ہوش میں آؤ

حسن نثار پچھلے چند دنوں سے خلافِ معمول کافی زبردست کالم لکھ رہے ہیں
قسط نمبر 1
يہ ايسے اہرام ہيں جن کي بنياديں نمک کي ہيں، يہ ايسے جنگجو ہيں جن کے گھوڑے حنوط شدہ يعني مردہ، جن کي کمانيں کنير کي شاخوں سے بنائي گئي ہيں اور تير مہندي کي شاخوں سے تراشے گئے، ان کي ڈھاليں تربوز کي کھاليں اور زرہ بکتر قرباني کے جانوروں کي کھالوں سے تيار ہوئي ہے، ان کے نيزے بيد کي لچک دار لکڑي سے گھڑ ے گئے اور تلواريں پاپولر نامي درخت سے بنوائي گئي ہيں جس کي لکڑي عموماً خلال اور ماچس کي تيلياں بنانے کے لئے استعمال ہوتي ہے اور يہ آکٹوپس کي غلامي سے نجات چاہتے ہيں?
يہ دراصل کچھ ايسا ”مائنڈ سيٹ“ ہے جن کي عقليں بہت چھوٹي ليکن زبانيں بہت لمبي ہيں? ان کي بودي بڑھکيں سن کر مجھے وہ کيوٹ سا چوہاياد آتا ہے جو غلطي سے شراب کے ڈرم ميں گر گيا اور ڈبکياں کھانے لگا کہ اتفاقاً بروري کے کسي ملازم کي نظر پڑ گئي تو اس نے ”انساني ہمدردي“ کے تحت اس کي زندگي بچانے کے لئے اسے دم سے پکڑ کر باہر پھينک ديا? کچھ دير بعد چوہے کو تھوڑي سي ہوش آئي تو وہ جھومتا جھامتا اپنے گھرکي طرف روانہ ہوا? رستے ميں اسے ايک وحشي جنگلي بلي دکھائي دي جو گہري نيند سو رہي تھي? نشے ميں دھت چوہے نے حقارت سے خونخوار بلي کو ديکھا اور پھر ٹھڈا مارتے ہوئے چلايا…
”اٹھ نرگس! شير گجر تيرا مجرا سننے آيا ہے“
انہيں اصل کہاني کي سمجھ ہي نہيں آرہي کہ امريکہ اور
امريکن تو خود ”مظلوم ترين“مخلوق ہيں? يہ نہيں جانتے کہ امريکہ ميں تو سفيد امريکن بھي ”وائٹ نيگرو“ سے زيادہ کچھ نہيں کيونکہ امريکہ کي ”سپر پاوري“ کے پيچھے دست ستم، دست علم اور دست ہنر کسي اور کا ہے جو دنياميں اسي تناسب سے ہيں جس تناسب سے آٹے ميں نمک اور دھرتي پر خشکي ہوتي ہے? اشارہ ميرايہوديت کي طرف نہيں کہ عام يہودي بھي معصوم ہے? ميرا اشارہ صيہونيت کي طرف ہے جس نے ساري جديددنيا کو اپنے شکنجے اور پنجے ميں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ وہ بيچاري پھڑپھڑا بھي نہيں سکتي? کياجہالت کے يہ امام جانتے ہيں کہ عصر حاضر کا سياسي اور مالياتي نظام کس نے ”ايجاد“ اوروضع کيا؟ اور وہي اسے کنٹرول کر رہے ہيں?
جن کم بختوں کو مرض کا ہي علم نہيں وہ علاج خاک کريں گے? دشمن مغرب ميں تم مشرق ميں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن اوپر تم پاتال ميں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن مکمل اندھيرے ميں تم روشني ميں ٹامک ٹوئياں مار رہے ہو? صيہونيوں کے ”پروٹوکولز“ ہي پڑھ لو ظالمو! اور اس کھيل کي وہ تاريخ جو ريکارڈ پرموجود ہے کہو تو ميں ”خلاصہ“ پيش کروں؟ اول تو تم نے پڑھنا نہيں دوم يہ کہ تم نے سمجھنا نہيں کہ دلوں دماغوں پر مہريں ثبت ہوچکيں ليکن پھر بھي ميں ”ڈھيٹ ابن ڈھيٹ ابن ڈھيٹ“ تھوڑي سي کوشش ضرور کروں گا کہ شايد… شايد… شايد قبوليت کي کوئي گھڑي ہو اور نہ بھي ہو توکم از کم آئندہ نسليں تو جان سکيں گي کہ ان کے تمام ايلڈرز فارغ اور جاہل نہيں تھے کہ ميں تواکثر بولتا اور لکھتا بھي صرف ان کے لئے ہوں جوابھي نہ سن سکتے ہيں نہ پڑھ سکتے ہيں کہ ان کي سماعتيں اوربصارتيں ابھي بچپن کے مرحلہ ميں ہيں?
ميں نہيں جانتا کہ جہالت کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتي ہے سو اس کي بھي خبر نہيں کہ اس کا جواب کہاں سے شروع کرکے کہاں ختم کرنا ہے بہرحال… بہت دور کي بات نہيں جب دنيا کے بيشتر دروازے يہوديوں پر بند کرديئے گئے اور شايد يہي وہ لمحہ تھا جب ان ميں سے ايک اقليت نے پوري دنيا سے انتقام لينے کا فيصلہ کيا ليکن شمشير نہيں تدبير کے بل بوتے پر وہي ”تدبير“ جس کي طرف اقبال? يہ کہتے ہوئے اشارہ کرتاہے:
دين کافر ”فکر و تدبير“ جہاد
دين ملاّ في سبيل اللہ فساد
ايک بار پھر عرض ہے کہ ان کا ”انتقام“ سمجھنے کے لئے يہ کتابچہ پڑھنا ضروري ہوگا:
"Protocols of the meetings of the elders of zion"
اسے پڑھنے سے بہت سا بخار بھي اتر جائے گا اور دماغ سے بہت قسم کے جالے بھي اتر جائيں گے? يہ خفيہ دستاويز پہلي بار دنياکے سامنے پروفيسر نائيلس (Nilus)کي وجہ سے آئي جو روس کے آرتھوڈوکس چرچ کے پادري تھے? انہوں نے پہلي بار روسي زبان ميں اس کا ترجمہ 1905 ميں کيا? بقول پروفيسر نائيلس کہ ”پروٹوکولز“ مختلف خفيہ ميٹنگز کے منٹس (minutes) نہيں بلکہ ان کے بارے ميں ايک رپورٹ ہے? بالشويک انقلاب پر نائيلس کو ترجمہ کے جرم ميں نہ صرف گرفتار اور قيد کيا گيا بلکہ اسے ٹارچر بھي کيا گيا? ”پروٹوکولز“ کے پہلے انگريزي مترجم کا نام تھا Victor e Marsden جو برطانوي ہونے کے ساتھ ساتھ ”مارننگ پوسٹ“ کا نمائندہ بھي تھا? وہ کئي سال روس ميں تعينات رہا اور اس کي بيوي بھي روسي تھي? بالشويک انقلاب کے بعد يہ کتابچہ روسي مہاجرين کے ذريعے نارتھ امريکہ اور جرمني پہنچا?
”پروٹوکولز“ بنيادي طور پر دنيا پہ قبضہ کا بليوپرنٹ تھا اور ہے کہ پہلے مرحلہ ميں عيسائيت اور دوسرے مرحلہ ميں مسلمانوں کو کيسے مغلوب کرنا ہے? دنيا کے تقريباً ہر بڑے حادثہ، سانحہ، واقعہ، جنگ، Slumps، انقلاب، Cost of living ميں اضافہ اور unrest کے پيچھے يہي شيطاني منصوبہ کارفرما ہے اور آج تک کاميابي سے جاري و ساري ہے?
ہنري فورڈ کا ايک انٹرويو جو 17فروري 1921 ميں "New York World" کے اندر شائع ہوا ميں اس آٹوموبيل جينئس نے ”پروٹوکول“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:
"The only statement I care to make about the protocols is that they fit in with what is going on. they are sixteen years old and they have fitted the world situation up to this time.|
مصيبت يہ ہے کہ مسلمانوں کے اصل حريف سائبيريا سے زيادہ ٹھنڈے اور سمندروں سے زيادہ گہرے ہيں جبکہ يہ کوئلے کي طرح گرم (جو فوراً راکھ ہوجاتا ہے) ہيں اور انہوں نے نہانے والے ٹب کو ہي سمندر سمجھا ہوا ہے?
بشکریہ: جنگ 20 جولائی 2012
 
قسط نمبر 2
کچھ باتيں جوذہنوں ميں راسخ رہيں تو بہتر ہوگا?
دنيا کي بيشترايجادات يہوديوں کي مرہون منت ہيں اور اس سے بھي کہيں زيادہ اہم يہ ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ ميڈيا سے لے کر دنيا کے سياسي اور مالياتي نظام بلکہ نظاموں کے ماسٹرمائنڈ بھي صرف اورصرف يہودي ہيں? دنيا ميں کوئي غيرصيہوني يہ دعوي? نہيں کرسکتا کہ وہ عہدحاضر کے انتہائي پيچيدہ اور کثيرالچہرہ مالياتي نظام کے ہر شعبہ کو بخوبي سمجھتا اور اس پر مکمل گرفت رکھتا ہے? يوں سمجھ ليجئے کہ جيسے سپيشلسٹ ڈاکٹر ہے جوکسي ايک عضو کے بارے ميں تو بہت کچھ جانتا ہے ليکن باقي تمام جسم کے بارے ميں تقريباً بے خبر ہے? يقين مانيں کہ آج کي دنياکا مالياتي نظام بھي مکمل طور پر صرف وہي جانتے ہيں جنہوں نے اسے دنياپر مسلط کيا ہے اور يہ حربہ يا ہتھيار اس قدر ہولناک ہے کہ ہمارے سياسي للوپنجو اور جمہوري ماجھے گامے يا غلامي سے نجات کے احمق دعويدار اس کا تصور بھي نہيں کرسکتے? يہ کتنا سيريس اور بھيانک معاملہ ہے اور پوري دنيا پر اس کے کنٹرول يا کمانڈ کا کيا عالم ہے؟ اسے مندرجہ ذيل چند سطروں کي مدد سے سمجھنے کي کوشش کيجئے … بشرطيکہ اللہ توفيق عطا فرمائے? زمانہ وہ ہے جب برطانيہ سپرپاور تھا?
Baron Nathan Rothschild نے 1838 ميں بے حد حقارت سے سو فيصد سچائي بيان کي تھي جب اس نے يہ تاريخي جملہ کہا…
" I care not what puppet is placed on the throne of England to rule the empire........ The man that controls Britain's money supply controls the British empire and I control the money supply."
”مجھے اس کي قطعاً کوئي پرواہ نہيں کہ کون سي کٹھ پتلي برطانيہ عظمي? پر حکومت کرنے کے لئے برطانوي تخت پر سجائي گئي ہے? برطانيہ پر حکومت اس کي ہوتي ہے جس کے ہاتھ ميں برطانيہ کا مالياتي کنٹرول ہو اور وہ ميں ہوں جس کے ہاتھوں ميں برطانوي راج کا مالياتي کنٹرول ہے?“ (روتھ شيلڈ 1838) ?
آج پوري دنيا کا مالياتي کنٹرول کن کے ہاتھوں ميں ہے؟ کچھ ہوش بھي ہے يا نہيں؟ يہ جو دن رات چلاتے رہتے ہيں کہ… ”ہمارے خلاف سازش ہوگئي“ تو ان بڑھک بازوں کے بڑوں کو بھي علم نہيں کہ”سازش“ ہوتي کياہے؟ کي کس نے ہے؟ اور اس کي نوعيت کيا ہے؟
کيا کبھي اس تاريخي تھيسز پر بھي غور کياکہ صليبي جنگوں کے پيچھے صيہوني ہاتھ تھا؟
کيا کبھي سوچا کہ ”گولڈ سٹينڈرڈ“ کس نے متعارف کرايا اور پھر اس کے ساتھ کيسي ٹمپرنگ کي اور کاغذي کرنسي سے پلاسٹک کرنسي تک کي تاريخ کياہے اور کيوں ہے؟
اور کيا تمہيں خبر ہے کہ آج کا ہالي وڈ کبھي سنگتروں کے باغات پر مشتمل تھااوريہاں کي زمينيں کن لوگوں نے خريديں؟ عظيم الشان سٹوڈيوز بنائے تواس کاروباري سرگرمي کے پيچھے ان کے ديگر مقاصد کيا تھے؟ملٹي نيشنل کمپنياں ہوتي کيا ہيں؟ چلتي کيسے ہيں؟ کرتي کيا ہيں؟ اورآج کي دنيا ميں ان کا کردار کيا ہے؟… ايک جملہ چکھو اور پھراس کا زہر اپني روحوں ميں محسوس کرو? کيا کبھي تمہارا دھيان اس طرف گيا کہ کسان تمہارا، دھرتي تمہاري، پاني تمہارا ليکن بيج ان کا، کھادان کي، کيڑے مار دوائيں ان کي اور کسان کو قيمتي مشورے بھي ان کے، تو کيا تم اس جگاڑ کے انجام سے واقف ہو؟؟؟ ذہن ہي نہيں زمينيں بھي بنجر?امريکہ کي غلامي، ڈرون حملے، نيٹو سپلائي، غيرت پريڈ، ٹيڑھي ميڑھي انگليوں سے وکٹري کے جھوٹے نشان، مصنوعي ملين مارچ اور بس باقي ٹائيں ٹائيں فش? يہ تو اتنا بھي نہيں جانتے کہ غلام کس کے ہيں؟ آقا کون ہے؟ اور کب سے کيا کچھ کر رہے ہيں?1095 سے 1271 تک کون آپس ميں لڑتے رہے اور کرہ ? ارض کي وہ کون سي کميونٹي تھي جو انتہائي امير اور دولت مند تھي؟دنيا کي رگوں ميں سود کا اندھيراکس نے اتارا؟ اور کيا يہ 1830 نہيں تھا جب عيسائي پادريوں نے پہلي بار چھوٹي شرح کے سود کو قانوني طور پر قبول کيا؟اور پھر باقاعدہ چل سو چل…وليم گيکر (1895تا1959) بنيادي طورپر نيول کمانڈر ليکن دانشور آدمي تھا?اس نے يہوديو ں کے اعمال، کرتوتوں، منصوبوں پر طويل ريسرچ کے بعد ايک کتاب لکھي جس کا عنوان تھا… "Pawns in the game" وہ صيہونيوں کو بني نوع انسان کا ”شيطاني ٹولہ“ قرار ديتا ہے? ياد رہے کہ ہر يہودي صيہوني نہيں ہوتا ليکن ہر صيہوني يہودي ضرور ہوتا ہے? راتھ شيلڈ کا پس منظر بيان کرتے ہوئے لکھتا ہے? ايک يہودي سنار امثل 1750 ميں فرينکفرٹ (جرمني) ميں آباد ہوا تو اس نے اپني دکان کے آگے A red shield (سرخ ڈھال) کا بورڈ آويزاں کيا? چند سال بعد اس کي موت پر اس کے بيٹے امثل ميئر راتھ شيلڈ نے ان الفاظ کے جرمن متبادل کو لے کر اپني دکان کا نام House of Roth shild رکھا? 1812 ميں اس کي وفات پراس کے پانچ بيٹوں ميں سے ناتھن انتہائي ذہين اور قابل نکلا? 21 سال کي عمر ميں وہ انگلينڈ چلاگيا تاکہ بنک آف انگلينڈ ميں اثر و رسوخ پا کراپنے بھائيوں کے تعاون سے يورپ ميں ايک خودمختار بين الاقوامي بنک قائم کرسکے? صرف 30 سال کي عمر ميں اس نے بارہ اميراور بااثر ترين يہوديوں کے ساتھ ميٹنگ کي جس کامرکزي خيال يہ تھا کہ وہ سب اپنے وسائل و ذرائع کو يکجا کرنے پر رضامند ہوں تو پوري دنيا کي دولت، قدرتي ذرائع اور انساني طاقت کو کنٹرول کياجاسکتا ہے اور آج حقيقت يہ ہے کہ وہ اپنا ہدف حاصل کرچکے ہيں اور اسي لئے پچھلي قسط ميں، ميں نے امريکہ کو ”مظلوم“ اور سفيد امريکنوں کو ”وائٹ نيگروز“ لکھا تھا ?
بشکریہ: جنگ 21 جولائی 2012
 
قسط نمبر 3
ہاں تو ميں قصہ سنا رہا تھا راتھ شيلڈ کے منصوبہ کا کہ ”مظلوم ترين“ گلوبل اقليت ہونے کے باوجود دنيا پر کاٹھي کيسے ڈالي جا سکتي ہے? منصوبہ کا خلاصہ بلکہ اس کي چند جھلکياں پيش خدمت ہيں?
”کيونکہ لوگوں کي اکثريت نيکي کي بجائے بدي کي طرف مائل ہوتي ہے اس لئے ان پر حکومت کا بہترين طريقہ تشدد اور دہشت گردي کا استعمال ہے نہ کہ علمي مباحثے? شر وع ميں انساني معاشرہ کو اندھي طاقت سے ہي قابو ميں رکھا جاتا تھا? پھر قانون آ گيا ليکن دراصل قانون کے پردے ميں بھي اندھي طاقت ہي کام کر رہي ہوتي ہے? قانون فطرت بھي يہي ہے کہ حق … صرف طاقت ميں ہي پايا جاتا ہے?
سونے (GOLD) کي طاقت فيصلہ کن ہے? حصول مقصد کے لئے ہر حربہ جائز ہے? ہمارے ذرائع کي طاقت کو لوگوں سے پوشيدہ رہنا ہو گا? عوام پر کنٹرول کے لئے ان کي نفسيات مدنظر رکھنا ہو گي? عوامي طاقت اندھي، بے حس، غير مدلل اور نعروں کے رحم و کرم پر ہوتي ہے? ہم نے ہي سب سے پہلے عوام کے منہ ميں ”آزادي“ … ”مساوات“ اور ”اخوت“ کے الفاظ ڈالے جو ابھي تک يہ احمق طوطے دہرا رہے ہيں? فطرت ميں يہ تينوں لفظ نہيں پائے جاتے? عوام کي فطري و نسلي کبريائي کے کھنڈرات پر ہم نے سرمايہ کي کبريائي قائم کرني ہے? صنعتي سرد بازاري اور مالي پريشانيوں سے ہم اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہيں? ہم بيروزگاري اور بھوک پيدا کر کے پسنديدہ نتائج حاصل کر سکتے ہيں? منظم دھوکہ بازي سے جاہل عوام کو بڑے بڑے الفاظ اور نعروں سے بيوقوف بنا کر اپني مرضي سے استعمال کيا جا سکتا ہے? ”انقلابي جنگ“ کے لئے گلي کوچوں ميں لڑنے اور دہشت کي حکمراني پيدا کرنا ضروري ہے کيونکہ لوگوں کو محکوم بنانے کا يہ سب سے سستا طريقہ ہے? عالمي حکومت ہمارا نصب العين ہے جس کے لئے ہر جگہ بڑي اجارہ دارياں اور دولت کے ذخائر کا قيام ضروري ہے? اسلحہ اس خيال سے اس مقدار ميں بنايا جائے کہ جاہل عوام آپس ميں لڑ کر ايک دوسرے کو تباہ کر ديں? نظام نو عالمي حکومت کے ارکان کو آمر مقرر کرے گا اور انہيں سائنس دانوں، ماہرين اقتصاديات و ماليات، صنعت کاروں اور دولت مندوں ميں سے چنے گا? قومي اور بين الاقوامي قوانين کو بدلا نہيں جائے گا بلکہ اسي حالت ميں اس طرح استعمال کيا جائے گا کہ تفہيم ميں تضاد پيدا ہو اور قانون سرے سے ہي غائب ہو جائے?“
اميد ہے روتھ شيلڈ سوچ کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہو گيا ہو گا?
1215ء ميں رومن کيتھولک کونسل کي ميٹنگ ہوئي جس ميں سب سے اہم موضوع يورپ کے تمام ملکوں پر ”يہودي يلغار“ تھا? ميٹنگ ميں چرچ کے سربراہوں نے فيصلہ کيا کہ سود کا خاتمہ کر ديا جائے اور يہودي قرض خواہوں کے تجارت ميں بے اصول طريقوں کو جس سے وہ عوام کا استحصال کرتے ہيں روک کر بدعنواني اور بداخلاقي کو چلنے نہ ديا جائے? يہوديوں کو ان کے محلوں تک محدود کيا جائے اور عيسائيوں کو ملازم رکھنے سے روک ديا جائے کيونکہ يہودي جائنٹ سٹاک کمپني کے اصول پر کام کرتے تھے اور عيسائيوں کو فرنٹ پر رکھتے تھے اور جب کوئي واردات ہوتي تو الزام عيسائيوں پر آتا اور سزا بھي وہي بھگتتے? عيسائي عورتوں کو ملازم رکھنے پر بھي پابندي لگائي گئي کيونکہ ان کا بھي بے رحمانہ استعمال کيا جاتا? کچھ اور پابندياں بھي لگيں ليکن کمال ديکھيں کہ چرچ اور رياست کي متحدہ طاقت بھي ان کا کچھ نہ کر سکي? نتيجہ يہ کہ چرچ اور رياست کي عليحدگي کا پتہ پھينکا گيا?
1253 ميں حکومت فرانس نے يہوديوں کو ملک چھوڑنے کا حکم ديا? اکثر يہودي انگلينڈ چلے گئے جہاں 1255ء تک يہودي قرض خواہوں نے چرچ کے بڑوں اور دوسرے شرفاء پر مکمل کنٹرول حاصل کر ليا? راز کھلنے پر 18 يہودي مجرم نکلے اور بادشاہ ہنري سوم نے انہيں سزائے موت دے دي? 1272 ميں ہنري سوم فوت ہوا تو ايڈورڈ اول بادشاہ بنا اور عہد کيا کہ يہوديوں کو سودي کاروبار نہ کرنے دے گا چنانچہ 1275 ميں پارليمنٹ سے يہوديوں کے متعلق خصوصي قانون پاس کروايا جس کا مقصد تھا کہ مقروضوں کو سود خوروں کے شکنجے سے نکالا جائے ليکن يہوديوں نے پرواہ نہ کي لہ?ذا 1290 ميں کنگ ايڈورڈ نے ايک خاص حکم جاري کيا جس کے تحت تمام يہودي انگلينڈ سے نکال ديئے گئے نتيجہ يہ نکلا کہ دوسرے يورپين حکمرانوں نے بھي يہي کيا?
1348 ميں سسکيوني، 1360 ميں ہنگري، 1370 ميں بلجيم اور سلوويکيا، 1420 ميں آسٹريليا، 1444 ميں ہالينڈ، 1492 ميں سپين، 1495 ميں لتھونيا، 1498 ميں پرتگال، 1540 ميں اٹلي اور 1551 ميں بويريا نے انہيں نکال ديا? پناہ ملي تو صرف پولينڈ اور ترکي ميں? بعض مورخين کے نزديک يہ يہوديوں کا ”عہد تاريک“ تھا? اخراج کے نتيجہ ميں يہودي اپنے مخصوص باڑوں، احاطوں ميں رہنے لگے جس نے ان کے اندر نفرت اور جذبہ انتقام کو جنم ديا ليکن انہوں نے بڑھکيں اور نعرے نہيں مارے، خود کش جيکٹيں اور حملے ايجاد نہيں کئے، چھچھوروں کي طرح اچھل کود نہيں کي بلکہ ايک ايسي عالمي انقلابي تحريک کو خاموشي سے منظم کرنا شروع کر ديا جس کے نتيجہ ميں جو دنيا ان پر تنگ کي گئي تھي… آج ان کے ہاتھوں تنگ ہے اور يہ بھي نہيں جانتي کہ ”ولن“ کون ہے? جن ملکوں سے يہودي نکالے گئے تھے انہي ملکوں ميں ايک ايک کر کے داخل ہوئے اور زير زمين کام کرنے کي سٹرٹيجي بنائي گئي? کھلي تجارت کي بجائے بليک مارکيٹ پر توجہ مرکوز کي گئي? غرضيکہ ہر غير قانوني طريقہ اپنايا گيا اور ”جائنٹ سٹاک کميٹي“ کے بادشاہ تو وہ تھے ہي?
1600ء ميں وہ انگلستان ميں آئے اور بادشاہ، حکومت، آجر، اجير، چرچ اور رياست کو لڑانا شروع کر ديا? جب کنگ چارلس اور پارليمنٹ ميں رسہ کشي شروع ہوئي تو انہوں نے کرامويل سے رابطہ بنا کر ايک بہت بڑي رقم اس شرط پر دينے کا وعدہ کيا کہ وہ بادشاہ کو برطرف کر دے? پھر پرتگال کا ايک يہودي کراموئيل کا سب سے بڑا اسلحہ کا ٹھيکے دار بن گيا? سازش پھيلتي گئي اور کراموئيل اس سازش کا حصہ تھا جس نے 18 جون 1647 کو يہودي ڈائريکٹرز کو لکھا،
(جاري ہے)

بشکریہ: جنگ 23 جولائی 2012
 

عثمان

محفلین
گویا یہودیوں کے خلاف چند بول تمام گناہ دھونے کے لئے کافی ہے۔ یہ خلاف معمول نہیں بلکہ عین معمول ہے۔ :)
 

عثمان

محفلین
تھوڑی سے وضاحت کر دیں عثمان بھائی
واضح ہی تو ہے۔ :)
حسن نثار نے اس کالم میں یہودیوں کو اچھا خاصا لتاڑا ہے اس لئے دل میں اس کے لئے نرم گوشہ پیدا ہونا عین معمول ہے۔ :)
ویسے اس کالم میں کہی گئی کئی باتیں مثلاً پروٹوکولز والی بات کافی کمزور ہے۔ اکثر تاریخ دان اسے محض جعلسازی قرار دیتے ہیں۔ :)
 
اگر آپ نے کالم غور سے پڑھا ہو تو حسن نثار صیہونیوں کو لتاڑ رہا ہے اور بقول حسن نثار ہر یہودی صیہونی نہیں ہوتا پر ہر صہیونی یہودی ضرور ہوتا ہے۔
یعنی حسن نثار ہر یہودی کو برا نہیں کہہ رہا لیکن ان چند کو جو اس وقت دنیا کے بہت سے نظاموں پر قابض ہیں
 
اب پروٹوکولز والی بات کا مجھے اتنا علم نہیں کیونکہ میں نے اس معاملے میں کوئی تحقیق نہیں کی اور نہ مجھے ہسٹری اتنی اچھی لگتی ہے:)
 

عثمان

محفلین
اگر آپ نے کالم غور سے پڑھا ہو تو حسن نثار صیہونیوں کو لتاڑ رہا ہے اور بقول حسن نثار ہر یہودی صیہونی نہیں ہوتا پر ہر صہیونی یہودی ضرور ہوتا ہے۔
یعنی حسن نثار ہر یہودی کو برا نہیں کہہ رہا لیکن ان چند کو جو اس وقت دنیا کے بہت سے نظاموں پر قابض ہیں
حسن نثار کی معلومات درست نہیں۔ صیہونی صرف یہودی ہی نہیں ، بلکہ غیر یہودی بھی ہوتے ہیں۔ Christian Zionist گوگل کرلو۔ بہت کچھ سامنے آجائے گا۔ :)
مزید یہ کہ "دنیا کے نظاموں پہ قابض" کئی یہودی صیہونی نہیں۔ لیکن حسن نثار نے ان کو بھی رگڑا ہے۔ ویسے بھی کالم نگار کا اصل نشانہ بااثر یہودی ہیں چاہے انھیں کوئی بھی نام دے لو۔ مزید یہ کہ دنیا کے نظام پہ قابض لوگوں میں صرف یہودی ہی نہیں اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ لیکن غصہ صرف یہودیوں ہی پر اتارا گیا ہے۔ :)
 
حسن نثار کی معلومات درست نہیں۔ صیہونی صرف یہودی ہی نہیں ، بلکہ غیر یہودی بھی ہوتے ہیں۔ Christian Zionist گوگل کرلو۔ بہت کچھ سامنے آجائے گا۔ :)
مزید یہ کہ "دنیا کے نظاموں پہ قابض" کئی یہودی صیہونی نہیں۔ لیکن حسن نثار نے ان کو بھی رگڑا ہے۔ ویسے بھی کالم نگار کا اصل نشانہ بااثر یہودی ہیں چاہے انھیں کوئی بھی نام دے لو۔ مزید یہ کہ دنیا کے نظام پہ قابض لوگوں میں صرف یہودی ہی نہیں اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ لیکن غصہ صرف یہودیوں ہی پر اتارا گیا ہے۔ :)
چلیں کسی پر تو غصہ اتارنے دیں۔بڑی مشکل سے حسن نثار نے اپنے کالموں کا موضوع بدلا ہے:)
 
آخری قسط
”مالي امداد کے عوض يہوديوں کي انگلستان ميں واپسي کي وکالت کي جائے گي ليکن جب تک کنگ چارلس زندہ ہے يہ کام ناممکن ہے? چارلس کو مقدمہ چلائے بغير سزائے موت بھي نہيں دي جاسکتي اور اس کے لئے کافي مواد بھي موجود نہيں? اس لئے ميرا مشورہ ہے کہ کنگ چارلس کو قتل کرديا جائے مگر قاتل کے حصول کے لئے ميں کچھ نہيں کرسکتا البتہ اسے بھاگنے ميں مدد دے سکتا ہوں“
يہودي ڈائريکٹر پريٹ نے اس کے جواب ميں 12 جولائي1647ء کو لکھا” جونہي چارلس کو ہٹاديا گيا اور يہوديوں کو واپس آنے کي اجازت دے دي گئي? مالي امداد فراہم کردي جائے گي ،قتل کرنا خطرناک ہے ،بہتر ہوگا کو چارلس کو فرار کا موقع ديا جائے اور پھر اسے گرفتار کرليا جائے، يوں اس پر مقدمہ چلانا اور سزائے موت دينا ممکن ہوگا“?
12نومبر1648ء چارلس کو بھاگنے کا موقع دے کر پکڑ ليا گيا، اسي دوران کراموئيل نے پارليمنٹ کے بہت سے ممبرز کو نکال ديا? اس کے باوجود جب 5دسمبر1648ء کو پارليمنٹ کا اجلاس ہوا تو اکثريت نے فيصلہ کيا کہ بادشاہ جو رعايتيں دينے کو تيار ہے وہ کافي ہيں ليکن کرامويل لڑ گيا? اس نے کرنل پرائيڈ کو حکم ديا کہ ان ارکان کو نکال ديا جائے جنہوں نے بادشاہ کے حق ميں فيصلہ ديا ہے? اس طرح پارليمنٹ ميں صرف50ارکان رہ گئے ? انہوں نے 9 جنوري1649ء کو ايک ايسي عدالت کا اعلان کيا جو بادشاہ پر مقدمہ چلائے گي? بادشاہ کي فرد جرم بنانے کے لئے کوئي انگريز وکيل نہ ملا تو ايک گمنام يہودي کو اس پر مقرر کيا گيا? بادشاہ کے خلاف سماعت ہوئي اور اس طرح انگلينڈ کے شہريوں کي طرف سے ہرگز نہيں بلکہ بين الاقوامي يہيودي مہاجنوں، سود خوروں اور قرض خواہوں کي وجہ سے بادشاہ کو مجرم قرار دے کر اسے سزائے موت ديدي گئي اور پھر 30جنوري1650ء کو لوگوں کے سامنے اس کا سر قلم کرديا گيا? يہ تھا بھيانک انتقام اس جبري خروج کا جو ايڈورڈ اول نے يہوديوں پر مسلط کيا تھا? يہاں يہ بات اچھي طرح سمجھ ليني چاہئے کہ مقصد صرف انتقام ہي نہيں بلکہ انگلينڈ کے مالياتي نظام کے ذريعہ حکومت پر قبضہ بھي ايک بڑا مقصد تھا، پھر انگلينڈ کو دوسرے ملکوں کے ساتھ بہت سي جنگوں ميں ملوث کرکے اکثر بادشاہوں کو کنگال کرنے کے بعد انہيں بڑے بڑے قرض دئيے گئے اور اس طرح تقريباً تمام يورپي اقوام کو ”مقروض“ کرديا گيا?
پھر سازشوں، جوڑ توڑ، ذہين چالوں کي ايک لمبي داستان ہے اور يہ معصوم سا کالم ظاہر ہے اس کا متحمل نہيں ہوسکتا ہم سيدھے شارٹ کٹ مار کر وليم کي تخت نشيني (1699)پر آتے ہيں جس کے بعد اس نے حکم ديا کہ يہودي بنکوں سے بارہ لاکھ پچاس ہزار پونڈ قرضہ ليں? تاريخ آج تک نہيں جانتي کہ يہ قرضہ دينے والے پوشيدہ ہاتھ کن کے تھے? ڈيل کو خفيہ رکھنے کے لئے ميٹنگ چرچ ميں ہوئي، صہيونيت نے مندرجہ ذيل شرائط پر قرض دينا قبول کيا?
1?ان کے نام ظاہر نہ کئے جائيں اور انہيں” بنک آف انگلينڈ“ کے قيام کا چارٹر ديا جائے(نامہ کے ذريعہ يہ تاثر دينا تھا کہ يہ سرکاري ہے)?
2?انہيں قانوني حق ديا جائے کہ وہ سونے (Gold) کو سکے کي بنياد(گولڈ سٹينڈرڈ) بنا سکيں?
3?انہيں ايک پونڈ سونے کے عوض دس پونڈ تک قرضہ دينے کي اجازت دي جائے?
4?پورے قومي قرضہ کو اکٹھا کرنے کے بعد انہيں يہ حق ديا جائے کہ وہ يہ قرضہ اور اس کا سود لوگوں سے براہ راست ٹيکس کے ذريعہ وصول کرسکيں?
کيا ہمارے عظيم قائدين سوچ بھي سکتے ہيں کہ گولڈ سٹينڈرڈ کے نتائج کيا نکلے؟ اگر انگلينڈ کا قرض تب 4سالوں ميں ايک ملين پونڈز سے بڑھ کر16ملين پونڈز ہوگيا تھا اور 1945ء ميں يہ قرض 22 ارب 50 کروڑ 35 لاکھ ہوچکا تھا تو اس آکٹوپس کے سامنے موجودہ دنيا کي حقيقت اور حيثيت کيا ہوگي؟ پاکستان تو کسي شمار قطار اور
کھاتے ميں ہي نہيں کہ چہ پدي چہ پدي کا شوربہ اور پھر امريکہ کي مشکيں کيسے کسي گئيں يہ اک اور طلسم ہوشربا ہے جو کسي ”حضرت صاحب“ کي سمجھ ميں بھي نہ آسکے گي کہ اس کے لئے”درس نظامي“ سے زيادہ علم درکار ہے?
سچ يہ ہے کہ پورا عالم اسلام اپنے اصل حريف سے واقف ہي نہيں کيونکہ يہ”اصل آقاؤں“ کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے سايوں اور پرچھائيوں کا غلام ہے? ان کے حکمرانوں اور فکري و مذہبي ليڈروں کي بھي عموما دو ہي صفات ہيں ،اول جہالت دوم عياشي? يہ تو اتني استعداد بھي نہيں رکھتے کہ وضاحت سے پيش کي گئي کسي بات کو سمجھ بھي سکيں اس لئے ”امريکہ کي غلامي سے نجات“ …”ڈرون حملے بند کرو“ ”امريکہ عراق کے بعد افغانستان ميں بھي شکست کھا چکا“ وغيرہ وغيرہ وغيرہ جيسي لغويات و فروعات کے علاوہ ان کے پلے ہي کچھ نہيں کہ فکري ديواليہ پن اس دنيا سے باخبر ہي نہيں جس ميں ايڑياں رگڑ رہا ہے……شايد يہ سب پچھلے جنم ميں کنوئيں کے مينڈک تھے?
آخر پر چندRevealing quotesجن سے اندازہ لگايا جا سکتا ہے کہ صيہونيت ہے کيا؟ عہد حاضر ميں اس کا کردار کتنا فيصلہ کن ہے؟ اور اس دنيا کي بنت کس قسم کي ہے؟ اور ان کا مائنڈ سيٹ کيا ہے؟ غور سے پڑھو اور ہوش کرو?
"We Jews regard our race as superior to all humanity ,and look forward not to its ultimate union with other races ,but to its triumph over them"
گولڈ ون سمتھ يہودي پروفيسر آف ماڈرن ہسٹري آکسفورڈ يونيورسٹي اکتوبر 81دوسرا پيغام بلکہ تھيٹر ملا حظہ فرمائيے?
"Why are gentiles needed? they will work ,they will plow,The will reap and we will sit like an effendi (Turkish Bossman)and eat.That is why gentiles were created"
Rabbi ova dia, Mentor of TRFP
"The modern Jew is the product of the Talmud"
Michael Rodkinson)
"The wholw fortune of nations will pass into the hand of the Jewish people:
(Isdor Loeb)
پڑھتا جا… شرماتا جا اور کچھ نہ سيکھنے سمجھنے کي قسم بھي کھا کہ جہالت جيسي راحت کوئي نہيں! کيوں مولانا کيا خيال ہے؟

روزنامہ جنگ 24 جولائی 2012
 

رانا

محفلین
ویسے اس کالم میں کہی گئی کئی باتیں مثلاً پروٹوکولز والی بات کافی کمزور ہے۔ اکثر تاریخ دان اسے محض جعلسازی قرار دیتے ہیں۔ :)

پروٹوکولز کو جعلسازی قرار دینا بھی تو آسان نہیں ہے۔ یہ منصوبہ جیسا کہ حسن نثار کے کالم سے بھی ظاہر ہے کوئی انیسویں صدی کے آخر میں دنیا کے سامنے آیا۔ لیکن اس وقت ان کے دو منصوبے سامنے آئے تھے۔ ایک ظاہری تھا اور ایک خفیہ جو یہی پروٹوکولز ہے۔ ظاہری منصوبہ میں تو کوئی ابہام نہیں تھا اور خود یہودی کہتے ہیں کہ ہاں یہ ہمارا منصوبہ ہے اور ہم نے خود اسے دنیا کے سامنے ظاہر کیا ہے۔ اور وہ منصوبہ صرف اتنا ہے کہ حکومتوں کے ساتھ اعلی سطح پر تعلقات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا اور اپنے لئے ایک ریاست اسرائیل کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا۔ یہ تو یہودیوں کو بھی قبول ہے۔ لیکن دوسرا منصوبہ جو خفیہ تھا اور جس سے یہودی انکار کرتے ہیں یعنی پروٹوکولز وہ اسطرح سامنے آیا کہ ان یہودیوں میں سے ایک طبقہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی بادشاہت صرف ان کے لئے ہی خدا نے رکھی ہے اور ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ داود کی بادشاہت کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنا۔ اس طبقے کے اعلی دماغوں نے یہ منصوبہ بنایا جو ایلڈرز آف زائن کہلاتے ہیں۔ زائن کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ پہاڑ تھا جس پر داود سے خدا نے بادشاہت کا وعدہ کیا تھا۔ غالبا یہ ایک روسی صحافی خاتون تھی جس کے ذریعے ان کا یہ منصوبہ لیک ہوا۔ وہ اسطرح کہ وہ ان ایلڈرز آف زائن میں سے ایک کی دوست تھی۔ ایک شام کو وہ اس کے کمرے میں بیٹھی اس کا انتظار کررہی تھی کہ اس نے وقت گزاری کے لئے سامنے میز پر سے ایک مسودہ اٹھایا جو یہی پروٹوکولز آف ایلڈرز آف زائن تھا۔ وہ اسے پڑھ کر بہت دہشت زدہ سی ہوگئی کیونکہ اس میں دنیا پر قبضے کا بہت ہی خوفناک منصوبہ تھا۔ وہ اسے لیکر وہاں سے فرار ہوگئی اور روس میں پہلی دفعہ یہ 1903 میں چھپا جیسا کہ حسن نثار کے کالم سے بھی ظاہر ہے۔

منصوبے کے آخری مراحل میں سے ایک اہم مرحلہ یہ تھا کہ انہوں نے United Nations بنا کر اس کے ذریعے پوری دنیا پر حکومت کرنی تھی۔ جیسا کہ آج ہورہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنے بڑے منصوبے پر کئی سال لگنا تھے۔ اور اس سالوں پر محیط منصوبے کے تمام مراحل جو اس میں بیان کئے گئے ہیں وہ اسی طرح ابتدا سے طے ہوتے چلے جارہے ہیں۔ یہودی ہمیشہ اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس پر بہت بحثیں ہوئی ہیں۔ انگلستان میں ایک پروٹسٹنٹ نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام تھا Waters Flowing Easward ۔ اس کتاب میں اس نے اس منصوبہ کے تمام پہلوؤں کا بہت تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ اس میں اس نے ایک مغربی مفکر کا حوالہ دیا ہے کہ جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں کیا یہ واقعی یہودیوں کا منصوبہ ہے یا ان کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ میرے نزدیک دو ہی صورتیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ یہ واقعی ان کا ہی منصوبہ ہے جن سے منسوب کیا جارہا ہے۔ کیونکہ تمام واقعات اسی کے مطابق ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ یہ اگر ان کا منصوبہ نہیں ہے تو پھر یہ خدا کے کسی نبی کی کتاب ہے جس نے خدا سے علم پاکر اتنی واضع اور تفصیلی پیشگوئی کردی ہے۔ تیسری کوئی صورت نہیں۔ اب دیکھیں اس کے نزدیک یا تو یہ بہت ہی بڑے پرلے درجے کے جھوٹوں کا منصوبہ ہے جو اسے بناکر اب اس سے انکار کر رہے ہیں اور یا پھر یہ خدا کی طرف سے کسی بزرگ کو بتائی گئی پیشگوئی ہے۔ اس کے بعد بھی کیا اس منصوبے پر شک کی کوئی وجہ رہ جاتی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق اب یہ وہ دور آپہنچا ہے جو ان کے منصوبے کی تکمیل کے آخری مراحل پر مشتمل ہے۔ دیوار برلن کے گرنے کا واقعہ سب کے ذہن میں ہوگا۔ اس منصوبے میں آخری مراحل کے بارے میں بالکل ایسا ہی لکھا ہے کہ پہلے ہم دنیا کو تقسیم کریں گے اور پھر دنیا کو ملا دیں گے اور یہ اس وقت کریں گے جب United Nations پر ہمارا قبضہ ہوچکا ہوگا۔

اب یہ منصوبہ دنیا کے سامنے انیسویں صدی کے آخر میں آیا تھا جب United Nations تو دور کی بات اس کی پیشرو لیگ آف نیشنز کے بھی سائے کا وجود نہ تھا۔ اس کے بعد اسی کتاب میں لکھے گئے منصوبے کے مطابق تمام واقعات کا رونما ہوتے چلے جانا کس کھاتے میں فٹ کیا جائے گا۔ دو ہی صورتیں ہی جو اس مغربی مفکر نے بیان کردی ہیں۔

لیکن اس ساری صورتحال میں مسلمانوں کے لئے پریشانی کی اتنی بات نہیں۔ کیونکہ یہودی تو یہ اس منصوبے کو اور اس کی تکمیل کو اپنی ذہانت کا کرشمہ سمجھ رہے ہوں گے۔ لیکن دراصل یہ نادانستہ طور پر ایک اور ماسٹر منصوبے پر عمل کررہے ہیں۔ اور وہ خدائی منصوبہ ہے جو چودہ سوسال پہلے سورہ بنی اسرائیل کی آیات 4 تا 8 میں بیان کردیا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالی ان کو ایک موقع اور دے گا اور ارض مقدس ان کو دوبارہ ملے گی۔ آیت نمبر 8 میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اگر پھر انہوں نے ناشکری کی اور اپنی انہی حرکتوں کا دوبارہ اعادہ کیا تو پھر ہم بھی اعادہ کریں گے۔ یعنی اس سے زیادہ عبرت کا نشان بنادیں گے جیسا یہ نافرمانی کے نتیجے میں پہلے خدا کی مار کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ پس اسرائیل تو بننا ہی تھا کیونکہ خدا کا وعدہ تھا اور اس کی پیشگوئی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور وعدہ بھی تو تھا کہ اگر یہ باز نہ آئے تو عبرت کا نشان بنادیئے جائیں گے۔ اور جب ہم نے اس پیشگوئی کا پہلا حصہ پورا ہوتا ہوا دیکھ لیا ہے تو دوسرے حصہ بھی لازما جلد ہی پورا ہوگا کہ اب یہ عبرت کا نشان بنائیں جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے منصوبے کے مطابق ان کا منصوبہ اب آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور ادھر خدا کے وعدہ کے دن بھی انشاء اللہ قریب ہیں۔ بعید نہیں کہ ہم میں سے بہت سے اپنی آنکھوں سے اس خدائی وعدہ کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ لیں۔
 

عثمان

محفلین
سبحان اللہ کیا خفیہ عالمی "منصوبہ" ہے کہ ایک صدی سے کل عالم کی زبان پر ہے۔ پھر بھی نہ صرف خفیہ بلکہ کامیاب ترین ہے۔
پروٹوکولز جیسی جعلسازی پر تاریخ دان بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ لیکن جب کچھ باتیں لوگوں کے عقائد میں گھس جائیں تو حقائق اور افسانے گڈمڈ ہوجاتے ہیں۔
 
Top