ہیری پوٹر اِن ٹربل: ایک کھیل( فارس)

محمد خلیل الرحمٰن نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 25, 2011

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    ہیری پوٹر ان ٹربل
    تحریر؛ محمد خلیل الرحمٰن

    نوٹ برائے ناظرین:۔ پی، سی او اور ایمرجینسی قصہٗ پارینہ ہوئے،لیکن اپنے پیچھے بہت سی ناخوشگوار یادیں چھوڑ گئے جو اس ڈرامے کا پس منظر بنیں ، لیکن اس ڈرامے کی اصل کہانی کچھ یوں ہے۔


    ہیری پوٹر اور لارڈ آف دی رنگ کی کی مقبولیت کی داستان جب قاضی صاحب تک پہنچی تو انھوں نے حسبِ عادت سو مو ٹو ایکشن لے لیا۔ ان کی ملاقات طلسمِ ہوش ربا کے کرداروں شہزادہ نور الدھر اور مخمور جادوگرنی سے ہوئی تو انھیں اپنے ایکشن کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا۔

    قاضی صاحب پی سی او کا شکار ہوکر کہانی سے جدا ہوئے تو فسانہ آزاد کے کردار میاں آزاد پاشا نے اس قصے کو عوام کی عدالت یعنی کھلی کچہری میں لے آنا چاہا۔ پھر کیا ہوا یہ ییش کیے جانے والے اس ڈرامے میں ملاحظہ فرمائیے ۔

    پہلا منظر۔

    ﴿ پردہ اٹھتا ہے۔اسٹیج پر کئی افراد مختلف قسم کے بہروپ دھارے ساکت و جامد کھڑے ہیں۔تقریباً درمیان میں، دایئں جانب منہ کیے ہوئے ایک لمبے کالے چغے میں ملبوس کالی پھندنے دار ٹوپی پہنے ہیری پوٹر کھڑا ہے۔اپنے دایئں ہاتھ میں اس نے اڑنے والی جھاڑو پکڑی ہوئی ہے۔ گویا ابھی اڑان شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔دایں ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہے جسے وہ ڈارک لارڈ والڈیمورٹ کی طرف اٹھائے ہوئے ہے۔لارڈ والڈیمورٹ کالے لبادے میں ملبوس ہیری کی طرف دونوں ہاتھ اٹھائے ایک بھوت کی مانند کھڑا ہے۔ پچھلی جانب گینڈالف سفید پوش اپنے ہاتھ میں ایک عصا لئے کھڑا ہے۔ گیندالف سفید پوش کے سامنے حاضرین کی طرف منہ کیے ہوے فروڈوبیگنز کھڑا ہے۔ اسٹیج پر پچھلی جانب دو عدد بورڈ نمایاں ہیں دائیں بورڈ پر کوچہ ثقافت اور بائیں بورڈ پر قاضی القضاۃ تحریر ہے﴾۔

    دایئں طرف سے کورس داخل ہوتا ہے اور اسٹیج پر سامنے آجاتا ہے۔ اسپاٹ لائٹ اس پر مرکوز ہوجاتی ہے﴾۔

    کورس:۔ کوچہَ ثقافت میں ، جہاں ہم نے اپنا یہ منظر ترتیب دیا ہے، بہت دنوں سے دو اسکولوں یعنی ہوگورٹس اسکول آف وچ کرافٹ اینڈ و زرڈری اور گینڈالف سفید پوش کی تحریک انگوٹھی، نے اہالیانِ کوچہَ ثقافت پر اپنے ظلم کی وجہ سے ان پر جینا حرام کر رکھا ہے۔ جہاں عوام کا جیتا جاگتا سرخ خون انکے ہاتھوں کو گندہ کیے رکھتا ہے۔

    با ادب با ملاحظہ . ہوشیار۔ نگاہ روبرو۔ جناب قاضی صاحب تشریف لاتے ہیں۔
    نقیب:۔ ﴿ نعرہ مارتے ہوئے﴾ آیا آیا قاضی آیا۔دم دما دم قاضی آیا۔
    قاضی صاحب :۔
    میرا مطلب ہے، باغی رعایا، امن کے دشمنو! سنو۔
    کیا تم اب بھی نہیں سدھرو گے؟ ایک دوسرے کی رگوں سے بہتا ہوا خون کیا تمہیں سکون بخشتا ہے۔ اپنی یہ جادو کی چھڑیاں اور یہ ڈنڈے زمین پر پھینک دو اور اپنی قاضی کی عدالت کا فیصلہ سن لو۔
    یو کیپو لیٹ شیل گو الانگ ود می
    اینڈ مانتیگیو! کم یو دس آفٹر نون
    میرا مطلب ہے۔ ہیری پوٹر اور لارڈ والڈیمورٹ تم دونوں ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ چلوگے۔ اور گینڈالف سفید پوش، تم اور یہ فراڈ ۔۔۔، میرا مطلب ہے، فروڈو بیگنز آج شام کو عدالت میں حاضر ہوں۔
    تمہارے درمیان تین خطرناک جنگوں نے، تین مرتبہ مڈل ارتھ میں اس کوچہ ادب و ثقافت کا سکون برباد کیا ہے۔ آج میں بحیثیتِ قاضی اس صورتِ حال کا سو موٹو نوٹس لیتے ہوئے۔۔۔۔۔
    نقیب:۔ سر. پی سی او۔ سر پی سی او
    قاضی صاحب:۔ اے بی بی جی۔ ٹی پی او جی۔ پی کے آئی جی ۔ یہ کیا بکواس لگا رکھی ہے۔ اے بی سی ڈی۔ پی سی او۔ سیدھی طرح اردو میں بکو کیا بکنا ہے۔
    نقیب:۔ سر ایمرجینسی، سر ایمر جینسی۔
    قاضی:۔ او ہو تو یوں کہو نا۔ ایمر جین۔۔۔۔ ارررھپ۔﴿ دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ بند کرلیتا ہے﴾۔
    نقیب:۔﴿ لہرا کر گاتے ہوئے﴾
    ہم نے پہلے ہی دن تھا کہا نا سجن۔۔۔
    قاضی:۔ لیکن۔لیکن۔لیکن۔لیکن۔لیکن۔
    نقیب:۔ لیکن کیا سر؟
    قاضی:۔ لیکن یہ کہ ان کے خلاف ایکشن تو لینا ہی پڑے گا۔ ان ظالموں نے، شائر، گلوسسٹر شائر، اور گلن شائر کی طرز پر کوچہ ’ ثقافت کا نام بھی تبدیل کر دیا ہے۔
    نقیب:۔ وہ کیسے سر؟
    قاضی:۔ یہ کراچی شائر، لاہور شائر، پنڈی شائر، یہ سب کیا ہے؟
    نقیب:۔ یہ شائر کراچی ہے۔ یہاں پر صبح کو نزلہ اور شام کو کھانسی ہے۔
    قاضی:۔ اوچے برج لاہور شائر دے۔
    نقیب:۔
    تھے تو آبائ وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو۔
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو؟
    قاضی:۔ خاموش بے ادب گستاخ۔ اسی لیئے تو ہم سو موٹو نوٹس لے رہے ہیں۔
    ﴿ اچانک ڈرامائی انداز اختیار کر تے ہوئے، جادوگروں کو مخاطب کرتا ہے﴾۔
    میرا مطلب ہے۔ ایک مرتبہ پھر میں تمہیں کہتا ہوں۔فوراً یہاں سے دال فے عین یعنی دفع ہو جائو۔ ورنہ موت تمہارہ مقدر ہے۔
    ﴿ ایک مرتبہ پھر بگل بجتا ہے﴾۔
    نقیب:۔ با ادب با ملاحظہ ہوشیار۔
    امیر حمزہ کے پوتے شہزادہ نور الدھر اورجادو نگری کی شہزادی مخمور تشریف لاتے ہیں۔
    ﴿ تمام جادوگر اسٹیج کی پچھلی جانب ایک قطار بنا کر با ادب کھڑے ہوجاتے ہیں۔مخمور اور اسکے پیچھے شہزادہ نور الدھر اسٹیج پر داخل ہوتے ہیں﴾۔
    شہزادہ نور الدھر:۔ ﴿ لہراتی ہوئی مخمور کے پیچھے فلمی گیت گاتے ہوئے داخل ہوتا ہے﴾۔
    آ لوٹ کے آجا میرے میت۔ تجھے میرے گیت بلاتے ہیں۔
    میرا سونا پڑا رے سنگیت۔
    میرا سونا پڑا رے سنگیت۔
    تجھے میرے گیت بلاتے ہیں۔
    مخمور:۔ ﴿ مڑ کر نور الدھر کی طرف دیکھتے ہوئے﴾ چلو اب منہ دیکھی محبت نہ جتائو۔میں ایسے بے وفا سے بات نہیں کرتی۔
    شہزادہ نور الدھر:۔ اے مغرور لڑکی۔یہ مجھ غریب پر کیا ظلم ہے کہ خود ہی مجھے اپنا دیوانہ بنایا اور پھر خود ہی بھول گئیں۔
    مخمور:۔ کہو صاحب کیا ہے۔ کیوں میرا پیچھا کر رہے ہو۔ لو اچھا! میں ٹھہر جاتی ہوں، اب بولو کیا کہتے ہو؟
    نور الدھر:۔ میں تو تمہاری جدائی میں دیوانہ ہورہا ہوں۔
    مخمور:۔ مجھ جیسی بد قسمت سے دل لگا نا ، محبت کرنا اچھا نہیں ۔ جادوگر بادشاہ کے جادوئی پھندے سے میرا نکلنا مشکل ہے۔ اس وقت تو دوسرے جادوگروں کے ساتھ بہانہ کرکے ، تمہیں دیکھنے کے لیے یہاں چلی آئی تھی۔
    نور الدھر:۔ کیا تم بھی جادوگرنی ہو؟
    مخمور:۔ ہاں صاحب ہاں۔
    نور الدھر:۔ ﴿ فلمی انداز میں﴾ نہیں۔ نہیں نہیں۔
    مخمور:۔ ارے بدھو! میں ان جادوگرنیوں کی طرح نہیں ہوں جن کی عمریں دو دو سو سال کی ہوتی ہیں۔ اور ان کا حسن ان کے جادو کا کمال ہوتا ہے۔ میں تو ابھی چودہ سال کی ہوں۔ ﴿ گاتی ہے﴾
    آئی ایم فورٹین گویئنگ آن فیفٹین
    یو آر سکسٹین گویئنگ آن سیون ٹین
    نور الدھر:۔﴿ خوش ہوکر﴾ اچھا؟ ﴿ لیکن پھر اداس ہوتے ہوئے﴾ لیکن۔۔۔۔۔
    مخمور:۔ کیوں صاحب اب کیوں ہم سے ناراض ہو؟
    نور الدھر:۔اے خوب صورت لڑکی ۔ میں تجھ سے ناراض نہیں ہوں لیکن یہ سوچ رہا تھا کہ جب میرے دادا یہ سنیں گے کہ تم جادوگرنی ہو تو مجھے تمہارے ساتھ شادی کی اجازت نہیں دیں گے۔
    مخمور:۔ کیا خوب۔ آپ ابھی سے شادی کی فکر بھی کر نے لگے۔ ہوش کے ناخن لو۔ کہاں میں اور کہاں تم۔ کیسی شادی اور کہاں کا نکاح؟
    نور الدھر:۔ دیکھیئے یہ انکار اچھا نہیں ۔
    مخمور:۔ یہ تو میں مذاق کر رہی تھی ، لیکن اصل میں میں دل سے اسلام لانا چاہتی ہوں۔ جادوگر دنیا کی فتح کے بعد جادوگری سے توبہ کرکے اسلام لے آئوں گی۔ اس وقت تک ٹا ٹا۔
    قاضی صاحب:۔ ہیئر ہیئر ۔﴿ تالی بجاتا ہے﴾
    نور الدھر:۔ آداب بجا لاتا ہوں جناب۔﴿ جھک کر آداب کرتا ہے﴾
    مخمور:۔ بندی بھی آداب بجا لاتی ہے۔﴿ جھک کر آدا ب کرتی ہے ﴾
    ْْقاضی صاحب:۔ یہ کیا ہورہا تھا؟
    نقیب:۔ عریانی اور فحاشی سر۔ ان کی تو ایف آئی آر کٹنی چاہیے۔ ان کا تو کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔
    قاضی صاحب:۔ خاموش رہو۔ بے ہودہ۔ یہی تو کوچہ، ثقافت کے اصل رہنے والے ہیں۔لیکن اب ان کی عمریں چودہ پندرہ سال کی نہیں ہیں بلکہ وہی دو دو سو سال کی ہیں۔ کیوں بچو؟ ٹھیک ہے نا؟
    مخمور:۔ ﴿ گاتی ہے﴾
    میں چودہ برس کی
    تو سولہ برس کا
    نہ ۔ نہ۔ نہ ۔نہ
    میں دوسو برس کی
    تو بھی دوسو برس کا
    برق عیار:۔ ﴿عورت کے بھیس میں ، گاتے ہوئے داخل ہوتا ہے﴾۔
    ﴿زنانہ آواز میں﴾ میں دوسو برس کی
    ﴿ مردانہ آواز میں﴾ میں دوسو برس کا
    نقیب:۔ با ادب با ملاحظہ ، ہوشیار۰۰۰۰۰۰
    ﴿ اچانک برق عیار کی طرف غور سے دیکھتا ہے﴾ ابے تو ۰۰۰؟
    ﴿ برق کے پیچھے بھاگتا ہے اور اسی طرح دونوں بھاگتے ہوئے اسٹیج کا ایک چکر لگا کرپھر اپنی جگہ پر کھڑے ہوجاتے ہیں﴾
    ْقاضی صاحب:۔ آرڈر، آرڈر۰۰۰۰، یہ کیا ہورہا ہے؟
    نقیب:۔ سر، یہ وہ ہے۔
    قاضی صاحب:۔ یہ وہ ہے؟ وہ کیا؟
    نقیب:۔ ﴿ تالی بجا کر گاتے ہوئے﴾
    طیب علی پیار کا دشمن ہائے ہائے۔
    میری جان کا دشمن، پیار کا دشمن ہائے ہائے۔
    یہ بننے نہ دے میری سلمیٰ کو میری دلہن۔
    طیب علی پیار کا دشمن ہائے، ہائے۔
    قاضی صاحب:۔ اوہ! تو یہ سلمیٰ ہے؟
    نقیب:۔ نہیں سر ۰۰۰
    قاضی صاحب:۔ طیب علی؟۰۰۰۰
    نقیب:۔ نہیں سر۰۰۰
    قاضی صاحب:۔ بیگم نوازش علی؟
    نقیب:۔ سر یہ تیسری قوم سے ہے۔ نہ ہیوں میں، نہ شیوں میں۔
    قاضی ساحب:۔ اوہ۔ نان سنس۔
    مخمور:۔ جنابِ عالی، یہ امیر حمزہ کی فوج کا برق عیار ہے۔عمرو عیار کا بیٹا۔ اس کا کام بھیس بدل کر جادوگروں کو مارنا ہے۔
    برق عیار:۔ ﴿ نعرہ مارتا ہے﴾ جادو برحق ، کرنے والا کافر۔
    بندی آداب بجا لاتی ہے۔﴿ جھک کر سلام کرتاہے﴾
    قاضی صاحب:۔ تو یہ جادوگروں کے ساتھ ساتھ جادوگرنیون کو بھی مارتا ہے؟
    مخمور:۔ نہیں جناب، وہ تو پہلے ہی اسلامی فوج کے شہزادوں پر مرتی ہیں۔
    قاضی ساحب:۔ جیسے کہ۰۰۰۰
    مخمور:۔ جیسے کہ میں۔ میں اس شہزادے پر مرتی ہوں۔
    ﴿ نور الدھر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ شہزادہ نور الدھر شرما کر منہ چھپا لیتا ہے﴾۔
    قاضی ساحب :۔ ﴿ خوش دلی سے﴾ اچھا جائو مرو۔ لیکن خیال رہے کہ ہم نے تمہاری خاطر، اس تمام جھگڑے کا سوموٹو نوٹس لے لیا ہے۔
    برق عیار:۔ ﴿ نعرہ مار کر﴾ جادو برحق ، کرنے والا کافر۔
    جنابِ عالی۔ کیا ان جادو گروں کے لئے ہم جیسے عیار اور ان کی جادو گرنیوں کے لئے ہمارے شہزادے ہی کافی نہ ہوتے؟
    نقیب:۔ ﴿ اس کی طرف لپکتے ہوے، اس کا گریبان پکڑ لیتا ہے﴾ ابے تیرے لئے تو میں ہی کافی ہوں۔
    برق عیار:۔﴿ چیختاہے﴾۔ بچائو۰۰۰ بچائو۰۰ ارے کوئی ہے۔
    ﴿ برق عیا ر بھاگتا ہے اور نقیب اس کا پیچھا کرتا ہے﴾
    قاضی صاحب:۔ نہیں، ٹھہرو، ٹھہر جائو۔ میرے بچو۔ اس وقت تو مغرب کا جادو سر چھڑھ کر بول رہا ہے۔اس وقت نہ تمہارے شہزادے اور نہ ہی تمہارے عیار کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو یہ ہمارے حاضرین ہی کچھ کر سکتے ہیں۔
    ﴿ حاضرین کی طرف اشارہ کرتاہے﴾۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ سامنے آتے ہوئے اپنی جادوئی چھڑی ہلا کر چیختا ہے﴾۔
    مغرب کا جادو۔ امپیریو۔
    ﴿ اچانک ایک دھماکہ ہوتا ہے، اسٹیج کی روشنیاں جلنا بجھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کچھ دیر بعد جب روشنی ہوتی ہے تو اسٹیج پر موجود لوگ تین ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں۔ اسٹیج کے دائیں جانب، ہیری پوٹر، مخمور اور برق عیار آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ بائیں جانب، گینڈالف سفید پوش اور فروڈو بیگنز، آپس میں باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور اسٹیج کے درمیان میں لارڈ والڈیمورٹ اور قاضی صاحب کے اطراف نقیب اور شہزادہ نور الدھر کھڑے ہیں﴾۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ یور ہائی نیس! کیوں نا ہم دشمنی، تعصب اور مقابلہ کی باتین چھوڑ کر امن وآشتی اور محبت اور بھائی چارگی کی باتیں کریں۔
    قاضی صاحب:۔ بے شک، بے شک۔ ﴿ نقیب اور نور الدھر کی طرف دیکھ کر سر ہلاتا ہے۔ وہ دونوں بھی جواباً سر ہلا کر اپنی رضا مندی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ادھر مخمور اور برق عیار ہاتھ ہلا ہلا کرقاضی صاحب اور شہزادہ نور الدھر کو خبردار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں﴾
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ اگر چہ مغرب نے اپنی طاقت، اپنی ترقی اور اپنے کلچر کی مدد سے ہمارے اوپر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے، لیکن ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی امن ، محبت اور بھائی چارہ سے مغرب کے دل جیت لیں۔
    قاضی صاحب:۔﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔
    نور الدھر:۔ ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔
    نقیب:۔ ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم روشن خیال اعتدال پسندی کو اپنا لیں۔ کہ اسی میں ہماری نجات ہے۔
    قاضی صاحب:۔﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔
    نور الدھر:۔ ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔
    نقیب:۔ ﴿ تینوں مل کر سر ہلاتے ہوئے﴾ بے شک۔ بے شک ۔کیا خوب کہا ہے۔
    قاضی صاحب :۔ کس قدر عمدہ خیالات ہیں۔
    لارڈ والڈیمورٹ؛۔ ہمارہ نعرہ امن، دوستی، محبت۔
    نور الدھر؛َ کتنی اچھی باتیں کرتے ہیں آپ۔
    نقیب:۔ حضرت! آپ کے منہ سے تو پھول جھڑتے ہیں۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ تھینک یو! جی بس کیا عرض کروں ۔ یہ سب آپ کے حسنِ نظر کا کمال ہے۔
    نقیب:۔ یا پھر آپ کی نظر بندی کا کمال ہے۔ آپ نے توحضرت ، جادو کردیا ہے۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ غراتے ہوئے﴾ جی کیا کہا؟
    نقیب:۔ میرا مطلب ہے۰۰۰۰ میرا مطلب ہے ۰۰۰۰﴿ والڈیمورٹ اپنی جادوئی چھڑی اس کی طرف اٹھاتا ہے﴾
    نقیب:۔ ﴿ دونوں ہاتھ اٹھا کر اسکے جادو سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے﴾ نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔
    مخمور:۔﴿والڈیمورٹ کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر﴾ ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔
    ہیری پوٹر:۔ ﴿ والدیمورٹ کی طرف اپنی جادوئی چھڑی اٹھا کر ﴾ ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔ایکس پیلی آرمس۔

    ﴿ ہلکا سا دھماکہ ہوتا ۔ ٹھس۔ گویا جادو بیکار گیا﴾۔
    برق عیار:۔ ﴿ اپنا ہاتھ بڑھائے ہوئے لارڈ والڈیمورٹ کی طرف پہنچتا ہے﴾ اجی جناب۔ کبھی ہم غریبوں کو بھی لفٹ کروادیا کیجیے۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے﴾ ضرور۔ ضرور۔ آپ ملتی ہی کہاں ہیں۔
    برق عیار:۔ ہم تو آپ کے قدموں میں پڑے ہیں ۔ ہم نے تو اپنا دل آپ کے قدموں میں دال دیا ہے۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے﴾ یہاں ۔ یہاں۔
    ﴿ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اسٹیج سے باہر چلے جاتے ہیں۔
    ﴿ ایک زور دار دھماکہ ہوتا ہے۔ روشنیاں جلنے بجھنے لگتی ہیں۔ اسٹیج پر موجود لوگ چونک کر ادھر ادھر بکھر جاتے ہین۔
    ﴿ پردہ ﴾

    دوسرا منظر۔

    ﴿ وہی جگہ ہے مگرذرا سی تبدیلی کے ساتھ۔ بائیں طرف لگا ہوا ، قاضی القضاۃ، کا بورڈ غائب ہے۔ اس وقت اسٹیج پر کوئی موجود نہیں ہے۔ البتہ پردہ اٹھنے کے تھوڑی ہی دیر بعداسٹیج کے پیچھے سے کسی کے چیخنے کی آواز آتی ہے۔، ھائے میں مر گیا، خوجی چیختے ہوئے اور ان کے پیچھے ان کی موٹی سی بیوی داخل ہوتے ہیں۔خوجی پست قد آدمی ہیں، کرتا پائجامہ، اور ترکی ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔ بیوی کی ایک جوتی اسکے ہاتھ میں ہے جسے وہ بلا تکلف ان کی پیٹھ پر استعمال کر رہی ہے۔﴾
    بیوی:۔ لے ۔اور لے۔﴿ مارتے ہوئے﴾ لے ۔ اور لے۔
    خوجی:۔ ھائے بیگم اب نہیں مارو۔ بخدا اب نہیں مارو۔
    بیوی:۔ پھر دیکھے گا پرائی لڑکیوں کو۔﴿ نقل اتارتے ہوئے﴾ اف بیگم کتنی خوبصورت لڑکی ہے۔﴿ پھر دو جوتیاں لگاتی ہے﴾
    خوجی:۔ ھائے بیگم خدا کی قسم۔ تمہاری قسم بیگم۔ اب نہیں دیکھوں گا۔ چاہے کتنی ہی خوبصورت لڑکیاں کیوں نہ گزریں سامنے سے۔
    بیوی:۔ اچھا تو اب توبہ کر میرے سامنے۔
    خوجی:۔ میری توبہ۔ میرے باپ کی توبہ۔ لیکن پیاری بیگم میری ایک بات ما نو گی؟
    بیوی:۔ بکو جلدی سے۔
    خوجی:۔ وہ دراصل بات یہ ہے کہ ابھی میاں آزاد پاشا یہاں آنے والے ہیں۔ ان کے سامنے مجھے مت پیٹنا اور نہ ہی مجھے خوجی کہنا۔
    بیوی:۔ کیوں ۔ تو وہ میرا کیا کر لے گا؟
    خوجی:۔ در اصل وہ مجھے اپنے مذاق کا نشانہ بنایئں گے کہ اتنا بہادر نوجوان بنتا ہے، لیکن بیوی کی جوتیاں بڑے مزے سے کھاتا ہے۔
    بیوی:۔ ہوں ﴿ سوچ کر، جوتی دکھاتے ہوئے﴾ لیکن یاد رہے۔۔۔
    خوجی:۔ ھائے بیگم تم تو کمال ہو۔ تمہیں دیکھ کر تو مجھے یہ شعر یاد آگیا۔
    ان کو آتا ہے پیار پر غصہ
    ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے۔
    بیوی:۔ ﴿ پھر جوتی سے پیٹتے ہوئے﴾ خوجی مردود۔ تو نے پھر افیم کھائی ہے۔ تو نے پھر نشہ کیا ہے۔
    خوجی:۔ ھائے بیگم ، تمہارے سر کی قسم آج نہیں کھائی۔
    بیوی:۔ پھر یہ بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہے ہو؟
    خوجی:۔ ھاے بیگم ، یہ تو شاعری ہے۔ خیر جانے دو۔﴿ پیار سے﴾ آج کھانے میں کیا پکایا ہے؟
    بیوی:۔ ﴿ اٹھلا کر﴾ تمہارا سر۔ سارا دن نشے میں دھت رہتے ہو۔ گھر میں پکانے کو کچھ نہیں ۔ جائو ، اور جاکر مزدوری کرو اور کچھ کھانے کے لیے لے آئو۔
    ﴿ میاں آزاد اسٹیج کی دایئں طرف سے داخل ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک بورڈ ہے جس پر ’’ کھلی کچہری ‘‘ لکھا ہوا ہے﴾
    میاں آزاد:۔ اوہو۔ آداب بیگم صاحبہ، آداب خوجی صاحب، میرا مطلب ہے، خواجہ بدیع الزماں صاحب۔
    خوجی:۔ آداب میاں آزاد۔ کہیے کیا ارادے ہیں؟
    بیوی:۔ آداب آزاد بھائی۔ کہیئے ہماری حسن آرائ بہن تو خیریت سے ہیں۔
    آزاد:۔ میں اور حسن آرائ تو خیریت سے ہیں۔ آپ دونوں سنائیے، کیا مزے ہیں؟
    بیوی:۔ اجی کیا سنائیں ۔ یہ مردود خوجی ، کام کا نہ کاج کا۔ دشمن اناج کا۔ ہر وقت افیم کے نشے میں دھت رہتا ہے۔
    خوجی:۔ دیکھئے اس کی نہیں ہوتی۔
    بیوی:۔ ٹھہر تو سہی نامراد۔ تجھے پھر سے جوتیاں نہ ماروں تو؟
    خوجی:۔ ﴿ دور ہٹتے ہوے﴾بس بس بیگم۔ ارے کوئی بچائو۔ ارے کوئی ہے؟
    بیوی:۔ میری تو قسمت ہی پھوٹ گئی۔﴿ چلی جاتی ہے﴾
    آزاد:۔ ﴿ مسکراتے ہوے﴾ کیوں خوجی۔ کیا معاملے ہیں۔
    خوجی:۔ اجی بس کیا بتائوں۔ بیگم کو ہر وقت پیار آرہا ہوتا ہے مجھ پر۔
    آزاد:۔ پیار یا۔۔۔۔ جوتوں بھرا پیار اور پیار بھری مار۔
    خوجی:۔﴿ سنی ان سنی کرتے ہوے﴾ خیر چھوڑئیے ان باتوں کو۔ سنا ہے، قاضی صاحب نے سو موٹو نوٹس لے لیا ہے اور آج ان جادوگروں کی پیشی ہے؟
    آزاد:۔ اجی حضرت! کیسا نوٹس اور کہاں کی پیشی۔ خود قاضی صاھب تو پی سی او کے تحت باہر ہوگئے۔
    خوجی:۔ باہر ہوگئے؟
    آزاد:۔ بلکہ یوں کہیے کہ اندر ہوگئے۔
    خوجی:۔ اب کیا ہوگا۔ سنا ہے کہ لارڈ وال۔۔۔۔۔ لارڈ وال۔۔۔۔
    آزاد:۔ لارڈ والدیمورٹ۔
    خوجی:۔ وہی، وہی۔ سنا ہے کہ وہ بہت زبردست جادوگر ہے۔
    آزاد:۔ اجی حضرت چھوڑئے۔ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ اور پھر ہمارے ساتھ وہ بہادر بچہ، عالی بھی تو ہے۔
    خوجی:۔ اور ہماری بہادری کاتو آپ ذکر کرنا ہی بھول گئے۔ ساری دنیا میں دہشت ہے ہماری۔
    آزاد:۔ جی ہاں۔ جی ہاں۔
    جوتیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
    ﴿ پرانے بورڈ کی جگہ پر نیا بورڈ لگا دیتے ہیں، جو ابتک ان کے ہاتھوں میں تھا اور ناظرین اسے دیکھ سکتے تھے﴾
    خوجی:۔ جی بس ایک بیگم پر ہی ہماری نہیں چلتی، ورنہ تو ساری دنیا میں دھوم ہے ہماری۔ مار مار کر بھرکس نہ نکال دیں تو کہیئے آپ کے اس لارڈ وال۔۔۔ لارڈ وال۔۔۔
    آزاد:۔ لارڈ والڈیمورٹ۔
    خوجی:۔ وہی، وہی۔ وہی جس کا نام نہیں لینا چاہیئے۔
    آزاد:۔ ﴿ اچانک دایئں دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے﴾ لیجئے وہ آگیا لارڈ والڈیمورٹ۔
    خوجی:۔ ﴿بھاگ کر آزاد کے پیچھے جا چھپتے ہیں﴾ ھائے میرے اﷲ
    آزاد:۔ بس دم نکل گیاخوجی میاں۔ اب اگر سچ مچ آ جائے تو ، وہ جس کا نام نہیں لینا چاہیئے، یعنی ﴿ چیخ کر﴾ لارڈ والڈیمورٹ۔
    ﴿ اچانک ایک کڑک اور دھماکہ سنائی دیتے ہیں اور لارڈ والدیمورٹ اسٹیج پر داخل ہو تا ہے۔ خوجی ایک بار پھر آزاد کے پیچھے چھپ جاتے ہیں﴾
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ آدم بو۔ آدم بو۔
    آزاد:۔ جادوگر بو۔ جادوگر بو۔
    لارڈ اولدیمورٹ:۔ یہ کس نے ہمارا نام لینے کی ہمت کی؟
    آزاد:۔ ﴿ کڑک کر﴾ لارڈ والڈیمورٹ۔
    ﴿لارڈ والدیمورٹ اپنے دونوں ہاتھ آزاد کی طرف فضائ میں بلند کرتا ہے اور پھر ایک دھماکہ سنائی دیتا ہے﴾
    آزاد:۔ ﴿ پھر دبنگ لہجے میں﴾ لارڈ والڈیمورٹ۔
    ﴿ لارڈ والڈیمورٹ ایک مرتبہ پھر اپنے ہاتھ فضائ میں لہراتا ہے، اور ایک دھماکہ کی آواز بلند ہوتی ہے﴾
    آزاد:۔ ﴿ ایک بار پھر کڑک کر﴾ لارڈ والڈیمورٹ۔
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ ﴿ ہاتھ نیچے جھٹکتے ہوئے﴾ یو پیپل آر ہوپ لیس۔
    ﴿ حاضرین کی طرف دیکھ کر کندھے اچکاتا ہے۔ اتنے مین خوجی کی بیوی داخل ہوتی ہے﴾
    بیوی:۔ یہ کیا ہنگامہ ہے؟ ضرور خوجی مردود افیم کے نشے میں غل غپاڑہ مچا رہا ہوگا۔
    خوجی:۔ ﴿ ّآزاد کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے﴾ بیگم، بیگم۔ لارڈ وال۔۔۔۔ لارڈ وال۔۔۔۔
    بیوی:۔ لارڈ والڈیمورٹ؟
    خوجی:۔ وہی، وہی۔
    بیوی:۔ اس سے تو میں ابھی سمجھتی ہوں۔
    ﴿ جوتی نکال کر اس پر پل پڑتی ہے﴾
    بیوی:۔ کیوں رے مردود۔ تجھے میں جوتی کی نوک پر رکھتی ہوں۔ بڑ ا آیا لارڈ کہیں کا۔ ﴿ لارڈ والڈیمورٹ کے پیچھے بھاگتے ہوئے اسے جوتیاں رسید کرتی جاتی ہے﴾
    لارڈ والڈیمورٹ:۔ ارے میں مرا، ارے مجھے بچائو، ارے کوئی ہے۔ بچائو، بچائو۔
    ( دونوں بھاگتے ہوئے اسٹیج کے چکر لگاتے ہیں ۔ اچانک لارڈ والڈیمورٹ لڑ کھڑا کر اسٹیج پر ڈھیر ہوجاتا ہے۔ بیوی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر فاتحانہ انداز میں ناظرین کو دیکھتی ہے۔﴾
    آزاد:۔ ہیئر ہیئر۔﴿ تالیاں بجاتا ہے﴾
    بیوی:۔ آزاد بھائی ۔ آپ ہی کو تو میں ڈھونڈ رہی تھی۔ حسن آرائ آپ سے ملنے کے لیئے ادھر ہی آ رہی ہیں۔
    آزاد:۔ اب کیا یہاں بازار میں بجلیاں گرائیں گی؟
    بیوی:۔ سنا ہے آپ جنگ سے واپسی پر ابتک ان سے نہیں ملے۔ اسی لئیے وہ پریشان ہوکر آپ کو ڈھونڈتی پھر رہی ہیں۔
    آزاد:۔ وﷲ۔ کیا کہنے حسن آرائ بیگم کے۔
    نقیب؛َ ﴿ پردے کے پیچھے سے آواز لگاتاہے﴾ با ادب، با ملاحظہ ، ہوشیار۔ حسن آرائ بیگم تشریف لاتی ہیں۔
    حسن آرائ:۔ ﴿ غرارہ پہنے ہوئے، شرماتی ہوئی داخل ہوتی ہیں﴾ آداب۔﴿ جھک کر آداب کرتی ہے﴾
    آزاد:۔ کہیئے۔ حسن آرائ بیگم، کیسی رہیں؟
    حسن آرائ:۔ آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ ہمارے گھر سے نکلے اور سیدھے جنگ پر چلے گئے۔
    آزاد:۔ آپ ہی کی تو فرمائش تھی کہ جنگ پر جائوں اور بہادری کا میڈل لے کر آئوں۔
    حسن آرئ:۔ کہنے کو تو میں کہ گئی تھی۔ لیکن بعد میں جو پریشانی ہوئی، وہ کچھ میں ہی جانتی ہوں۔
    آزاد:۔ اسی لیئے اب بازار میں مجھ کو ڈھونڈنے نکل پڑیں۔
    حسن آرائ:۔ ( شرماتے ہوئے) جی ہاں!
    آزاد:۔ جنگ سے فارغ ہوکر یہاں پہنچا تو یاروں سے پتہ چلا کہ اب جادوگروں سے جنگ کرنی ہے۔

    حسن آرائ:۔ تو اس جادوگر کو بھی آپ ہی نے مارا ہے؟ ﴿ لارڈ والڈیمورٹ کی طرف اشارہ کرتی ہے﴾
    آزاد:۔ جی نہیں۔ اسے تو ہماری بہن نے اپنی جوتیاں مار مار کر مار ڈالا ہے۔
    ﴿حسن آرائ خوجی کی بیوی کو گلے لگا لیتی ہے﴾
    آزاد:۔ جی تو چاہتا تھا کہ آج اس کھلی کچہری میں اس مقدمے کا فیصلہ کروالیا جائے ﴿ ناظرین کی طرف اشارہ کرتا ہے﴾ لیکن ہماری بہن نے خود ہی اسکا فیصلہ کر ڈالا اور مردود لارڈ والڈیمورٹ کو ٹھکانے لگا دیا۔ ہماری اپنی کہانیوں کے کرداروں کو سلام۔ ہماری اپنی کہانیوں کو سلام۔﴿ سلیوٹ مارتا ہے﴾
    ﴿ نقیب دروازے سے اسٹیج پر داخل ہوتا ہے اور ناظرین کے سامنے آجاتا ہے۔پیچھے تمام اداکار ایک ایک کرکے اسٹیج پر آنا شروع ہوجاتے ہیں﴾
    نقیب:۔ تو صاحبو یوں ہماری یہ کہانی ختم ہوئی۔ آج سے تقریباً سو سال پہلے جو کام آزاد، حسن آرائ اور خواجہ بدیع الزماں خوجی وغیرہ نے شروع کیا تھا، یعنی جادو گری کی کہانیوں سے چھٹکارہ، آج ہماری کہانیاں اس سے بہت آگے بڑھ گئی ہیں۔آج سو سال کے بعد پھر مانگے تانگے کی جادوئی کہانیوں پر جانا کوئی بہت اچھی بات نہیں۔ آیئے اپنی ہی کہانیوں کو آگے بڑھایئں۔آپکی توجہ کا بہت شکریہ۔
    پردہ گرتا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 28, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,069
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت بہت شکریہ جناب شریک محفل کرنے کا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive

اس صفحے کی تشہیر