ہڑپہ کی تہذیب پانچ ہزار سال نہیں بلکہ نو ہزار سال پرانی ہے!

arifkarim نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 31, 2016

  1. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    ’موسم ہڑپہ تہذیب کے زوال کی براہِ راست وجہ نہ تھا‘
    [​IMG]
    آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل اس ہڑپہ کی تہذیب کا خاتمہ ہو گیا۔

    ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہڑپہ کی تہذیب پانچ ہزار سال نہیں بلکہ نو ہزار سال پرانی ہے اور یہ کہ اس کے زوال کی براہِ راست وجہ موسم کی تبدیلی نہیں تھی۔
    سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اپنی نوعیت کی اس اولین تحقیق میں بدلتے ہوئے موسموں اور ثقافتی مظاہروں کا تقابل کیا گیا جس سے ظاہر ہوا کہ صرف موسم کی تبدیلی اور مون سون کی کمی ہی اس تہذیب کے زوال کا باعث نہیں تھی بلکہ اس میں فصلیں اگانے کی ترتیب میں تبدیلی کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔
    ہڑپہ کی تہذیب پاکستان میں وادیِ سندھ کے شہروں ہڑپہ، موہنجو دڑو اور کوٹ دیجی سے لے کر انڈیا میں گھگر ہاکڑا دریا کی وادی میں واقع بِھڑانا، کالی بنگن اور حصار تک پھیلی ہوئی تھی۔
    یہ تہذیب اس زمانے کی ترقی یافتہ ترین ٹیکنالوجی سے مزین تھی اور اس کے باسی زراعت، شہری منصوبہ بندی، تجارت، برتن سازی اور مجسمہ سازی کے ماہر تھے۔ اس کے علاوہ وہ تجارت کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے میسوپوٹیمیا اور وسطی ایشیا سے منسلک تھے۔
    آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل اس تہذیب کا خاتمہ ہو گیا، شہر اجڑ گئے، تحریر کے نمونے غائب ہو گئے، اور زراعت کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ یہ تمام علاقے مون سون کی موسمی نظام کے تحت آتے ہیں لیکن آج کل یہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ بارشوں میں کمی اس تہذیب کے یک لخت انہدام کا موجب بنی۔
    تاہم اس نظریے میں رخنے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہی ہے کہ اس زمانے کے موسم کا نقشہ صحرائے تھر اور بحیرۂ عرب کے مقامات سے تیار کیا گیا جو اصل ہڑپہ تہذیب کے مراکز سے دور واقع تھے۔
    نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر انندیا سرکار نے بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نے اصل صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے انڈین ریاست ہریانہ میں بھڑانا کے آثارِ قدیمہ سے جانوروں کی ہڈیوں میں آکسیجن 18 کے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر کے اس زمانے کے مون سون کی تاریخ مرتب کی۔
    [​IMG]
    بھارت کی ریاست ہریانہ میں ہڑپہ تہذیب کے اثرات

    انھوں نے کہا: ’آکسیجن کی یہ مخصوص قسم بارش کے پانی میں پائی جاتی ہے، اور بڑے جانوروں کی ہڈیوں میں اس کا تجزیہ کر کے اس علاقے میں بارش کے پانی کی دستیابی کی صورتِ حال کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔
    ’ہم نے جب مختلف ادوار کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ بارشیں یک لخت ختم نہیں ہوئیں بلکہ یہ عمل بہت سست رفتاری سے اور بتدریج ہوتا رہا، اور بظاہر یہ ہڑپہ تہذیب کے زوال کی براہِ راست وجہ نہیں ہے۔‘
    جانوروں کے دانتوں اور ہڈیوں میں آکسیجن 18 کی موجودگی سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس جانور کے جسم میں بارش کا پانی کس مقدار میں موجود ہے۔ بھرانا کے آثار کی مختلف سطحوں میں گائے، بکری اور ہرن کی ہڈیاں پائی گئیں جنھیں تحقیق میں شامل کیا گیا۔
    اس سے قبل جھیلوں میں پائے جانے والے کاربونیٹ اور بحیرۂ عرب میں پانی کی بھرائی پر پہلے ہی تحقیق ہو چکی ہے۔ ان تینوں اقسام کے شواہد سے ظاہر ہوا کہ آج سے سات ہزار سال قبل تا نو ہزار سال قبل اس علاقے میں زیادہ بارشیں ہوا کرتی تھیں، جن کی وجہ سے دریاؤں میں پانی بھی آج کے مقابلے میں زیادہ ہوا کرتا تھا۔
    ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ بھڑانا آج سے نو ہزار سال قبل آباد ہوا تھا۔ حالیہ تحقیق میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے بھڑانا کے دو مقامات سے برتنوں کا آپٹیکلی سِمولیٹڈ لومینسنس (او ایس ایل) کے طریقے سے جائزہ لے کر ثقافتی ترقی کا موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ تقابل کیا، جس سے یہ معلوم ہوا کہ بارشیں کم ہونے سے معاشرتی اور ثقافتی حالات پر کیا اثر پڑا۔​
    حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آج سے سات ہزار سال قبل بارشوں کا زور بتدریج ٹوٹنے لگا لیکن توقعات کے برعکس اس سے ہڑپہ تہذیب کی نشو و نما پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس کی بجائے یہاں کے باسیوں نے کاشت کاری کے طریقے اور فصلیں اگانے کی ترتیب تبدیل کر کے بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کا مقابلہ کیا۔​
    ماہرین کے مطابق پانی کی فراوانی اور جگہ جگہ دریاؤں، ندی نالوں اور جھیلوں کی وجہ سے اس علاقے میں زراعت کو خوب فروغ ملا جس کی وجہ سے آبادی میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو گیا جو بعد میں ایک وسیع و عریض تہذیب کی شکل میں ہمارے سامنے آیا۔
    حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آج سے سات ہزار سال قبل بارشوں کا زور بتدریج ٹوٹنے لگا لیکن توقعات کے برعکس اس سے ہڑپہ تہذیب کی نشو و نما پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس کی بجائے یہاں کے باسیوں نے کاشت کاری کے طریقے اور فصلیں اگانے کی ترتیب تبدیل کر کے بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کا مقابلہ کیا۔
    ڈاکٹر سرکار نے بتایا کہ اس تہذیب کے باشندوں نے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے گندم اور جو جیسی فصلوں پر انحصار کم کر دیا جو زیادہ بارشوں کی مرہونِ منت ہوتی ہیں اور ان کی بجائے چھوٹے دانوں والی فصلیں مثلاً باجرہ اور چاول زیادہ اگانے شروع کر دیں جو خشک سالی کا نسبتاً بہتر مقابلہ کر سکتی ہیں۔
    پاکستان کی معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر اسما ابراہیم نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بہت اہم تحقیق ہے جس سے اس زمانے کے موسم پر روشنی پڑتی ہے۔ ’تاہم چونکہ یہ انڈیا کی صرف ایک سائٹ پر کی گئی ہے اس لیے فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے وسیع تر مضمرات کیا ہیں اور کیا پاکستانی علاقوں میں بھی ویسے ہی حالات تھے۔‘
    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے آثارِ قدیمہ پر بھی اسی قسم کی تحقیق ہونی چاہیے جس کے بعد ہی مکمل تصویر ہمارے سامنے آ سکے گی۔‘
    بی بی سی اردو

    زیک یاز زہیر عبّاس محمد تابش صدیقی فاتح محمد سعد محمد وارث اور دیگر ہڑپین​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    وادئ سندھ کی تہذیب چاہے تین ہزار سال پرانی ہو یا نو ہزار سال پرانی ہو ، ہم دیکھنے کے مشتاق ہیں۔ :daydreaming:
    پنجاب میں ہوتی تو اب تک دیکھ بھی چکے ہوتے، اب سندھ کیسے جائیں؟؟ :cautious:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • غمناک غمناک × 1
  3. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    چلیں اسی بات کی خوشی منا لیں کہ اپنے قائم علی شاہ کی عمر 4000سال مزید بڑھ گئی ہے:
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  4. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    ان سب کو کیا ضرورت پیش آ گئی موہنجودڑو اور ہڑپہ دیکھنے کی۔:confused1: ہونہہ!! فضول کے ڈرامے۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یہ لوگ وہاں یہ سبق حاصل کرنے گئے تھے کہ موجودہ سندھ کو اس لیول تک کیسے لیجانا ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
    • متفق متفق × 1
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    متفق
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    مزید یہ کہ جلد از جلد کتنے سالوں میں یہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  8. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,157
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہ دیکھنے نہیں بلکہ اس کا ستیاناس کرنے گئے تھے. یہاں جلسہ کیا تھا.
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • متفق متفق × 1
  9. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,157
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہڑپہ کی تاریخ پڑھتے ہوئے کچھ ادھورا پن محسوس ہو رہا تھا. اس مراسلے نے کمی پوری کر دی.
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  10. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    تاریخ کا شایدپہلا جلسہ تھا جو قدیم کھنڈرات اور قبرستان میں کیا گیا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    کاربن ڈیٹنگ کا طریقہ بھی بنڈل ہے سالا۔ اب تک پانچ ہزار سال کہتے تھے، اب سوچا کچھ نیا کرتے ہیں۔ نو ہزار سال، ہونہہ ، بھیا کی باتیں!
     
    • متفق متفق × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    پھر تو ان کو اپنے لیے مکلی قبرستان کا دورہ بھی کرنا چاہیے۔ قابلِ دید جگہ ہے۔:sneaky:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  13. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    موئن جو دڑو تو سندھ میں ہے لیکن ہڑپہ کے کھنڈرات تو ساہیوال کے پاس ہیں۔ وہ دیکھ آؤ فوراً جا کے۔ :)
    اور اگر راستہ معلوم نہیں تو یہ رہا لاہور تا ہڑپہ راستے کا نقشہ:
    https://goo.gl/maps/nkLRAHLgQ242
    بس، اب مزید کوئی بہانہ نہیں چلے گا ;)
     
    • معلوماتی × 2
    • متفق × 2
    • پسندیدہ × 1
    • زبردست × 1
    • دوستانہ × 1
  14. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    ہاہاہا!! :ROFLMAO: ہم گئے تھے ایک دفعہ تفریحی دورے کے ساتھ اس طرف، لیکن ہمیں ایک فضول سا میوزیم دکھایا گیا بس!! :unsure: ہم تو وہ پورا علاقہ دیکھنا چاہتے ہیں جہاں کھدائی کر کے کھنڈرات دریافت کیے گئے ہیں۔ :rolleyes:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  15. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    روکا کس نے ہے، مجھے اس کا نام بتاؤ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  16. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    4,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    جنرل ہسٹری میں ایم اے فائنل میں آپ کو چوائس دی جاتی ہے کے آپ نے موڈرن ہسٹری میں ماسٹرز کرنا ہے یا آرکیالوجی میں مجھے کبھی بھی آرکیالوجی میں دلچسپی نہیں رہی دیکھا سب کچھ ہے مگر صرف ٹور اور انجویمنٹ کے لئے جب فائنل اییر آیا تو ہم نے ماڈرن ہسٹری لے لی جس میں ورلڈ وارز پھر جرمنی کا ڈاؤن سے لے کر یونائیٹڈ نیشن کی فارمیشن تک ساری سٹڈی ہوتی ہے ...مجھے اپنی گیتھرنگ چھوڑنی پڑی جو سب کی سب آرکیالوجی میں چلی گئی تھی . . . یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کے سمجھ نہیں آتی شاید آپ میں سے کوئی سمجھا سکے کے اس کا فائدہ کیا ہے پڑھنے کا کے وہ لوگ کیا کرتے تھے کیا کھاتے تھے کس طرح رہتے تھے . . اس سے زیادہ اہم یہ ہے کے لوگوں کے نظریات کیا تھے ان کی سوشل لائف کیسی تھی ان کا آپس میں برتاؤ کیسا تھا پھر ہوتے ہوتے بات اپس میں جنگوں تک کیسے گئی وغیرہ وغیرہ . . . آخر میں مزے کی بات جو سب سے زیادہ اہم ہے ...جنہوں نے آرکیالوجی لی تھی ان سب کو کہیں نہ کہیں جاب مل گئی رہ گئے ہم لنڈورے . .۔ :(
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  17. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    ارے فاتح بھائی!! روکا تو کسی نے نہیں ہے لیکن ہمارے علاوہ کسی کو یہ کھنڈرات دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اکیلے ہم نہیں جا سکتے۔
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  18. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اگر آرکیولوجی نہ ہوتی تو آج ہمیں ڈائنوسارز، معدوم انسانی تہذیبوں اور سب سے اہم تمام حیوانات اور جانداروں کا اس زمین پر ارتقا سے متعلق کچھ پتا نہ چلتا۔ اپنے حال اور مستقبل کو سمجھنے کیلئے باقیات کو سمجھنا بھی ضروری ہے
     
  19. عبیر خان

    عبیر خان محفلین

    مراسلے:
    409
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بلکل درست عرض کیا ہے آپ نے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    م
    میوزیم کے ساتھ ہی ہیں ہڑپہ کے کھنڈرات اور علاقہ..... چند قدم دور ہی تَو تھے, آپ کیوں نہیں چلیں؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر