ہجر ِ آتش فشاں بھی آ پہنچا

ہجرِ آتش فشاں بھی آ پہنچا
غم کا سیل ِ رواں بھی آ پہنچا

دیکھ کر شعلہ ء جنوں کی چمک
گرد ِ رہ کا دھواں بھی آ پہنچا

اپنے یوسف کو اپنے ساتھ لئے
یاد کا کارواں بھی آ پہنچا

قیس کی وحشتیں دلوں میں ہیں
دشت آخر یہاں بھی آ پہنچا

اب تجھے ڈھونڈنے کہاں جائیں
راہ میں لا مکاں بھی آ پہنچا

شام ِ ہجراں کی خلوتوں میں غزل
درد سا مہرباں بھی آ پہنچا

( سیدہ سارا ہاشمی غزل)

۔
 
بٹیا رانی، یہ سچ ہے کہ کچھ صلاحیتیں جن سے ہم محروم ہیں، احباب کو اس پر کمال درجہ قادر پاتے ہیں تو جانے کیوں بجائے حسد کرنے کے ہم عش عش کر اٹھتے ہیں۔ شاعری، ڈیزایننگ اور کوکنک اس کی چند مثالیں ہیں۔ :)
 
سعود بھیا آپ کو اک بات بتاؤں آپ شاعر ہوں نا ہوں لیکن آپ کے الفاظ سے لکھنوی اردو کے کسی مہان قلم کاراور مستند ادیب کی خوشبو آتی ہے، مجھے یقین ہے کہ اک دن بھارت کی سرزمین سے ایک عظیم مسلم ادیب میرزا رجب علی بیگ سرور جیسی نثر لکھ کرنام پیدا کرے گا:)
 
سعود بھیا آپ کو اک بات بتاؤں آپ شاعر ہوں نا ہوں لیکن آپ کے الفاظ سے لکھنوی اردو کے کسی مہان قلم کاراور مستند ادیب کی خوشبو آتی ہے، مجھے یقین ہے کہ اک دن بھارت کی سرزمین سے ایک عظیم مسلم ادیب میرزا رجب علی بیگ سرور جیسی نثر لکھ کرنام پیدا کرے گا:)

اللہ کی نیک بندی (اور سعود بھیا کی دلاری بٹیا رانی) بھیا کو خجل کرنے کے لئے اتنا کچھ لکھنا ہی تھا تو اپنا کوئی استعمال شدہ دوپٹہ بھی پیغام کے ساتھ منسلک کر دیتیں کہ انگلی پر لپیٹ کر لجانے کا سامان ہو جاتا۔ :)

ہمیں نہیں لگتا کہ اب کوئی دوسرا مرزا رجب علی بیگ سرور پیدا ہو سکے گا۔ اور بفرض محال ایسا ہوا بھی تو اس کا نام غریب الغرباء فقیر الفقراء قدوۃ المساکین الشیخ سعود عالم خان ابن الحاج سعید احمد خان الہندی عفی عنہ تو ہرگز نہیں ہوگا۔ :)

ہم بھی گاؤں کی دھول مٹی سے لتھڑے، اسی کتابی اردو کی توقع لئے لکھنؤ جا پہونچے تھے۔ وہاں دن کے اجالے میں اور رات میں اسٹریٹ لائٹ کی چھاؤں میں دو برس تک مسلسل لکھنوی اردو کی تلاش جاری رکھی لیکن نتیجہ صفر نکلا۔ لہٰذا اس توقع میں لکھنؤ کبھی مت جائیے گا کہ وہاں لوگ شستہ اردو کے شیریں بول گھول کر آپ کے کانوں میں انڈیلتے رہیں گے۔ آپ کو بڑی مایوسی ہو گی۔ :)
 
بہت خوب اچھی غزل ھے سارا بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،ھجر ِ اتش فشاں،، کی ترکیب کی صحت کے بارے محترم عبید صاحب یا محترم وارث صاحب بتا سکیں گے کہ یہ ترکیب درست ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشت آخر یہاں بھی آ پہنچا ، خوب ھے ۔۔۔۔۔ خوش آباد
 
ہجرِ آتس فشاں کی ترکیب تو درست ہے، مجھے البتہ ’گردِ رہ کا دھواں‘ ضرور عجیب سا لگا۔

چاچو، "گردِ رہ کا دھواں" کی ترکیب میں کوئی چیز عجیب لگی ہے یا پھر اس کی معنویت میں؟ اگر ہم غلطی نہیں کر رہے تو اس کے مماثل ہندی میں ایک ترکیب "گو دھر" مستعمل ہے۔ گو دھر در اصل غروب آفتاب کے وقت کو کہا جاتا ہے۔ اور اس کی تخلیق کچھ یوں ہوئی کہ شام میں جب چرواہے اپنی گایوں یا دیگر مویشیوں کو ہانک کر گاؤں کی شاہراہ سے ہوتے ہوئے گھر کو لوٹتے تھے تو اس سے جو دھول اٹھتی تھی اس کو گو دھر یعنی گایوں کے جھنڈ کے چلنے سے اٹھنے والا غبار کا بادل کہا جاتا تھا۔ ایسی تمثیل اکثر کرشنا کے گائے چرانے سے متعلق ہندی اشعار میں کثرت سے ملتی ہے۔
 
میں برادر مخترم ابن ِ سعود صاحب کی رائے سے متفق ھوں

آپ کی محبت ہے کہ آپ ہمارے غیر مولود صاحبزادے کی رائے سے متفق ہیں۔ :) در اصل سعود ہمارا نام ہے جبکہ ہمارے والد صاحب قبلہ کا نام سعید ہے۔ ویسے آپ پہلے شخص نہیں ہیں جن سے یہ مغالطہ ہوا، اکثر محفلین غچہ کھا جاتے ہیں ہمارے نام کو لیکر۔ کچھ ہمیں ابن سعود کہتے ہیں اور کچھ سعید بھائی کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ہمارے نام کو لیکر ابھی حال ہی میں ایک دلچسپ واقعہ سامنے آیا کہ ابن صفی مرحوم کی آفیشیل سائٹ پر ہماری ایک تک بندی موصوف کے ایک ہم عصر ابن سعید کے نام سے شائع ہو گئی تھی۔ :)

خیر ناموں میں کیا رکھا ہے۔ در اصل ہم نے تو سرے سے کوئی رائے ہی نہیں دی تھی۔ ہم نے تو چاچو سے تفصیل جاننی چاہی تھی کہ ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اس ترکیب کو لیکر۔ :)
 
جگ جگ جئیں برادرم سعود ابن سعید صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے آپ کا نام ازبر ھو چکا ، آئیندہ کیا مجال کہ غلطی کر پاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایتنی محبتیں بکھیرنے والے زندہ دل ،، سعود اب سعید صاحب ،، تو محفل کی جان ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور برادر محترم یہ سیکھنے سکھانے کا عمل ساتھ ساتھ چلتا رھنا چاھئے کہ اسی سے علم اورسخن کی ترویج ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ سبحان تعالی سدا خوش آباد و خوش مراد رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top