ہم بھی ترے ہیں عاشق اتنا خیال رکھنا-----برائے اصلاح

الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
-----------
ہم بھی ترے ہیں عاشق اتنا خیال رکھنا
اپنا یہی تعلّق ہم سے بحال رکھنا
------------
دنیا سمجھ نہ پائے کمزوریوں کو تیری
چہرے پہ اپنے یونہی جھوٹا جلال رکھنا
------یا
چہرے پہ تم سجا کر جھوٹا جلال رکھنا
--------------
چھلکے تری مہارت ہر کام سے ہی تیرے
دنیا میں جو بھی کرنا اس میں کمال رکھنا
-----------
جاتی ہے جان جائے جھکنے یہ سر نہ پائے
ایمان کو ہمیشہ مثلِ بلال رکھنا
---------------
ہو ناپسند پینا جھوٹا اگر کسی کا
بہتر ہے پاس اپنے اپنا سفال رکھنا
----------
تم سے گناہ کوئی ہونا اگر ہے سرزد
اس پر فخر نہ کرنا دل میں ملال رکھنا
-----------
لگتی ہیں دل کو باتیں ارشد جو کہہ رہا ہے
ممکن نہیں ہے ان پر کوئی سوال رکھنا
-----------
 
آخری تدوین:
زیادہ تر اشعار ویسے تو ٹھیک ہیں ارشد بھائی، مگر آپ تعقید کی جانب بھی تھوڑی توجہ کیا کیجیے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کا مصرع آپ کے ہی الفاظ کی ترتیب میں معمولی تبدیلی کرنے سے زیادہ رواں ہوجاتا ہے۔ مثلا مطلع کو ہی لیجیے۔

ہم بھی ترے ہیں عاشق اتنا خیال رکھنا
اپنا یہی تعلّق ہم سے بحال رکھنا
پہلے مصرعے کو یوں بھی تو کہا جا سکتا ہے
ہم بھی ہیں تیرے عاشق، اتنا خیال رکھنا

دنیا سمجھ نہ پائے کمزوریوں کو تیری
چہرے پہ اپنے یونہی جھوٹا جلال رکھنا
پہلے مصرعے میں سمجھنا کے بجائے دیکھنا کہیں تو زیادہ بہتر رہے گا
دنیا نہ دیکھ پائے، کمزوریوں کو تیری

چھلکے تری مہارت ہر کام سے ہی تیرے
دنیا میں جو بھی کرنا اس میں کمال رکھنا
اس شعر میں مجھے شتر گربہ لگ رہا ہے، ممکن ہے میرا وہم ہو!

جاتی ہے جان جائے جھکنے یہ سر نہ پائے
ایمان کو ہمیشہ مثلِ بلال رکھنا
پہلا مصرع اگر یوں کہا جائے؟
جاں جاتی ہے تو جائے، پر سر نہ جھکنے پائے
یا پھر
جاتی ہے جان جائے، سر یہ نہ جھکنے پائے

ہو ناپسند پینا جھوٹا اگر کسی کا
بہتر ہے پاس اپنے اپنا سفال رکھنا
بھرتی کا شعر لگتا ہے، اس کو نکال دیں تو بہتر ہے۔

تم سے گناہ کوئی ہونا اگر ہے سرزد
اس پر فخر نہ کرنا دل میں ملال رکھنا
یہاں صیغہ زمان کا مسئلہ ہے۔ یہ کسی کو کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں اس سے کوئی گناہ سرد ہوگا!
دوسرے مصرعے میں فخر کا تلفظ ٹھیک نہیں۔ فخر کی خ ساکن ہوتی ہے۔
تم سے گناہ کوئی، سرزد اگر کبھی ہو
اس پر نہ فخر کرنا، دائم ملال رکھنا

لگتی ہیں دل کو باتیں ارشد جو کہہ رہا ہے
ممکن نہیں ہے ان پر کوئی سوال رکھنا
زبان پر سوال رکھنا تو محاورہ سنا ہے، کسی کی ’’بات پر سوال رکھنا‘‘ شاید ٹھیک نہ ہو۔
ارشدؔ کی ساری باتیں، جب لگ رہی ہوں دل کو
کیسے زباں پہ ہو پھر، ممکن سوال رکھنا
 

الف عین

لائبریرین
درست کہہ رہے ہیں راحل، ان کے مشورے صائب ہیں
رکھنا میں ضمیر 'تم' پوشیدہ ہے، اس لئے تو تخاطب غلط ہے
چھلکے ہنر تمہارا ہر کام سے تمہارے
میرا سوال یہ ہے کہ یہ متبادل مصرع آپ کو ہی کیوں نہیں سوجھتا؟ یا پھر میرے مشورے پر عمل اب تک بھی نہیں کر رہے ہیں؟ کہ ہر ممکن مصرع پر غور کرتے رہیں کہ کون سا بہتر ہے؟
 
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
-------------
( اصلاح کے بعد دوبارا )
------------
ہم بھی ہیں تیرے عاشق اتنا خیال رکھنا
اپنا یہی تعلّق ہم سے بحال رکھنا
------------
دنیا نہ دیکھ پائے کمزوریاں تمہاری
چہرے پہ اپنے یونہی جھوٹا جلال رکھنا
------------
چھلکے ہنر تمہارا ہر کام سے تمہارے
جو کچھ جہاں میں کرنا ،اس میں کمال رکھنا
-----------
جاں جاتی ہے تو جائے ،پر سر نہ جھکنے پائے
ایمان کو ہمیشہ مثلِ بلال رکھنا
-----------
تم سے گناہ کوئی سرزد اگر کبھی ہو
اس پر نہ فخر کرنا، دائم ملال رکھنا
-------------
ارشد کی ساری باتیں جب لگ رہیں ہوں دل کو
کیسے زباں پہ ہو پھر ، ممکن سوال رکھنا
--------------
 
Top