یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں

فرحان عباس

محفلین
السلام علیکم اساتذہ کرام ایک غزل اصلاح کیلئے پیش ہے.
جناب محمد یعقوب آسی
جناب الف عین
جناب محمد وارث

بحر کامل مسدس سالم: متفاعلن متفاعلن متفاعلن
۱.
ﻧﮧ ﺗﺮﯼ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ہوئی یہاں

ﮨﮯ ہوﺱ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ یہاں

۲.
نہ سنگت کو دیکھے،نہ خونی رشتہ،نہ احساںکو

ہے ازل سے اندھی یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں

۳.
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ گیا ﻭﮦ ﺗﻮ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ

ﺍﻭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ یہاں

۴.
ہے ہمیں جو چاہ، کریں گے دل کی وہ باتیں ہم

بکے جو ہے بکتی یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں
 
بات کرنے کو کہا گیا ہے تو بات کر ہی دوں ۔۔۔

بحر کامل مسدس سالم: متفاعلن متفاعلن متفاعلن
۱.
ﻧﮧ ﺗﺮﯼ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ہوئی یہاں

ﮨﮯ ہوﺱ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ یہاں

۲.
نہ سنگت کو دیکھے،نہ خونی رشتہ،نہ احساںکو

ہے ازل سے اندھی یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں

۳.
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ گیا ﻭﮦ ﺗﻮ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ

ﺍﻭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ یہاں

۴.
ہے ہمیں جو چاہ، کریں گے دل کی وہ باتیں ہم

بکے جو ہے بکتی یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں


ﻧﮧ ﺗﺮﯼ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ہوئی یہاں
ﮨﮯ ہوﺱ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ یہاں
دُنیا کا الف گرانا میرے نزدیک اکثر مقامات پر معیوب ہے۔ منڈی کا ے گرنا مصرعے کو بگاڑ گیا۔

نہ سنگت کو دیکھے،نہ خونی رشتہ،نہ احساں کو
یہ مصرع وزن سے خارج ہے۔ سنگت میں نون کا اعلان ہوتا ہے، اور احساں میں بھی الف کو بے دردی سے گرادیا گیا
ہے ازل سے اندھی یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں

ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ گیا ﻭﮦ ﺗﻮ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ
ﺍﻭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ یہاں
یہاں "خدا کی بندی" سے کون مراد ہے، جس سے خطاب کیا جا رہا ہے؛ شعر کچھ نہیں بتاتا۔

ہے ہمیں جو چاہ، کریں گے دل کی وہ باتیں ہم
چاہ اور چیز ہے، کسی کام کو کرنے کا ارادہ (چاہنا) اور چیز ہے۔ ہم جو چاہیں کریں! باتیں کی ی گر گئی، بات رہ گئی۔ دل کی بات ۔۔ وہ بات ۔۔ یہاں وہ زائد ہے۔
بکے جو ہے بکتی یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں
یہ مصرع تو خیر شعر کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا لہجہ قطعی طور پر غیر ادیبانہ ہے۔
 
آخری تدوین:
ایک مثال دیکھ لیجئے:
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکیں اگر تو آئے
۔۔۔۔ ضیاء جالندھری (؟)
یہاں "باتوں" کی واو گر رہی ہے، اور نون غنہ تو ہوتا ہی غنہ ہے۔ اس کا جواز اسی مصرعے میں موجود ہیں۔ "باتیں کریں" یعنی جمع کے تسلسل میں جمع آئے گا، تو کوئی اشکال پیدا نہیں ہو گا۔ چاہے واو گر بھی جائے۔

آپ کے شعر میں "دل کی بات" اور "دل کی باتیں" دونوں ممکن معانی ہیں تاہم "دل کی بات" والا مفہوم راجح ہے۔ یہاں ے کو لکھ کر (جمع لکھ کر) گرانا ہی ٹھہرا تو پھر لکھنا ہی کیا جب کہ نہ یہاں ردیف کی مجبوری ہے نہ قافیے کی۔

برائے توجہ ۔۔ جناب الف عین
 

فرحان عباس

محفلین
ایک مثال دیکھ لیجئے:
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکیں اگر تو آئے
۔۔۔۔ ضیاء جالندھری (؟)
یہاں "باتوں" کی واو گر رہی ہے، اور نون غنہ تو ہوتا ہی غنہ ہے۔ اس کا جواز اسی مصرعے میں موجود ہیں۔ "باتیں کریں" یعنی جمع کے تسلسل میں جمع آئے گا، تو کوئی اشکال پیدا نہیں ہو گا۔ چاہے واو گر بھی جائے۔

آپ کے شعر میں "دل کی بات" اور "دل کی باتیں" دونوں ممکن معانی ہیں تاہم "دل کی بات" والا مفہوم راجح ہے۔ یہاں ے کو لکھ کر (جمع لکھ کر) گرانا ہی ٹھہرا تو پھر لکھنا ہی کیا جب کہ نہ یہاں ردیف کی مجبوری ہے نہ قافیے کی۔

برائے توجہ ۔۔ جناب الف عین
‎سر یہ نقطہ بہت اچھا ہے. "دل کی باتیں" کو دل کی بات" کرنا زیادہ اچھا ہوگا
 

فرحان عباس

محفلین
ایک مثال دیکھ لیجئے:
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکیں اگر تو آئے
۔۔۔۔ ضیاء جالندھری (؟)
یہاں "باتوں" کی واو گر رہی ہے، اور نون غنہ تو ہوتا ہی غنہ ہے۔ اس کا جواز اسی مصرعے میں موجود ہیں۔ "باتیں کریں" یعنی جمع کے تسلسل میں جمع آئے گا، تو کوئی اشکال پیدا نہیں ہو گا۔ چاہے واو گر بھی جائے۔

آپ کے شعر میں "دل کی بات" اور "دل کی باتیں" دونوں ممکن معانی ہیں تاہم "دل کی بات" والا مفہوم راجح ہے۔ یہاں ے کو لکھ کر (جمع لکھ کر) گرانا ہی ٹھہرا تو پھر لکھنا ہی کیا جب کہ نہ یہاں ردیف کی مجبوری ہے نہ قافیے کی۔

برائے توجہ ۔۔ جناب الف عین
سر یہ نقطہ بہت اچھا ہے. "دل کی باتیں" کو دل کی بات" کرنا زیادہ اچھا ہوگا
 

فرحان عباس

محفلین
کیوں؟ آپ کو پسند آئی کیا؟
ویسے یہ میں نے اتنی ہی لکھی ہے.
سوچا تھا اگر اساتذہ نے پاس کردیا تو پھر مزید بھی لکھوں گا.
مگر
 

فرحان عباس

محفلین
محمد یعقوب آسی سر ویسے آپ کو تنگ کر رہا ہوں لیکن معذرت ہے :) .
اصل میں میں چاہتا ہوں کہ بنیاد درست ہوجائے تاکہ آگے کوئی غلطی نہ ہو.
اب شاید کچھ بات بن جائے
۱.
ﻧﮧ ﺗﺮﯼ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
ﮨﮯ ﮨﻮﺱ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
۲.
ﻧﮧ یہ یار ﺩﯾﮑﮭﮯ،ﻧﮧ ﺧﻮﻧﯽ
ﺭﺷﺘﮧ،ﻧﮧ ﺍﺣﺴﺎﮞ کو
ﮨﮯ ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
۳.
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮨﻮﺍ جان من، گیا کام سے
ﺍﻭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
۴.
ﮨﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻮ ﭼﺎﮦ، ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺑﺎت ﮨﻢ
کہے جو ہے کہتی ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
 
محمد یعقوب آسی سر ویسے آپ کو تنگ کر رہا ہوں لیکن معذرت ہے :) .
اصل میں میں چاہتا ہوں کہ بنیاد درست ہوجائے تاکہ آگے کوئی غلطی نہ ہو.
اب شاید کچھ بات بن جائے
۱.
ﻧﮧ ﺗﺮﯼ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
ﮨﮯ ﮨﻮﺱ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
۲.
ﻧﮧ یہ یار ﺩﯾﮑﮭﮯ،ﻧﮧ ﺧﻮﻧﯽ
ﺭﺷﺘﮧ،ﻧﮧ ﺍﺣﺴﺎﮞ کو
ﮨﮯ ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
۳.
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮨﻮﺍ جان من، گیا کام سے
ﺍﻭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ
۴.
ﮨﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻮ ﭼﺎﮦ، ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺑﺎت ﮨﻢ
کہے جو ہے کہتی ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ "دنیا" کی نشست وہی کی وہی ہے صاحب!
خیر، آپ جیسے بہتر اور مناسب سمجھئے۔ کہنے کی باتیں تھیں کہہ دیں، میرا تنگ ہونے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔ جو مزاجِ شاعر میں آئے!

برائے توجہ جناب محمد خلیل الرحمٰن ، جناب الف عین ، جناب محمد وارث ۔۔
 

الف عین

لائبریرین
ردیف ہی مجھے پسند نہیں آئی۔ دنیا کا الف گرنے کے علاوہ اکثر ’کس کی ہوئی یہاں‘ کا فقرہ شعر میں موجود باقی الفاظ سے غیر متعلق ہے۔
روانی کی بھی کمی ہے، خاص کر اس لئے بھی کہ قافیہ میں ہی ’ی‘ کا اسقاط ہو رہا ہے۔
مشق کے لئے اسے رکھ لیں
 
Top