ھاں یہ ممکن ہے!!!

ابوشامل

محفلین
برادر شاکر القادری! سافٹ ویئر میں نے کچھ دن کی محنت سے ڈاؤن لوڈ کر ہی لیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس میں اردو کے مخصوص الفاظ جیسے "ے، ژ، ڑ" وغیرہ میں نہیں لکھ پا رہا۔ ان کو لکھنے کا طریقہ (اگر ہے تو) بتا دیں۔ شاکر بھائی کی آمد تک اگر کوئی اور ساتھی میری مدد کرنا چاہے تو میں مشکور ہوں گا۔
 
پہلے تو یہ بتایا جائے کہ یہ انسٹال کس طرح کرنا ہے۔۔۔۔؟ پہلی دفعہ تو نجانے کیسے انسٹال ہوگیا تھا مجھ سے، اب تو سمجھ ہی نہیں آتا۔۔۔۔۔۔
 

ابوشامل

محفلین
یقین کیجیے میر عماد جیسا بہترین سافٹ ویئر میں نے آج تک نہیں‌ دیکھا، یہ تو کیلک سے کہیں زیادہ آسان سافٹ ویئر ہے، بس ذرا سی محنت درکار ہے۔

مجفل پر ناکام منصوبوں‌ پر تو بہت شور مچایا جاتا رہا اور تعریف میں‌ زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے رہے (میرا مقصد کسی خاص منصوبے کی جانب اشارہ نہیں، نہ ہی کسی کی دل آزاری مقصود ہے) اور اردو کی دنیا میں‌ انقلاب برپا ہونے کی نویدیں سنائی گئيں لیکن اتنے اہم سافٹ ویئر کے منظر عام پر آنے کے باوجود اس کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کا یہ حقدار تھا۔

اس حوالے سے میرا ایک سوال یہ ہے کہ بجائے یونیکوڈ فانٹس پر کام کرنے کے کیا اس طرح کی کوئی پلگ‌ ان تیار ہو سکتی ہے؟ جس میں‌ نستعلیق اردو کی مکمل سپورٹ ہو اور میر عماد کی طرح تطویل، کشیدہ اور جابجائی کی جا سکے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ یا پھر اسی پلگ‌ ان کو modify کر کے کوئی کام کیا جا سکتا ہے؟ متعلقہ حضرات کچھ بتائیں۔

آخر میں میں‌ اس اہم دریافت پر برادر شاکر القادری کا بے حد شکر گذار ہوں جن کی بدولت میں اس شاندار سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کر سکا۔ اللہ انہیں‌ اس کا اجر دے۔
 

ابوشامل

محفلین
ایک نمونہ یہ ملاحظہ کیجیے، اس میں‌ تطویل اور کشیدہ کرنے کے ساتھ ساتھ حروف حتیٰ کہ نقاط تک کی جابجائی کی جا سکتی ہے، ذیل کا نمونہ صرف دو منٹ کی محنت کا حاصل ہے:

miremadsampleof6.jpg
 
بہت خوب لکھا ہے ابوشامل بھائی!
واقعی یہ ایک لاجواب سافٹ ویئر ہے۔۔۔ مجھے آج ہی اس کی سی۔ڈی کا تحفہ موصول ہوا ہے۔ ابھی استعمال کرکے دیکھا تو اس کی حقیقت جانی۔۔۔۔ بے مثال دریافت ہے یہ۔۔۔۔۔ جزاک اللہ خیرا شاکر القادری صاحب!
 

نبیل

تکنیکی معاون
السلام علیکم،

ابوشامل، ابھی تک تو دوست اس سوفٹویر کو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کرنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ آپ کا پیش کیا گیا نمونہ اچھا ہے۔ کیا اس سوفٹویر میں اردو کے حروف جیسے ٹ، ڑ، ڈ وغیرہ کی سپورٹ ہے؟ اردو کے لیے یہ سوفٹویر اسی صورت میں کارآمد ہو سکتا ہے جب اس میں اردو بغیر کسی رکاوٹ کے لکھی جا سکے۔

ابھی میں نے اس سوفٹویر پر تحقیق نہیں کی، اس لیے اس میں یونیکوڈ کے استعمال کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

والسلام
 

ابوشامل

محفلین
السلام علیکم،

ابوشامل، ابھی تک تو دوست اس سوفٹویر کو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کرنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔


وعلیکم السلام نبیل بھائی!
میرے خیال میں کافی دن ہو گئے ہیں اور دلچسپی رکھنے والے اکثر ساتھیوں نے اس کو "چکھ" تو ضرور لیا ہوگا :D

آپ کا پیش کیا گیا نمونہ اچھا ہے۔

نمونے کی پسندیدگی کا شکریہ


کیا اس سوفٹویر میں اردو کے حروف جیسے ٹ، ڑ، ڈ وغیرہ کی سپورٹ ہے؟ اردو کے لیے یہ سوفٹویر اسی صورت میں کارآمد ہو سکتا ہے جب اس میں اردو بغیر کسی رکاوٹ کے لکھی جا سکے۔

ارے نبیل بھائی یہی تو رونا ہے کہ یہ سافٹ ویئر اردو کا نہیں بلکہ فارسی کا ہے اور ہمیں ڑ، ٹ اور ڈ بنانے کے لیے "جُگاڑ" لگانا پڑتی ہے یعنی ط کا چھوٹا کر کے ان حروف کے اوپر بٹھانا۔ اسی لیے کہہ رہا تھا کہ اگر کوئی ساتھی اس میں modification کرکے اسے اردو کے لیے مکمل قابل استعمال بنادے تو یہ اردو پر احسانِ عظیم ہوگا۔
 

الف عین

لائبریرین
بھائی لوگو۔ جنھوں نے اس کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، وہ اس کا فانٹ مجھے ای میل کر دیں تو دیکھتا ہوں کہ اس میں اردو سپورٹ کا اضافہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔
 
استاذ من! یہ ایک طرح سے پلگ ان کے طور پر کام کرتا ہے۔ جب تک آپ اسے کھولیں گے نہیں تب تک ورڈ یا نوٹ پیڈ کی فونٹ ڈائریکٹری میں اس کے فونٹس نظر نہیں آئیں گے۔
باقی تفصیل شاید شاکر القادری صاحب ہی بتائیں!
 

شاکرالقادری

لائبریرین
راہبر نے کہا:
استاذ من! یہ ایک طرح سے پلگ ان کے طور پر کام کرتا ہے۔ جب تک آپ اسے کھولیں گے نہیں تب تک ورڈ یا نوٹ پیڈ کی فونٹ ڈائریکٹری میں اس کے فونٹس نظر نہیں آئیں گے۔
باقی تفصیل شاید شاکر القادری صاحب ہی بتائیں!

ہم اردو سافٹ ویئرز میں نستعلیق کے خواب دیکھنے والے لوگ شاید کبھی لیلائے تعبیر سے ہم آغوش ہو سکیں

ابوشامل بھائی آپنے میرے منہ کے بات لے لی
اور میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا

دھاگے کے حذف کیے جانے پر میں عجیب طرح کی شرمندگی، خفت اور احساس جرم سے دوچار تھا اور سوچتا تھا کہ کیا اردو کو اپنی قومی زبان ماننے والی قوم اسی طرح چوری چکاری کے سافٹ ویئرز سے کام چلاتی رہے گی اور رومن اردو لکھ لکھ کر اپنی قومی زبان کے الفاظ کے ہجے بھی فراموش کردے گی
تف ہے ہم پر
ایرانیوں کے اپنی قومی زبان کے لیے تعصب ﴿جسے میں قابل تحسین سمجھتا ہوں﴾ کے نتیجہ میں کلک، میرعماد، نامہ نگار، مریم نویس، خطاط ، خطاط تک اور خوش نویس جیسے عظیم سافٹ ویئر وجود میں آئے اگر اییرانی چاہتے تو ان سافٹ ویئرز میں محض چند حروف کا اضافہ کر کے اپنے سافٹ ویئرز کا مارکیٹ بر صغیر پاک و ہند تک پھیلا سکتے تھے لیکن آفرین ہے ان کے تعصب قومی پر
اور افسوس ہے ہماری بے حسی پر
ہمارے سافٹ ویئر انجینیئر اگر اپنی قومی زبان کے لیے ایک بھی ایسا سافٹ ویئر تیار کردیں تو ہم سمجھیں گے کہ انہوں نے اپنے قومی تشخص کے ساتھ کچھ نہ کچھ وفا کی ہے
میں ایک مرتبہ پھر برادرم محسن حجازی کی خدمت میں عرض کرونگا کہ وہ آگے بڑھیں اور ایم ایس ورڈ کے لیے ایسا پلگ ان تیار کر لیں اور تاریخ میں اپنا نام رقم کروا لیں پوری قومم اور اردو دان طبقہ ان کا ممنون ہوگا

محترم اعجاز اختر

جب تک آپ اس پلگ ان کو انسٹال کر کے فعال حالت میں نہیں لے آئیں گے تب تک ان فونٹس کے ذریعہ لکھا ہوا متن ٹیکسٹ ایڈیٹر میں نظر نہیں آئے گا اس لیے صرف فونٹ کی بات نہیں آپ کسی طرح اس پروگرام کو انسٹال کرلیں
گو کہ اس طرح کے قابل استعمال ببنائے گئے سافٹ ویئرز کا حصول آپ کو پسند نہیں

محترمہ مہوش علی بہن نے بھی اس سافٹ ویئر کی خریداری کی خواہش ظاہر کی تھی
میری تجویز تو یہ ہے کہ بجائے خریداری کے اس مقصد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے اس رقم چندہ کے ذریعہ اکٹھی کر کے سافٹ وییئرز کے ماہریں اگر مفت کام نہیں کرنا چاہتے تو انہیں فراہم کر کے اردو کے لیے ایسا ہی معیاری پلگ ان لکھوایا جائے اور اس کے حقوق محفل کے نام پر حاصل ککیے جائیں
 

جیسبادی

محفلین
عجیب سی بحث ہو رہی ہے۔ محسن حجازی نے بذاتِ کود اسی چوپال پر بتایا تھا کہ خوبصورت لکھائ کا مصنع بنانا مشکل نہیں۔ جو کام ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی جگہ اردو لکھنا ممکن ہو، چاہے نوٹ پیڈ ہو، چاہے لینکس پر ہو، چاہے آپ کا سیل فون ہو۔ یکرمزی (یونیکوڈ) کے حوالے سے جو لوگ محنت کر رہے ہیں وہ ان چیزوں کو ممکن بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔
 

محسن حجازی

محفلین
شاید میری بات کچھ عجب معلوم ہو لیکن جو کچھ بھی کیا جارہا ہے وہ ٹائپوگرافی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یا یوں کہہ لیں کہ ٹائپوگرافی اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔
کلک کی مثال کچھ ان پیج والی ہی ہے۔ نوری نستعلیق کے ترسیمہ جات مرزا احمد جمیل نے لکھے۔ یہ چوری ہوئے، اور اس کے اوپر کئی غلاف چڑھائے گئے جن میں سرخاب، شاہکار اور ان پیج شامل ہیں۔
کلک کا بنیادی کام بھی کسی ایک کا ہے اس کے اوپر کئی غلاف دیے گئے جن میں کلک، چیپل اور میر عماد شامل ہیں۔
پھر یہ ایک فونٹ پر مشتمل نہیں۔ بے شمار فونٹ شامل ہیں جن میں کہ ٹکڑے کٹے ہوئے ہیں۔
پاک نستعلیق کی تیاری کے دوران میں کلک کو دیکھ چکا تھا اور اس بارے میں منصوبہ ہھی بنا چکا تھا لیکن صد افسوس مجھے دوسری طرف لگا دیا گیا۔
اس کے بارے میں تناظری تجزیاجات بھی شروع کیے گئے لیکن۔۔۔۔

جدوں عشقے دا ول سانوں آیا سجن پردیسی ہو گیا۔۔۔
(جب ہمیں عشق کرنا آیا، محبوب دور ہو گیا)

مطلب مشینی۔۔۔۔

خیر۔۔۔ نوکر کی تے نخرہ کی۔۔۔

مجھے اعتراف ہے کہ میں اردو کے لیے کوئی نمایاں کردار ادا نہ کر سکا۔۔۔۔


ورڈ میں پلگ ان تو ایک طرف، میں نے مائیکروسافٹ سے اس قسم کے کرتب کرنے کے لیے ٹائپوگرافی میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے بحث بھی چھیڑ رکھی ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
السلام علیکم،

دراصل دوست ٹائپوگرافی ٹیکنالوجی اور کمپوزنگ سوفٹویر میں فرق نہیں کر پاتے۔ لیکن اس سے ان کی اس خواہش کا اظہار ضرور ہوتا ہے کہ وہ اردو کے خوبصورت فونٹس دیکھنا چاہتے ہیں جن کے ذریعے اعلی کوالٹی کے اردو سوفٹویر اور ویب سائٹس بنانا ممکن ہو جائے۔

دوسری جانب شاکرالقادری صاحب کی بات نے مجھے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ واقعی ابھی تک پاکستانیوں نے آئی ٹی میں اردو کے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اردو کمپوزنگ کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سوفٹویر انپیج انڈیا میں ڈیویلپ ہوا ہوا ہے۔ ایرانیوں نے فارسی نستعلیق اور خطاطی کے نہایت عمدہ سوفٹویر تیار کیے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق ایران وسائل اور معیار تعلیم میں پاکستان سے زیادہ آگے نہیں ہے لیکن آئی ٹی کے میدان میں اپنی زبان کی خدمت میں ایرانی پاکستانیوں سے کہیں آگے ہیں۔

جہاں تک کلک یا میرعماد وغیرہ میں اردو کے missing حروف شامل کرنے کا تعلق ہے تو یہ قریب قریب ناممکن ہے۔ اس کے لیے نہ صرف ان سوفٹویر میں استعمال ہونے والی گلفس میں ردوبدل کی ضرورت ہوگی بلکہ اس کے لیے خود ان سوفٹویر میں ترمیم کی ضرورت بھی ہوگی۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ان سوفٹویر کا سورس کوڈ مہیا ہو اور ایسا ہونا ناممکنات میں سے لگتا ہے۔
والسلام
 

شاکرالقادری

لائبریرین
نبیل بھائی نے لکھا ہے

دراصل دوست ٹائپوگرافی ٹیکنالوجی اور کمپوزنگ سوفٹویر میں فرق نہیں کر پاتے۔ لیکن اس سے ان کی اس خواہش کا اظہار ضرور ہوتا ہے کہ وہ اردو کے خوبصورت فونٹس دیکھنا چاہتے ہیں جن کے ذریعے اعلی کوالٹی کے اردو سوفٹویر اور ویب سائٹس بنانا ممکن ہو جائے۔
برادر مکرم!
یہ باات نہیں کہ تائپوگراافی اور کمپوزنگ کے سوفٹ ویئر میں فرق نہیں کیا جا رہا بات یہ ہے کہ جب ھم انٹر نیٹ سے متصل ہو جائیں تو ہمارا رابطہ زمین سے منقطع تو نہیں ہو جاتا اور کمپوزنگ سوفٹ ویئرز کی ضرورت ایک زمینی حقیقت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹر نیٹ کی دنیا میں آج جو کچھ اردو میں ہو رہا ہے وہ اردو کے ساتھ عشق کی حد تک قلبی تعلق رکھنے والے لوگوں کی کاوشون کا مرہون منت ہے اور الحمد للہ آج ہم انٹر نیٹ پر ان کی سرتوڑ کاوشوں کے ثمرات دیکھ رہے ہیں میں ایسے لوگوں کی ہمت مردانہ کو سلام پیش کرتا ہوں
میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ کمپوزنگ کی دنیا میں بھی اردو نستعلیق ہماری بنیادی ضرورت ہے کتابت اور خطاطی کے فن سے متعلق لوگوں کو تو کمپیوٹر نے عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے اور لوگ اس فن سے دور ہوتے چلے جا رہے ہے بلکہ مستقبل قریب میں شاید ایسے لوگ ناپید ہو جائیں
تو کیا ہماری قومیی ثقافت کا اتنا اہم ورثہ یونہی مشین کی نذر ہو جائے گا
ہے دل کے لییے موت مشینوں کی حکومت

اہل ایران نے اپنی اسی ثقافت کو خطاطی کے سافٹ ویئر کے ذریعہ کسی نہ کسی حد تک محفوظ کر لیا ہے اور دن بدن اس میں بہتری لاتے جا رہے ہیں
اہل ایران کو بھی اس بات کا علم ہے کہ فارسی میں صرف چند علامات کے اضافہ سے اردو سپورٹ مہییا کی جا سکتی ہے لیکن انکا اپنی قومی زبان کے بارے میں احساس برتری انہیں اس بات پر قائم رکھے ہوئے ہے کہ وہ اپنے سوفٹویئر میں اردو کی سپورٹ شامل نہیں کرتے حالانکہ اگر وہ ایسا کر لیں تو ان کے سوفٹ ویئر کی منڈی ایران سے نکل کر بر صغیر پاک و ہند تک پھیل سکتی ہے
دوسری طرف ہم ہیں کہ ہم اردو کو اپنی قومی زبان مانتے ہیں لیکن اس کے لیے نہ تو سرکاریی سطح پر کوئی کاوش کی جاتی ہے اور نہ ہی نجی سطح پر اردو کے لیے سب سے زیادہ آسان اور کثییرالاستعمال سافٹ ویئر ان پیج ہندوستان میں ڈیولپ ہوا اور آج تک ہم اسے چوری کر کے استعمال کر رہے ہیں

محسن حجازی نے لکھا ہے

کلک کی مثال کچھ ان پیج والی ہی ہے۔ نوری نستعلیق کے ترسیمہ جات مرزا احمد جمیل نے لکھے۔ یہ چوری ہوئے، اور اس کے اوپر کئی غلاف چڑھائے گئے جن میں سرخاب، شاہکار اور ان پیج شامل ہیں۔
کلک کا بنیادی کام بھی کسی ایک کا ہے اس کے اوپر کئی غلاف دیے گئے جن میں کلک، چیپل اور میر عماد شامل ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا جمیل احمد نے نوری نستعلیق کے ترسیمے لکھے
اور پھر ان پر غلاف چڑھتے گئے
شاہکار
سقراط
بقراط
اور ان پیج
انہی ترسیمون کی بنیاد پر استوار کیے گئے
افسوس تو اسی بات کا ہے کہ
ہم لوگ کسی چیز کو چرانے اور اس پر جھوٹ کے گہرے رنگ چڑھانے کے لیے اتنی زیادہ محنت کرتے ہیں کہ اگر اس سے کچھ کم محنت کر لیں تو بھی نئی تخلیق سامنے آ سکتی ہے

ایرانیوں نے
کلک ، نامہ نگار، خوش نویس، مریم خطاط، خطاط تک، اور میر عماد نامی سافٹ ویئر تیار کیے ہیں
میر عماد ایراان کے مشہور خطاط
میر عماد الحسنی
کےے نام پر بنایا گیا ہے اور اس میں شامل فونٹس انہی کی خطاطی کی بنیاد پر استوار کیے گئے ہیں

پھر یہ ایک فونٹ پر مشتمل نہیں۔ بے شمار فونٹ شامل ہیں جن میں کہ ٹکڑے کٹے ہوئے ہیں۔
پاک نستعلیق کی تیاری کے دوران میں کلک کو دیکھ چکا تھا اور اس بارے میں منصوبہ ہھی بنا چکا تھا لیکن صد افسوس مجھے دوسری طرف لگا دیا گیا۔

کلک اور نامہ نگار میں تو واقعی یہ فونٹس کئی فونٹ فائلوں پر مشتمل ہیں لیکن آپ کو خوشگوار حیرت ہو گی کہ مییر عماد میں ہر گز ایسا نہیں میں عماد میں ہر طرز تحریر کے لیے صرف ایک فونٹ فائل ہے جو ونڈوز کی فونٹ ڈائریکٹری میں انسٹال ہو جاتی ہے لیکن ایم ورڈ یا ورڈ پیڈ میں کسی بھی تحریر پر جب ان فونٹس کو لاگو کر دیا جائے تو یہ تحریر صرف اسی صورت میں پڑھی جا سکتی ہے جب میر عماد نامی پلگ ان فعال حالت میں ہو غیر فعال حالت میں ہونے پر تحریر موجود تو رہتی ہے لیکن نظروں سے غائب ہو جاتی ہے


مجھے اعتراف ہے کہ میں اردو کے لیے کوئی نمایاں کردار ادا نہ کر سکا۔۔۔۔


قطعا ایسا نہیں ہے آپ نے اردو زبان کی وہ خدمت کی ہے جو کوئی بھی ممورخ اگر تاریخ اردو مرتب کرے گا تو آپ کا نام اس کے لیے سنہری حروف میں لکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا آپ نے پاک نستعلیق کی صورت میں جو مرحلہ سر کیا ہے وہ بلا شبہ ایک عظیم کارنامہ ہے
اور جناب ہمیں جو آپ سے ایک تعلق قلبی ہے اس کی بنا پر ہم چاہتے ہیں کہ نئے کارنامے بھی آپ ہی کے ہاتھوں انجام پاائیں
اللہ اردو کے چاہنے والوں اور کسی بھی طرح اس زبان کی خدمت رکھنے والوں کو ہمیشہ سرفراز و سرخرو رکھے آمین

این دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد
 

الف عین

لائبریرین
جزاک اللہ خیر شاکر بھائ۔ آپ نے میرے منہہ کی بات چین لی۔ محسن حجازی تو جسرِ نفسی سے کام لے رہے ہیں۔ ان کا کارنامہ یقیناً سنہری حروف سے لکھا جائے گا اردو کمپیوٹنگ کی تاریخ میں۔
یہ بات آپ سب کی درست ہے کہ اردو کے لیے بہت کم کام ہوا ہے۔ لینکس کو ہی لیجیے۔ عرصہ پہلے عرب آئز نے عربکش کی لائیو سی ڈی کا اجرا کر دیا تھا اور فارسی کی بھی ایک سی ڈی میرے پاس 2000ء سے ہے۔اس وقت اس کا نام بھول رہا ہوں، سی ڈی دیکھنی پڑے گی) لیکن اردو لنکس کی لائیو سی ڈی اب تک تکمیل تک نہیں پہونچی۔ میرا مطلب محض ایک ہی اردو زبان میں لینکس۔ پاکستان میں محض مائکرو سافٹ ونڈوز اور آفس کے مواجے پر مقتدرہ نے کام کیا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
ایک بات اور رہ گئ۔ نبیل نے جو لکھا ہے کہ اردو والے بھی عربی فارسی کی طرح کے خوبصورت فانٹس استعمال کرنا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں۔ یہ بات اب درست نہیں۔ خطاطی والی بات تو نہیں جس میں کشیدہ یا تطویل اور حرف جا بجائ ممکن ہو، لیکن اردو میں بھی خوب صورت فانٹس اب خود ہمارے شاکر القادری بھائ نے پیش کر دئے ہیں۔ اس سے پہلے اردو لائف نے بھی خوبصور فانٹس بنائے ہیں۔ پاک ٹائپ کے بھی تحریر اور نقش فانٹس اچھے فانٹس ہیں جو کمپوزنگ میں عنوانات وغیرہ کے لیے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
 

محسن حجازی

محفلین
بات یہ ہے کہ پاک نستعلیق سے آگے بہت آگےسفر کی ضرورت ہے۔ اگر میر عماد مل جائے تو کچھ تجزیہ پیش کر سکتا ہوں۔ ہمارے پاس وسائل ہی نہیں کہ اس قسم کے تجربے کر سکیں۔ بہرطور ہم ہمت نہیں ہاریں گے۔ میر عماد کی قسم کا ہی خیال میرے ذہن میں بھی تھا۔ اس کے لیے پہلے مرحلے میں صرف ونڈوز کے لیے ہی تیار کیا جا سکے گا۔
 
Top