ہر حقیقت خیال تھا پہلے۔۔۔۔

عبدالبصیر

محفلین
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فورم کے سب شرکاء کی خدمت میں سلام عرض ہے،

نہ مجھے اُردو مکمل آتی ہے اور نہ یہ میری مادری زبان ہے، شعر و شاعری سے ایک عرصے سے لگاؤ ہے اور ایک عرصے سے اپنی سوچوں کو اشعار کے سانچے میں ڈھالنے کی ناکام کوشش کی، اس فورم پر آتے ہی پہلے "شاعری سیکھیں" کے تھریڈ پر گیا سوچا کچھ رہنمائی ہوجائے گی۔ کچھ دنوں پہلےاپنے خیالات کو اس نیت سے اشعار کی شکل میں لکھا تاکہ کہیں پر لکھ کر محفوظ کرسکوں اور آج سوچا یہاں شئیر کرتا چلوں، سب احباب سے تعارف کے ساتھ ساتھ اشعار میں غلطیاں بھی سامنے آجائے گی، اس لیئے آپ سب کی آراء کا شدت سے انتظار رہے گا۔

ہر حقیقت خیال تھا پہلے
تیرا ملنا محال تھا پہلے

اب نیا روپ بے اثر سا ہے
حُسن تیرا وبال تھا پہلے

ان گنت گزرے روزوشب اب کہ
کتنا آساں وصال تھا پہلے

کنچھے جاتے تھے جانب مقتل
دست قاتل کمال تھا پہلے
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ، بحر و عروض کا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر اصلاح کی خواہش ہے تو اسی زمرے میں پوسٹ کرتے۔
محفل میں خوش آمدید
 
Top