ہر تان ہے دیپک!

ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاا۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
میں بری طرح ممنون ہوں۔
ہاہاہاہااااااا۔۔۔ لاجواب۔۔۔۔ میں بےاختیار ہنس رہا ہوں۔۔۔
اختیار ہوتا تو مجھے بڑا افسوس ہوتا!
اچھا منی اور شیلا کو تو بھلے چھوڑیے لیکن"حشرات الارض" سے متعلق گیتوں سے یوں بےرخی اچھی نہیں۔۔۔۔
بے رخی کون کافر کر رہا ہے، سرکار؟ ہے یوں کہ
ہم اپنی لیاقت کی بابت ہرگز کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں۔
باقی یہ نیرنگ خیال بھائی کہ آپ کی داد میرے لیے بہت معنیٰ رکھتی ہے۔
عرصے کے بعد ایسی جاندار اور اصیل تحریر پڑھنے کو ملی
مجھے لکھنے ہی میں عرصہ لگ گیا۔ آپ خود کو بےقصور سمجھیے!
اتنی اچھی اور عمدہ تحریر پر مبارکباد قبول فرمائیے
بہت شکریہ۔ :redheart:
 
آخری تدوین:
اچھے لوگ اچھی طرح ممنون ہوتے ہیں۔
یہ بھی خوب رہی۔ ارے اچھے لوگ تو ممنون ہوتے ہی نہیں، جاسمن آپی۔ یہ تو مجھ جیسے گنہگار ہوتے ہیں جن کی گردنوں کے طوق انھیں پیوندِ زمین رکھتے ہیں۔
اور باقی بے معنی ہے؟
یقین جانیں میں کنواریوں کی طرح شرما گیا ہوں۔ کتنی وہ ہیں آپ!
 

نور وجدان

لائبریرین
موصوف کی شاعری پڑھی تُو شاعر لگے۔ جب نثر پڑھی تو نثر نگار اب کہ مزاح نگاری میں یہی یکتاء ! تینوں انگلیاں گھی میں ! واہ
 
تینوں انگلیاں گھی میں ! واہ
باقی دو انگلیوں سے عدم التفات کی کوئی خاص وجہ؟
اب ایک انگلی اور ایک انگوٹھا باقی ہے دیکھیے وہ کب گھی سے سیراب ہوں گے۔
میرا خیال ہے کہ شیخ صاحبہ جس مقامِ محمود سے اس فقیر کے مضامین ملاحظہ فرماتی ہیں وہاں سے چھنگلیا دکھائی نہیں دیتی۔ باقی رہا انگوٹھا تو وہ انگلیوں میں محسوب نہیں!
مذاق برطرف، حوصلہ افزائی کا شکریہ، نور سعدیہ شیخ !
بہت خوب فکاہی تحریر ہے، راحیل صاحب!
متشکرم، بھائی۔
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
سبحان اللہ، ایک طویل عرصہ بعد اچھی تحریر پڑھنے کو ملی، بلکہ ہم نے تو آئندہ کے لیئے اپنی برقی بیاض میں محفوظ بھی کر لی۔ بہت دعائیں! :) :)
 

نکتہ ور

محفلین
ایک خاتون یوں نغمہ سنج ہوتی ہیں:
گڈی تو منگا دے، تیل میں پوانی ہاں!
اس گیت کی حقیقی معنویت سے کوئی تب تک آگاہ نہیں ہو سکتا جب تک اس نے کم از کم بی اے تک معاشیات نہ پڑھی ہو۔ ہم تو یہاں تک سمجھتے ہیں کہ ورلڈ اکنامک فورم کے سیمیناروں میں اس نغمے کو تھیم سونگ کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ تاہم کند ذہن افراد کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ نغمہ نگار نے دراصل اس گیت میں رواں صدی کے انتہائی خطرناک تیل کے بحران کی جانب اشارہ کیا ہے۔ شاعر چونکہ عصری تقاضوں پہ نہایت گہری نگاہ رکھتا ہے اور تیل کے بحران کے نتائج بھی اپنی چشمِ بصیرت سے دیکھ رہا ہے، لیکن براہِ راست بات کر کے ذلیل بھی نہیں ہونا چاہتا سو وہ بالواسطہ طور پہ بیان کرتا ہے کہ اس زمانے میں عشق کرنے والے تارے توڑنے کی بجائے تیل ڈلوانے کے بہانے محبوب کو پھسلاتے ہیں۔ اللہ اکبر!
واضح رہے کہ گیت کی کلاسیکی روایت میں عورت عاشق ہوتی ہے۔ اس روایت کو زندہ کر کے بھی شاعر نے رجعت پسند مردوں کے منہ پر وہ طمانچہ رسید کیا ہے کہ الامان!
مگر کیا کیجیے کہ پرانے لوگ ابھی تک سعدیؔ کے اس شعر میں کھوئے ہوئے ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے:
چناں قحط افتاد اندر دمشق---
کہ یاراں فراموش کردند عشق​
یعنی دمشق میں ایسا کال پڑا کہ لوگ عاشقی معشوقی وغیرہ بھول گئے۔ کس قدر بھونڈا مضمون ہے۔ ایک معاصر شاعر نے غالباً اسی لیے سوال کیا ہے کہ
میں اپنے پیٹ کا دوزخ بھروں کہ پیار کروں؟​
بات بھی ٹھیک ہے۔ ان قدامت پرستوں کو چاہیے کہ وہ آنکھیں کھولیں،دورِ حاضر کے بحرانوں پہ غور کریں اور گیت نگار کے فن کی داد دیں کہ کس طرح اس نے پیٹ جیسے قبیح اور غیرشاعرانہ مضمون سے دامن بچاتے ہوئے گاڑی اور تیل کے سفری الفاظ کے ذریعے اپنے عہد کی ترجمانی کی ہے۔ بقولِ غالبؔ:
تو اے کہ محوِ سخن گسترانِ پیشینی
مباش منکرِ غالبؔ کہ در زمانۂِ تست​
(اے تُو کہ پرانے سخنوروں میں کھویا ہوا ہے، غالبؔ کا منکر مت ہو جائیو جو تیرے زمانے میں ہے!)
ہم یہیں پہ بات ختم کر دینا چاہتے ہیں لیکن ہمیں خوف ہے کہ بعض کورسواد اب بھی معاصر گیتوں کی معنویت کا انکار کر کے اپنی حماقت کا ثبوت دینے سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا ہم ایک آخری مثال اور پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اگر وہ دل میں ذرہ بھر بھی خوفِ الٰہی رکھتے ہیں تو فوراً اپنے موقف سے رجوع کر لیں گے۔
حالات حاضرہ
 

سیما علی

لائبریرین
اس مضمون کے اختتام پہ ہم اپنی بے بضاعتی کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے زمانے کے گیتوں میں مثلاً شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی وغیرہ کو جو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے اس پہ گفتگو کرنا شاید سب سے زیادہ ضروری تھا۔ مگر ہم اپنی لیاقت کی بابت ہرگز کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں۔ اس سے آگے ہمارے پر جلتے ہیں۔ بلکہ کانوں سے بھی دھواں نکلنے لگتا ہے!
ماخذ: دل دریا
واہ کیا کہنے ۔سچ کہا کہ کانوں سے دھواں نکلنے لگتا ہےسر کم اور بے ہنگمی زیادہ ہے ۔۔۔
کہاں فیض صاحب کا عشق ؀
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا
اب تو سمجھ سے بالا تر کہ
عشق عبادت سے سفر کرتا ہوا کمینہ کب بن گیا ۔ہمیں نہیں لگتا ہے کہ دنیا میں کوئی جذبہ ایسا ہو جو اِس قدر بدنام ہوا ہو۔ آج عشق کیسے ہوتا ہے اور عاشقوں کا کیا حال ہے ۔۔عشق کمینہ ہماری ثقافت نہیں ہے۔
بےدردی عشق نگوڑا
سب کا دل اسنے توڑا
ہر عاشق عشق سے ہارا
ہمکو بھی عشق نے مارا
آئے چین کہیں نا
کر دے مشکل جینا عشق کمینہ
کر دے مشکل جینا عشق کمینہ
 
Top