یہ اس کا شہر ھے ،تو شہر ہی چھوڑا جائے

بہت خوب۔
قافیہ ذرا سمجھ نہیں آیا۔
اساتذہ سے رہنمائی چاہوں گا کہ، سویا، چھوڑا، توڑا، جوڑا وغیرہ اس طرح قافیہ بن سکتے ہیں؟
 
آخری تدوین:
اب اس مبتدی کو اختلاف وصل کا بھی بتا دیجئے۔
چھوڑا اور موڑا میں ڑ اور الف مشترک ہیں۔ انھیں حروف وصل اور خروج قرار دیا جائے گا۔ اصل قوافی چھو اور مو ہیں۔
اسی طرح رویا اور کھویا میں وصل ی اور الف خروج ہے۔ اصل قوافی رو اورکھو ہیں۔
 

احمد وصال

محفلین
چھوڑا اور موڑا میں ڑ اور الف مشترک ہیں۔ انھیں حروف وصل اور خروج قرار دیا جائے گا۔ اصل قوافی چھو اور مو ہیں۔
اسی طرح رویا اور کھویا میں وصل ی اور الف خروج ہے۔ اصل قوافی رو اورکھو ہیں۔
دونوں حضرات کی راھنمائی اور باریک نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانے پر مشکور ھوں
 

احمد وصال

محفلین
ک
چھوڑا اور موڑا میں ڑ اور الف مشترک ہیں۔ انھیں حروف وصل اور خروج قرار دیا جائے گا۔ اصل قوافی چھو اور مو ہیں۔
اسی طرح رویا اور کھویا میں وصل ی اور الف خروج ہے۔ اصل قوافی رو اورکھو ہیں۔
یعنی اگر سارے قوافی یا تو سویا، رویا، کھویا ھونے چاھیے یا موڑا، توڑا، چھوڑا ھونے چاھییے
 

الف عین

لائبریرین
قوافی کے علاوہ اس غزل میں دو بحور کو خلط ملط کر دیا گیا ہے۔
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
اور
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
 

ابن رضا

لائبریرین
چھوڑا اور موڑا میں ڑ اور الف مشترک ہیں۔ انھیں حروف وصل اور خروج قرار دیا جائے گا۔ اصل قوافی چھو اور مو ہیں۔
اسی طرح رویا اور کھویا میں وصل ی اور الف خروج ہے۔ اصل قوافی رو اورکھو ہیں۔
رو اور کھو والی آپکی بات تو درست ہے مگر چھوڑا اور موڑا میں اصل لفظ چھو اور مو نہیں بلکہ چھوڑ اور موڑ ہے جس کی مشتق حالت چھوڑا اور موڑا ہے جس میں توجہیہ مضموم ہے و ردف ہے ڑ روی ہے اور الف وصل ہے. جبکہ خروج ندارد.
 
رو اور کھو والی آپکی بات تو درست ہے مگر چھوڑا اور موڑا میں اصل لفظ چھو اور مو نہیں بلکہ چھوڑ اور موڑ ہے جس کی مشتق حالت چھوڑا اور موڑا ہے جس میں توجہیہ مضموم ہے و ردف ہے ڑ روی ہے اور الف وصل ہے. جبکہ خروج ندارد.
تصحیح کے لیے شکریہ.
 
Top