالف ہیں۔ اسکی مثالیں جابجا سامنے آتی رہتی ہیں۔ ساری بحث و مباحثہ انہی روایات پر ہوتا ہے۔

کتب روایات میں محدثین نے ---- بڑی کوشش ---- کی جو کچھ ملے جمع کردیا جائے ، اس کی وجہ عقیدت رسول صلعم ہے۔

کچھ لوگ ایسے ہیں‌جن کا یقین ہے کہ اگر ایک روایت ان کی پسندیدہ کتاب میں موجود ہے تو یقیناً یہ درست ہے۔ ایسے لوگوں سے جو خلاف قرآن روایات کو صرف اس لئے مانتے ہیں کہ وہ ایک مخصوص کتاب میں موجود ہے۔ ایک بہت ہی سادہ سوال ۔

سوال: کیا ان کتب روایات پر ایسے ہی ایمان رکھنے کی ضرورت ہے جیسا کہ قرآن حکیم پر ایمان ہے؟
اگر جواب ہاں‌ میں ہے تو پھر یہ بھی بتائیے کہ اس کا حکم کس نے دیا تھا۔ اللہ تعالی نے یا رسول اللہ نے؟


والسلام۔
 

x boy

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اوہ ہو،، میں لیٹ ہوگیا ورنہ اس لڑی کی حالت کچھ اور ہوتی۔:)
 

آصف

محفلین
کیا ہم سب اس مختصر سی زندگی کو اسی طرح اسلام میں اختلافی مسائل پر لڑتے مرتے گزار دیں گے یا اسلامی تعلیمات پر عمل بھی کریں گے؟

جب یہ فیصلہ کرنا ہی ممکن نہیں ہو پا رہا کہ اسلامی تعلیمات کون سی ہیں تو پھر کون سی اسلامی تعلیمات پر کوئی مسلمان عمل کرے جناب؟؟
ایک شخص کا ایمان ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے وہی اسلامی تعلیمات ہیں۔
کیوں کہ اس نے قرآن میں پڑھا ہے۔
لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَ۔ئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ کافر ہیں۔) المائدہ 44
اور اس نے پڑھا ہے
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَ۔ئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۔ (اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں) المائدہ 45
اور بار بار پڑھا ہے
بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَ۔ئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔ ( اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں) ۔المائدہ 47

اب اسی شخص کا ایمان ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کیلئے صرف قرآن ہی نازل فرمایا ہے اور اسی پر فیصلہ کرنا ہے۔

لیکن دوسرے کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نزول کا سلسلہ جاری رکھا (جو اڑھائی سو سال تک منقطع رہنے کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا ) اور پھر ڈھیروں کے حساب سے کتابیں بعد میں بھی نازل فرمائیں۔
تو دونوں مل جل کر ، بھائی چارے سے کیسے اسلام کی تعلیمات پر عمل کر سکتے ہیں؟؟؟؟؟
 
Top