یہ ترقی ہوئی اور اس کی یہ روداد ہوئی ٭ راحیلؔ فاروق

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 20, 2020

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,434
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یہ ترقی ہوئی اور اس کی یہ روداد ہوئی
    آدمی قید ہوا زندگی آزاد ہوئی

    شہر بے روح ہوئے روحِ چمن شاد ہوئی
    فطرت اجڑی ہوئی دنیا میں پھر آباد ہوئی

    اپنی اوقات نہ انسان کو جب یاد ہوئی
    چار و ناچار وبا آئی اور استاد ہوئی

    اس قدر ناک میں فطرت کے نہ کرنا تھا دم
    کہ وہ جو صید تھی انسان کی صیاد ہوئی

    کوئی دن حسنِ تمدن کو جو ڈالی ہے لگام
    ایک دنیا ہے کہ گویا نئی ایجاد ہوئی

    للہ الحمد کہ ناسور کا منہ بند ہوا
    ختم تہذیب کے امراض کی میعاد ہوئی

    نسلِ آدم کسی تقسیم پہ قانع ہی نہ تھی
    ایسی ٹوٹی ہے کہ اب ٹوٹ کے افراد ہوئی

    بوڑھی دنیا میں کوئی فتنہ کہاں تھا راحیلؔ
    صحبتِ صالحِ آدم سے یہ اولاد ہوئی

    راحیلؔ فاروق​
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,258
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت خوب!
    واہ واہ!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر