یہی اہلِ دہر کی ہے روش یہی میکدہ کا اصول ہے

شوکت پرویز نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 29, 2017

  1. شوکت پرویز

    شوکت پرویز محفلین

    مراسلے:
    795
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Breezy
    جو مصر ہو اپنے گناہ پر وہی معتبر ہے قبول ہے
    یہی اہلِ دہر کی ہے روش یہی میکدہ کا اصول ہے

    ابھی بات عارض و لب کی ہے کسی مہ جبیں کے غضب کی ہے
    یہی بات آج کی اب کی ہے ابھی ذکرِ دین فضول ہے

    وہ جو گال نرم و گداز ہیں جو نہاں نشیب و فراز ہیں
    وہ جو دوسرے کئی راز ہیں وہی شاعری کا حصول ہے

    جو برہنگی میں شمار ہے اب اسی پہ قول و قرار ہے
    نئے دور کی یہ بہار ہے جو یہاں کا خار بھی پھول ہے

    وہ جو نقد کر سکے دین پر وہ جو لائے عرش زمین پر
    کرے شک کتاب مبین پر وہ نئے ادب کا رسول ہے

    مری شاعری بھی عجیب ہے یہ نئی روش کی رقیب ہے
    یہ جو شوکت آج نقیب ہے یہ نئے چمن کا ببول ہے

    شوکت پرویز
    ۲۹ اکتوبر، ۲۰۱۷
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 29, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,746
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت خوب شوکت صاحب!
     

اس صفحے کی تشہیر