ہمارا فیملی ادب - تبصرے و تجاویز

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
کوشش کیا کرو اس دھاگے میں بحث کم ہو تاکہ جو کچھ آپ لوگوں نے لکھا ہے وہ زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھا کریں آپ ایک چیز لکھ کر پھر اس پر بحث کرنا شروع کر دیتی ہیں پھر اس طرح آپ کی تحریریں پیچھے چلی جاتی ہیں
 

شمشاد

لائبریرین
تو ایسا کیوں نہیں کر لیتے کہ اپنے فیملی ادب کے لیے دھاگا الگ کر لیں اور اس پر تبصرے اور تجاویز کے لیے الگ سے دھاگا بنا لیں۔ اس طرح ان کی سب تحریریں ایک ہی قطار میں رہیں گی اور دوسرے دھاگے پر گپ شپ بھی ہوتی رہے گی۔
 

نایاب

لائبریرین
واؤوووووووووووووووو
آج تو کمال ہو گیا ۔ ماشاءاللہ
ایک ساتھ تین " بٹیاؤں " کی تین تحاریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر تحریر پر اک کپ چائے پکی ۔۔۔۔۔ ؟
میری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منظور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ماشاءاللہ آپ تینوں اپنے اپنے خیالات تحریر کرنے میں خاصی حد تک کامیاب رہیں ۔۔
لیکن ابھی مزید توجہ کی ضرورت ہے ۔ کوشش جاری رکھو ۔ ان شاءاللہ کامیابی قدم چومے گی ۔۔۔۔۔۔
لکھنے کا شوق رکھنے والے کے لیئے مطالعے کا شوق رکھنا اک لازم امر ہے ۔
مطالعے سے الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے ۔

برتن برتن

ہرگھر میں دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کے ساتھ جو سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے وہ ہے گھر کا کام۔ مثلا برتن دھونا ، گھر کی صفائی کرنا، کھانا پکانا اور سب سے اہم کام کپڑے دھونا۔ اور اگر گھر میں ایک سے زیادہ خواتین ہو تو اور انہوں نے آپس میں کام کو بانٹا بھی نا ہو تو عجیب سی صورت پیش آتی ہے یعنی ہر کوئی دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ شاید وہ پہلے کام کر لیے اور میں کام سے بچ جاؤں۔ یعنی کام چوری کا چانس زیادہ ہوتا(ویسے تو کام چور کسی وقت بھی کام کی چوری کر لیتے ہیں) اور صبح کا کام دن اور دن کا کام رات تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن الحمداللہ ہمارے گھر میں ایسا کوئی چکر نہیں ہے وہ اس لیے کہ گھر کے جو دو مشکل کام ہیں (صبح کی صفائی و برتن اور کپڑے دھونا) ان کے لیے ہمارے بابا جانی نے ایک عدد خالہ کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ (نوٹ : گھر کے کام کے لیے خالہ جی کو اس لیے رکھی ہیں کہ دونوں بھابھیاں اور میں سکول اور کالج چلی جاتی ہیں باقی گھر میں ایک بہن بچتی ہے امی جی کو ہم کوئی کام نہیں کرنے دیتے اس لیے خالہ جی کو منتھلی پر رکھا ہوا ہے) ہماری یہ مشکل آسان کر دیتی ہیں ۔ باقی کے جو کام بچ جاتے ہیں وہ سب نے آپس میں بھانٹے ہوئے ہیں۔ کام اس لیے بانٹے ہیں کہ گھر میں کسی طرح کی کوئی جنگ نا ہو۔ بھابھیاں اور آپی اپنا کام بغیر کسی شور کے وقت پر کر لیتی ہیں۔ لیکن جب میری باری آتی ہے تو نا پوچھیں کیا ہوتا ہے۔ پورے دن میں میرا کام صرف اور صرف دن کے برتن دھونا ہی ہوتا ہے۔ جس کی فکر مجھے کالج کے آخری پیریڈ سے ہی لگ جاتی ہے (اف اللہ) کہ گھر جا کر برتن بھی دھونے ہیں ۔ حالاکہ برتن بہت کم ہوتے ہیں۔ یعنی چار یا پانچ پلیٹیں اور ایک دو گلاس اور ایک عدد دیچکی بھی ہوتی ہے لیکن میں اس کو نہیں دھوتی کیوں کہ وہ مجھ سے ٹھیک طرح صاف نہیں ہوتی۔ میں کالج سے آتے ساتھ ہی برتن دھونا شروع کر دیتی ہوں۔ ماما ڈانٹتی ہیں کہ پہلے کھانا کھا لو کپڑے بدل لو۔ لیکن میں سب سے پہلے برتن دھوتی ہوں۔ اس لیے نہیں کہ مجھے احساس ذمہ دار ہے بلکہ اس لیے کہ میری پلیٹ مجھے دھونا نا پڑے کیونکہ وہ پھر شام کے برتنوں میں شامل ہو جاتی ہے ۔ اور یہ تو میرے اصولوں کے خلاف ہے کہ میں دن کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن دھو دوں۔ ہمارے عمر بھائی چھٹی والے دن بہت دیر سے اٹھتے ہیں ۔ یعنی جب ہم دن کا کھانا کھانے لگتے ہیں تب وہ ناشتہ کر رہے ہوتے ہیں لیکن میں ان کے برتن بھی سائیڈ پر کر دیتی ہوں کیونکہ ناشتہ صبح کیا جاتا ہے اور وہ برتن ناشتے میں شامل ہوتے ہیں میری زمہ داری تو صرف دن کے برتن ہیں ۔ میں کھانے کے بعد چائے پیتی ہوں، چائے بھی میں خود بناتی ہوں(اف تنا کام کرتی ہوں) لیکن وہ چائے کے برتن بھی شام کے برتنوں میں شامل ہوتے ہیں اس لیے میں نہیں دھوتی کیوں کہ میں اصولوں کی پکی ہوں۔
نوٹ: آپ تمام لڑکیوں کو میری نصحت ہے کہ گھر کا کام کیا کریں ورنہ اگلے گھر جا کر کیا کریں گی)

بنت شبیر آپ نے بہت اچھے سے اپنے موضوع " برتن برتن " سے انصاف کیا ۔
آپ کی تحریر مزاحیہ انداز رکھتے جس پیغام کو عام کررہی ہے ۔
وہ پیغام ہر گھر میں موجود " بیٹی " کے لیئے اک بہترین نصیحت ہے ۔
آج کی بیٹی کل کی ماں ہوتی ہے ۔ اور اسے گھر داری بارے علم و تجربہ ہونا اس کے اپنے گھر میں اس کی قدر بڑھا دیتا ہے ۔۔۔۔۔
بنت شبیر کو میری نگاہ سے دس میں سے سات نمبر
اور ڈھیروں دعائیں
اک نمبر املاء کا کٹ گیا ۔۔ آئندہ احتیاط رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔
چلو جلدی سے چائے لاؤ بٹیا جی ۔۔۔۔۔ چینی کم رکھتے


والدین
والدین کائنات کی ایک خوبصورت ترین ہستی ہیں۔ میرے والدین میرے لیے کل کائنات اور زندگی کا سرمایہ ہیں ماں جنت اور باپ اس کا دروازہ ہے ۔ اللہ پاک نے ان ہستیوں کو اتنی عزت بخش دی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی وفات کے بعد جب حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے پہاڑی پر بے فکری سے چل رہے ہوتے ہیں اور ان کا پاؤں پھسل جاتا ہے تو آواز آتی ہے "اے موسیٰ سنبھل کے اب وہ ماں نہیں ہے جو دعائیں کیا کرتی تھی (اللہ تعالیٰ کمی پیشی معاف فرمائے آمین) لیکن ؎آج کی اولاد جب اپنے پاؤں پر چلنا شروع کر دے تو وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی ہستیاں ہیں جنہوں نے ان کو پال پوس کر اس قابل بنایا ہے اگر ہم اپنے والدین کو خوش رکھے گے ان کے بڑھاپے میں ان کا خیال رکھے گئے تو وہ اور اللہ پاک دونوں خوش ہوں گے۔ اور زندگی آسان سے آسان تر ہوتی جائے گی۔ جو لوگ بڑے ہو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی ہستیاں ہیں جنوں نے بچپن میں ان کا اتنا خیال رکھا اچھی سے اچھی چیزیں ، کپڑے، جوتے اور ہر خواہش کا اخترام کیا۔ اب جب وہ بوڑھے ہو گے ہیں تو ہم ان کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے کاموں میں مصروف ہو گے ہیں۔ اور اگر والدین کچھ کہہ دیں تو آگے سے بدتمیزی کرتے ہیں۔ بچپن میں جب وہ ماں سے سوال کرتے تھے تو ماں ان کو جواب دیتی تھی اور اگر ایک سوال کو دس دفعہ کریں تو ماں دس دفعہ جواب دیتی تھی لیکن اب جب ماں ایک سوال ہی دوسری دفعہ کر دے تو آگے سے ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے والدین کی خدمت کریں اسی طرح جس طرح انہوں نے بچپن میں ہم کو پالا۔اگر زندگی میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو والدین کا اخترام اپنے فرائض میں سب سے پہلے ادا کریں

طارم بٹیا آپ نے بہت خوب موضوع چنا ۔
خاصی حد تک کامیاب بھی رہیں اپنے پیغام کو قاری تک پہچانے میں ۔
آپ اپنے مطالعے میں درسی کتب کے ساتھ دیگر کتب بھی شامل کریں ۔
اور جب بھی تحریر لکھیں ۔ اپنی تحریر کو پیراگرافس میں تقسیم کیا کریں ۔
ہر پیرے میں اک واقعہ اک منظر تحریر کیا کریں ۔
تحریر میں جب بھی مقدس و محترم نام آئیں ان کے ساتھ القاب ضرور لکھا کریں ۔
آپ کی املاء نے بھی اک نمبر کاٹنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔۔
آپ کو ملے دس میں سے آٹھ نمبر ۔۔
اور ڈھیروں دعائیں
ماما

میری ماما بہت اچھی ماماہیں میں ماما کا ہر کام میں ہا تھ بٹھاتی ہوں کیونکہ میر ی ماما بہت اچھی ماماہے وہ میرا بہت خیا ل رکھتی ہوں اس وجہ سے میں صفائی بھی کر تی ہوںاورر و ٹی بھی بنا تی ہوں اور بھی بہت سے کا م کر تی ہوں ماما ہم سب سے بہت پیار کر تی ہے وہ ہم سب کا بہت بہت زیا دہ خیا ل ر کھتی ہے ماما پُرے گھر کو اکیلے سنبھا لتی ہے ماما مجھ سے بھی بہت پیار کر تی ہے پر بھائی سے اور چھو ٹے بہن بھائی سے زیادہ پیار کرتی ہیں۔ ماما کےہاتھ میں بہت ذائقہ ہے وہ بہت مزے کے کھانےبناتی ہیں۔ مجھے تو اپنی ماما کے ہاتھ کی ہر چیزبہت پسند ہے۔ میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ ماما کو بھی آرام کا موقع دے سکوں پر میں دے نہیں سکتی۔ کیونکہ جیسے ماما گھر کو سنبھالتی ہیں ویسے میں نہیں کر سکتی۔ کیوں کہ ماما ماما ہی ہوتی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے بہت جلد غصہ آ جاتا ہے۔میں اپنی ماما اور پاپا کو جان سے بھی زیادہ چاہتی ہوں۔ زیادہ تر ہم سب کو ڈانٹ پڑتی ہے پر پر ماما مذاق بھی کرتی ہیں۔ میری ماما سب سے الگ اور پیاری ہیں۔ میں اپنی ماما سے بہت پیار کرتی ہوں بلکےہم سب ہی بہت پیار کرتے ہیں۔ جب ہم سب گھر سے باہر جاتے ہیں تو ماما کو ایک بات بول کر جاتے ہیں" ماما ہم جا رہے ہیں دعا کرنا" تو ماما بولتی ہیں جاؤ اور ساتھ بہت زیادہ دعائیں بھی دیتی ہیں۔ ماما دعا دیں یا بدعا تو عرش میں دعا ہی سمجھی جاتی ہے۔ "ماما" اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسی ہستی دی ہے اور باپ بھی جس کا ہم الل سے لاکھ شکر بھی ادا کریں تو وہ کم ہے میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ دنیا میں ہر کسی کے ماں پاب کو ہمیشہ زندہ رکھے اور ان کو ان کے بچوں سے الگ نا کریں۔ آمین
کیونکہ اگر ماں باپ نہ ہوں تو اور کوئی بھی ماں باپ جیسا پیار نہیں دے سکتا۔ میں خود کوشش کرتی ہوں کہ ماما کے قدموں کے تلے جو جنت ہیں اس کو حاصل کر سکوں پر میں کیا کروں میں ہر بار ناکام ہو جاتی ہوں۔ ماما ہم سب کو ہر تکلیف سے بجاتی ہیں وہ ہم سے بہت پیارکرتی ہیں اور دعائیں دیتی ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں ماں کی دعا جنت کی ہوا۔ یہ تو ہے کہ کبھی کبھی تھوڑا سا غصہ کرتی ہیں لیکن ان کے غصے میں بھی پیار ہوتا ہے اس لیے ماما کی ڈانٹ کھانے کے لیے میں کبھی صفائی ٹھیک سے نہیں کرتی تو کبھی آٹانہیں گوندھتی۔
میں اللہ تعالیٰ سے پھر یہ دعا کرتی ہوں کہ اللہ میرے والدین سمیت ہر انسان کے والدین کو لمبی عمر بلخیر عطا فرمائے آمین
میری ماما دنیا کی سب سے اچھی ماما ہیں اور میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں

مقدس بٹیا
اللہ تعالی آپ کی ماما آپ کے بابا کو سدا سلامت رکھے آمین
آپ نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنے ذاتی خیالات تحریر کیئے ۔
اگر آپ اس تحریر کو " میری ماما " کی بجائے " صرف " ماں " کے عنوان سے لکھیں تو بہت اچھا رہے گا ۔
آپ نے اپنی تحریر کو پیراگرافس میں لکھنے کی اچھی کوشش کی ۔
مجھے یقین ہے کہ آپ مستقبل میں بہت اچھا لکھیں گی ۔
آپ کو ملے ۔۔۔۔۔ دس میں سے سات نمبر ۔۔۔۔۔۔۔
اور بہت ساری دعائیں ۔۔۔۔
طارم نے تو چائے پلائی نہیں آپ ہی پلا دو ۔۔۔
اللہ تعالی آپ سب پر مہربان ہوتے آپ سب کے قلم کو ایسی تحاریر کا منبع فرمائے جو کہ انسانیت کے لیئے رہنما ٹھہریں ۔ آمین
 

شمشاد

لائبریرین
واہ بھئی واہ نایاب بھائی نے تو خوب پرچے چیک کیے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آئی کہ کاٹتے ایک نمبر ہیں لیکن دس میں سے باقی سات رہ جاتے ہیں۔ یہ فارمولا اپنی سمجھ سے بالاتر ہے۔
 

طارم نایاب

محفلین
واؤوووووووووووووووو
آج تو کمال ہو گیا ۔ ماشاءاللہ
ایک ساتھ تین " بٹیاؤں " کی تین تحاریر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
ہر تحریر پر اک کپ چائے پکی ۔۔۔ ۔۔ ؟
میری ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
منظور ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ؟
ماشاءاللہ آپ تینوں اپنے اپنے خیالات تحریر کرنے میں خاصی حد تک کامیاب رہیں ۔۔
لیکن ابھی مزید توجہ کی ضرورت ہے ۔ کوشش جاری رکھو ۔ ان شاءاللہ کامیابی قدم چومے گی ۔۔۔ ۔۔۔
لکھنے کا شوق رکھنے والے کے لیئے مطالعے کا شوق رکھنا اک لازم امر ہے ۔
مطالعے سے الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے ۔



بنت شبیر آپ نے بہت اچھے سے اپنے موضوع " برتن برتن " سے انصاف کیا ۔
آپ کی تحریر مزاحیہ انداز رکھتے جس پیغام کو عام کررہی ہے ۔
وہ پیغام ہر گھر میں موجود " بیٹی " کے لیئے اک بہترین نصیحت ہے ۔
آج کی بیٹی کل کی ماں ہوتی ہے ۔ اور اسے گھر داری بارے علم و تجربہ ہونا اس کے اپنے گھر میں اس کی قدر بڑھا دیتا ہے ۔۔۔ ۔۔
بنت شبیر کو میری نگاہ سے دس میں سے سات نمبر
اور ڈھیروں دعائیں
اک نمبر املاء کا کٹ گیا ۔۔ آئندہ احتیاط رکھنا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
چلو جلدی سے چائے لاؤ بٹیا جی ۔۔۔ ۔۔ چینی کم رکھتے




طارم بٹیا آپ نے بہت خوب موضوع چنا ۔
خاصی حد تک کامیاب بھی رہیں اپنے پیغام کو قاری تک پہچانے میں ۔
آپ اپنے مطالعے میں درسی کتب کے ساتھ دیگر کتب بھی شامل کریں ۔
اور جب بھی تحریر لکھیں ۔ اپنی تحریر کو پیراگرافس میں تقسیم کیا کریں ۔
ہر پیرے میں اک واقعہ اک منظر تحریر کیا کریں ۔
تحریر میں جب بھی مقدس و محترم نام آئیں ان کے ساتھ القاب ضرور لکھا کریں ۔
آپ کی املاء نے بھی اک نمبر کاٹنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ ۔۔
آپ کو ملے دس میں سے آٹھ نمبر ۔۔
اور ڈھیروں دعائیں
بہت بہت شکریہ نایاب بھائی

مقدس بٹیا
اللہ تعالی آپ کی ماما آپ کے بابا کو سدا سلامت رکھے آمین
آپ نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنے ذاتی خیالات تحریر کیئے ۔
اگر آپ اس تحریر کو " میری ماما " کی بجائے " صرف " ماں " کے عنوان سے لکھیں تو بہت اچھا رہے گا ۔
آپ نے اپنی تحریر کو پیراگرافس میں لکھنے کی اچھی کوشش کی ۔
مجھے یقین ہے کہ آپ مستقبل میں بہت اچھا لکھیں گی ۔
آپ کو ملے ۔۔۔ ۔۔ دس میں سے سات نمبر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
اور بہت ساری دعائیں ۔۔۔ ۔
طارم نے تو چائے پلائی نہیں آپ ہی پلا دو ۔۔۔
اللہ تعالی آپ سب پر مہربان ہوتے آپ سب کے قلم کو ایسی تحاریر کا منبع فرمائے جو کہ انسانیت کے لیئے رہنما ٹھہریں ۔ آمین
 

طارم نایاب

محفلین
واہ بھئی واہ نایاب بھائی نے تو خوب پرچے چیک کیے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آئی کہ کاٹتے ایک نمبر ہیں لیکن دس میں سے باقی سات رہ جاتے ہیں۔ یہ فارمولا اپنی سمجھ سے بالاتر ہے۔
انکل جی ایک نمبر تو املا کا کاٹا ہے اور دو اسلئےکے ابھی اور توجہ کی ضرورت ہے سمجھ آئی:rolleyes:
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
تو ایسا کیوں نہیں کر لیتے کہ اپنے فیملی ادب کے لیے دھاگا الگ کر لیں اور اس پر تبصرے اور تجاویز کے لیے الگ سے دھاگا بنا لیں۔ اس طرح ان کی سب تحریریں ایک ہی قطار میں رہیں گی اور دوسرے دھاگے پر گپ شپ بھی ہوتی رہے گی۔
ٹھیک ہے پھر یہ کام آپ ہی کر دیں ایک دھاگہ الگ کر دیں
 

بنت شبیر

محفلین
واؤوووووووووووووووو
آج تو کمال ہو گیا ۔ ماشاءاللہ
ایک ساتھ تین " بٹیاؤں " کی تین تحاریر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
ہر تحریر پر اک کپ چائے پکی ۔۔۔ ۔۔ ؟
میری ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
منظور ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ؟
ماشاءاللہ آپ تینوں اپنے اپنے خیالات تحریر کرنے میں خاصی حد تک کامیاب رہیں ۔۔
لیکن ابھی مزید توجہ کی ضرورت ہے ۔ کوشش جاری رکھو ۔ ان شاءاللہ کامیابی قدم چومے گی ۔۔۔ ۔۔۔
لکھنے کا شوق رکھنے والے کے لیئے مطالعے کا شوق رکھنا اک لازم امر ہے ۔
مطالعے سے الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے ۔



بنت شبیر آپ نے بہت اچھے سے اپنے موضوع " برتن برتن " سے انصاف کیا ۔
آپ کی تحریر مزاحیہ انداز رکھتے جس پیغام کو عام کررہی ہے ۔
وہ پیغام ہر گھر میں موجود " بیٹی " کے لیئے اک بہترین نصیحت ہے ۔
آج کی بیٹی کل کی ماں ہوتی ہے ۔ اور اسے گھر داری بارے علم و تجربہ ہونا اس کے اپنے گھر میں اس کی قدر بڑھا دیتا ہے ۔۔۔ ۔۔
بنت شبیر کو میری نگاہ سے دس میں سے سات نمبر
اور ڈھیروں دعائیں
اک نمبر املاء کا کٹ گیا ۔۔ آئندہ احتیاط رکھنا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
چلو جلدی سے چائے لاؤ بٹیا جی ۔۔۔ ۔۔ چینی کم رکھتے
بہت بہت شکریہ
اور چائے تیار ہے بس آپ کا انتظا ر ہے:coffee1:



طارم بٹیا آپ نے بہت خوب موضوع چنا ۔
خاصی حد تک کامیاب بھی رہیں اپنے پیغام کو قاری تک پہچانے میں ۔
آپ اپنے مطالعے میں درسی کتب کے ساتھ دیگر کتب بھی شامل کریں ۔
اور جب بھی تحریر لکھیں ۔ اپنی تحریر کو پیراگرافس میں تقسیم کیا کریں ۔
ہر پیرے میں اک واقعہ اک منظر تحریر کیا کریں ۔
تحریر میں جب بھی مقدس و محترم نام آئیں ان کے ساتھ القاب ضرور لکھا کریں ۔
آپ کی املاء نے بھی اک نمبر کاٹنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ ۔۔
آپ کو ملے دس میں سے آٹھ نمبر ۔۔
اور ڈھیروں دعائیں


مقدس بٹیا
اللہ تعالی آپ کی ماما آپ کے بابا کو سدا سلامت رکھے آمین
آپ نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنے ذاتی خیالات تحریر کیئے ۔
اگر آپ اس تحریر کو " میری ماما " کی بجائے " صرف " ماں " کے عنوان سے لکھیں تو بہت اچھا رہے گا ۔
آپ نے اپنی تحریر کو پیراگرافس میں لکھنے کی اچھی کوشش کی ۔
مجھے یقین ہے کہ آپ مستقبل میں بہت اچھا لکھیں گی ۔
آپ کو ملے ۔۔۔ ۔۔ دس میں سے سات نمبر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
اور بہت ساری دعائیں ۔۔۔ ۔
طارم نے تو چائے پلائی نہیں آپ ہی پلا دو ۔۔۔
اللہ تعالی آپ سب پر مہربان ہوتے آپ سب کے قلم کو ایسی تحاریر کا منبع فرمائے جو کہ انسانیت کے لیئے رہنما ٹھہریں ۔ آمین
 
Top