بشیر بدر ہنسی معصوم سی، بچوں کی کاپی میں عبارت سی۔

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 24, 2017

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    19,071
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ہنسی معصوم سی، بچوں کی کاپی میں عبارت سی
    ہرن کی پیٹھ پر بیٹھے پرندے کی شرارت سی

    وہ جیسے سردیوں میں گرم کپڑے دے فقیروں کو
    لبوں پہ مسکراہٹ تھی مگر کیسی حقارت سی

    اداسی پت جھڑوں کی شام اوڑھے راستہ تکتی
    پہاڑی پر ہزاروں سال کی کوئی عمارت سی

    سجائے بازوؤں پر باز، وہ میداں میں تنہا تھا
    چمکتی تھی یہ بستی دھوپ میں تاراج و غارت سی

    مری آنکھوں مرے ہونٹوں پہ یہ کیسی تمازت ہے
    کبوتر کے پروں کی ریشمی اجلی حرارت سی

    کھلا دے پھول میرے باغ میں پیغمبروں جیسا
    رقم ہو جس کی پیشانی پہ اک آیت بشارت سی

    بشیر بدر
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏جولائی 24, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,140
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    کھلا دے پھول میرے باغ میں پیغمبروں جیسا
    رقم ہو جس کی پیشانی پہ اک آیت بشارت سی
    واہ واہ واہ واہ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    لاجواب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر