جون ایلیا ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے

شمشاد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 5, 2014

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,069
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
    پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

    ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
    کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے

    کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
    میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے

    کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں‌ جاناں
    ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے

    ہم سے روٹھا بھی گیا ہم کو منایا بھی گیا
    پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے

    جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں‌ کی
    کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے

    جون! دل شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
    اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے
    (جون ایلیا)
     
    • زبردست زبردست × 1
    • غمناک غمناک × 1

اس صفحے کی تشہیر