یوم وفات ۔۔۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب

فاخر

محفلین
مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ محفلین اس قد رتزک و احتشام کے ساتھ غالبؔ مرحوم کو آج کریں گے، بصورت دیگر پوری پرانی دلّی کے متعدد مقامات کی ’’خاک‘‘ اڑاتی تصویر شیئر کرتا ۔ تقسیم کا کرب پرانی دلیّ کی تصویر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ :beat-up: ذرا غور کیجئے اگر مرزا غالبؔ کا مزار پاکستان کے کسی خطہ یا لاہور میں ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟۔ لیکن بیچارے دلی کے تھے دلی کے ہی ہو کر رہ گئے تھے۔
آج دہلی کے ایوانِ غالبؔ یا غالبؔ اکیڈمی میں چچا غالبؔ کو یاد کیا جائے گا، ان کی غزلیں گائی جائیں گی ؛لیکن ایسا یاد کرنا بھی کیا یاد کرنا کہ چچا کی زبان کو ہی سرے سے مٹانے کی حکومتی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک بار کسی متشدد ہندو نے عدالت میں یہ عرضی دائر کی کہ مرزا غالبؔ کی شاعری پر پابندی لگائی جائے ؛کیوں کہ اس کی شاعر ی میں بتوں کی توہین ، کافر ، رند اور اس کے ہم مثل الفاظ ہیں فیاحسرتا! o_O
 
:beat-up: ذرا غور کیجئے اگر مرزا غالبؔ کا مزار پاکستان کے کسی خطہ یا لاہور میں ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟۔
میاں وہی کچھ ہوتا جو ہمارے قائد اعظم کے مزار کے ساتھ ہوتا ہے.
غالب کی برسی پر لوگ ان کے مزار کی دیواروں پر چڑھ رہے ہوتے :)
 

مومن فرحین

لائبریرین
مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ محفلین اس قد رتزک و احتشام کے ساتھ غالبؔ مرحوم کو آج کریں گے، بصورت دیگر پوری پرانی دلّی کے متعدد مقامات کی ’’خاک‘‘ اڑاتی تصویر شیئر کرتا ۔ تقسیم کا کرب پرانی دلیّ کی تصویر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ :beat-up: ذرا غور کیجئے اگر مرزا غالبؔ کا مزار پاکستان کے کسی خطہ یا لاہور میں ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟۔ لیکن بیچارے دلی کے تھے دلی کے ہی ہو کر رہ گئے تھے۔
آج دہلی کے ایوانِ غالبؔ یا غالبؔ اکیڈمی میں چچا غالبؔ کو یاد کیا جائے گا، ان کی غزلیں گائی جائیں گی ؛لیکن ایسا یاد کرنا بھی کیا یاد کرنا کہ چچا کی زبان کو ہی سرے سے مٹانے کی حکومتی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک بار کسی متشدد ہندو نے عدالت میں یہ عرضی دائر کی کہ مرزا غالبؔ کی شاعری پر پابندی لگائی جائے ؛کیوں کہ اس کی شاعر ی میں بتوں کی توہین ، کافر ، رند اور اس کے ہم مثل الفاظ ہیں فیاحسرتا! o_O

فاخر بھائی ۔۔۔ اردو محفل کا تو شاید کوئی دن ایسا ہو جب مرزا محترم کو یاد نہ کیا جاتا ہو ان کے شعروں کی صورت ۔ :)
 
Top