گیان دیوی کے معبد میں دو گھنٹے

زیف سید نے 'رپورتاژ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 26, 2006

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    گیان دیوی کے معبدمیں دو گھنٹے

    امریکی دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں جب آپ کانگرس کے بلند و بالا گنبد والے ایوان کےوسیع سبزہ زاروں کو عبور کر کے عمارت کے عقب میں پہنچ جاتے ہیں تو اپنے آپ کوسنگ مر مر سےتعمیر کردہ ایک عمارت کے روبرو پاتے ہیں جس کا گنبد کیپیٹل کےگنبد سے تو چھوٹا ہے لیکن اس کے بام و سقف سے شکوہ اور جلال پھوٹتا ہے۔ یہ مشہورِ زمانہ لائبریری آف کانگریس ہے۔ سن 1800 میں امریکی صدر ٹامس جیفرسن کے ایما اور ذاتی کتب خانے کی 21ہزار ڈالر میں فروخت کے نتیجے میں معرضِ وجودمیں آنے والی لائبریری آف کانگرس کو دنیا کاسب سے بڑا کتب خانہ ہونے کا قابلِ رشک اعزاز حاصل ہے۔لیکن یہ کتب خانہ صرف کتابوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ علم،تحقیق اورتخلیق کا بہتا دریا ہے۔اورساتھ ہی ساتھ اس کے بنانے والوں نے پوری کوشش کی ہے کہ عمارت ظاہری طور پر بھی اپنے مشمولات کے شایانِ شان ہو۔

    کتب خانے میں سیر کرنےوالوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ مجھے بھی ایک لمبی قطار میں کھڑے رہنے کے بعد باریابی کا موقع ملا۔ دوسرے امریکی اداروں کی طرح یہاں بھی سامان کی چھان بین اور ایکس رے مشین سے گزرنا ناگزیر ہے۔ استقبالیے میں وقفےوقفے سے معلوماتی ٹورز کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں ماہر لائبریری دان سیاحوں کو آدھے گھنٹے کے اندر عمارت کے طرزِ تعمیر، تاریخ اور اہمیت سے روشناس کرا دیتے ہیں۔انہی کی زبانی معلوم ہوتا ہے کہ درو دیوار کی سجاوٹ میں امریکہ کے چوٹی کے ہنرمندوں اور فنکاروں نے حصہ لیاتھا۔ مزید برآں اٹلی سے موزیک کا کام کرنے والے کاریگر الگ سےمنگوائے گئے تھے۔ ان تمام صناعوں کے فن کے شاہکار مجسموں، دیواری تصویروں، موزیک اور گل کاری کی صورت میں جگہ جگہ لائبریری میں بکھرے ہوئے ہیں جن میں دنیا کی مختلف تہذیبوں، جغرافیائی خطوں اور علوم و فنون کے مختلف شعبوں پرروشنی ڈالی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ عمارت دنیا کی خوبصورت ترین عمارات کے ہم پلہ قراردی جاسکتی ہے۔

    کچھ کتب خانے کے مشمولات کے بارے میں: کتب خانے کی تینوں عمارات میں چار سو ساٹھ زبانوں میں تقریباً تیرہ کروڑ سے زائد کتابیں، مسودے، نقشے ، دستاویزات، ریکارڈنگز اور فلمیں موجود ہیں۔ کتابوں کی الماریوں کی لمبائی ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر ہے ۔ فلموں کے شوقین افراد کی دلچسپی کاسامان بھی یہاں وافر مقدار میں موجود ہےکیوں کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی فلم لائبریری بھی ہے۔اس کے ذخیرے میں لاکھوں نایاب فلموں کے علاوہ دنیا کی سب سے پرانی فلم ’ایک چھینک کا احوال‘بھی موجود ہے جو 1894 میں سینما کے موجد ٹامس ایڈیسن نے بنائی تھی۔ لائبریری میں نوادر کا بھی ایک بڑا ذخیرہ موجود ہےجس کی نمائش کے لیے ایک گیلری الگ سے موجود ہے۔ یہاں آپ مغربی دنیا میں شائع ہونے والی سب سے پہلی کتاب گٹن برگ کی بائبل کا چمڑے پر چھپا ہوا ایک نسخہ ، بنجمن فرینکلن کے ہوم ورک کی کاپی، صدر لنکن کی جیب سے قتل کے بعدبرآمد ہونےوالے کاغذات، اور دوسرے کئی نوادرنمائش کے لیے موجود ہیں۔ یہ نمائشیں وقتی ہوتی ہیں اور ان کے مندرجات اور موضوعات بدلتے رہتے ہیں۔

    کتب خانے کے مشمولات کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ یہاں روزانہ بائیس ہزار سے زیادہ کتابیں اور دوسری اشیا موصول ہوتی ہیں۔ جن میں سے دس ہزار کو ضروری کاروائی کے مراحل سے گزار کر لائبریری کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں تمام اشاعتی ادارے قانوناً پابند ہیں کہ جو کتاب شائع کریں اس کی دو کاپیاں لائبریری کو پہنچا دیں۔ یاد آیا کہ ایسا قانون تو اسلام آباد کی نیشنل لائبریری کے ضمن میں بھی موجود ہے،لیکن خیر،یہ موضوع پھر کبھی سہی۔

    ٹورگائیڈ نے ایک اطلاع بہم پہنچائی کہ کتابوں تک رسائی لائبریری کارڈ حاصل کیےبغیر نہیں ہو سکتی۔ اس مقصدکے حصول کے لیے سڑک کے اس پار دوسری عمارت میں جانا پڑا۔ایک فارم پر کرنا پڑا۔ انٹرویو لیا گیا، کس موضوع پردادِ تحقیق دینے کا ارادہ ہے؟ اس سے پہلے کتنا کام مکمل کر چکے ہیں؟ علیٰ ہٰذاالقیاس۔ خیر،تصویر کھینچی گئی اور لائبریری کے اتھاہ ساگر کا پروانہءراہداری، یعنی لائبریری کارڈتھما دیا گیا۔ کارڈبکف میں مرکزی عمارت کےہشت پہلو مرکزی ہال تک جا پہنچا اور پہنچتے ہی مارے حیرت و ہیبت کے ٹھٹک کر رہ گیا۔ہال کیا ہے، گیان دیوی کا باجبروت معبدہے۔یہاں کی نیم تاریک فضاوں میں وہ پرتقدس خاموشی پر پھیلائے ہوئےہے جو صرف قدیم عبادت گاہوں میں ملتی ہے۔ 75 فٹ اونچے چھت میں بنے روشن دانوں سے سورج کی کرنیں آرہی ہیں لیکن جیسے وہ بھی ہمت کی کمی کے باعث راستے ہی میں ٹھٹھر جاتی ہیں۔ دنیاکے مختلف ممالک سے برآمدہ سنگِ سرخ سے بنی آٹھوں دیواروں پر مختلف شعبہ ہاے علم وفن کی نمایندہ شخصیات کے مجسمے نصب ہیں۔ فلسفے کے نمایندہ افلاطون اور فرانسس بیکن ہیں۔ایوانِ ادب میں ہومر اورشیکسپیئر جلوہ افروز ہیں جب کہ فنون کے شعبے میں مائیکل اینجلو اور بیتھوون کے مجسمے آویزاں ہیں۔
    چھت پر نظر ڈالیں تو وہاں ایک گول تصویر موجود ہے جس میں دنیا کی مختلف تہذیبوں اورانسانی تمدن کی ترقی میں ان کی خدمات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اسلام کو بطورِتہذیب برتا گیا ہے اور مسلمانوں کی طبیعات اور فلکیات میں تحقیقات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ دائروی شکل میں نصب میزوں پر علما و فضلابرقی قمقموں کی مدھم روشنی میں جستجوے علم میں مگن ہیں۔

    اس عظیم ہال کا دبدبہ اور تمکنت ایسی ہے کہ کچھ دیر کے لیے انسان کتابوں کو بھول جاتاہے۔لیکن جب آنکھیں ہال کی تمکنت کی عادی ہو جاتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل کتب خانہ یہ بھی نہیں ہے۔بلکہ طریقہء کار کچھ یوں ہے کہ آپ پہلے کمپیوٹر سے متعلقہ کتابوں کااحوال لیجیے اور نمبر لائبریرین کے حوالے کر دیجیے۔ یہ اطلاع دوسری عمارات میں رکھی گئ کتابوں کی الماریوں تک پہنچ جائے گی جہاں سٹاف سینکڑوں کلومیٹر پر محیط الماریوں سے مطلوبہ کتاب نکال کر ایک بیلٹ پر رکھ دےگا جو چلتی ہوئی عظیم ہال میں آجائے گی۔ اس عمل میں پونا گھنٹا صرف ہو سکتا ہے۔

    میں نے جب لائبریری کیٹلاگ میں اردو کتابوں کی کھوج لگائی تو یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ اردو کی ہزاروں کتابیں یہاں موجود ہیں۔ مرزاغالب کے نام کا قرعہ نکالا تو ان پر لکھی گئی127 کتابوں کی فہرست سامنے آگئی ۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کبھی پاکستان کی بڑی سے بڑی لائبریری میں بھی غالب پر اتنی کتابیں دیکھی ہوں۔ اگرچہ غالبیات میرا خاص شعبہ ہے لیکن اس کے باوجود اس فہرست میں کئی کتب میرے لیے یکسر نئی تھیں۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ دیوانِ غالب کے عبدالرحمٰن چغتائی کے دونوں مصور نسخے’مرقعِ چغتائی‘اور’نقشِ چغتائی‘لائبریری کی زینت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

    لائبریر ی آف کانگرس کےعظیم مرکزی ریڈنگ ہال کی ڈیسک نمبر 158 پر بیٹھ کر چغتائی کی تصاویر سے مزین دیوانِ غالب کا مطالعہ زندگی کے چند ناقابلِ فراموش لمحات میں شامل ہے۔
     
  2. F@rzana

    F@rzana محفلین

    مراسلے:
    2,259
    شکریہ زیف، آپ کی زبانی سیر کرنا اچھا لگا ،
    مجھے بھی لندن کی شاندار و رعب دار برٹش لائبریری کا ہال یاد آگیا،
    مرقع غالب و چغتائی کا ایک نسخہ میرے پاس بھی ہے اور کیا خوب ہے۔

    شکریہ
     
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بہت عمدہ ذیف بھائی۔ اور عنوان کی کیا بات ہے۔ میں اس عنوان کو فرزانہ صاحبہ کا عنوان سمجھا۔ آپ بھی شاعر ہیں کیا؟
    بے بی ہاتھی
     
  4. F@rzana

    F@rzana محفلین

    مراسلے:
    2,259
    میرا شکریہ ادا کیجئے کہ عنوان نے میرا دھیان دلا کر اس کے مطالعے پر مجبور کردیا :lol:
     
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بیٹھا سر کُھجا رہا ہوں۔ کیا کہوں؟
    بےبی ہاتھی
     
  6. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,748
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    زبردست زیف سید اور بہت شکریہ۔ یہاں یونیورسٹی آف ارلینگن (Erlangen) کی لائبریری میں بھی داخل ہوتے ہی سامنے دیواروں پر سعدی اور رومی کے فارسی اشعار لکھے نظر آتے ہیں۔ عجیب سی کیفیت ہوتی ہے دیکھ کر۔ یورپ کے شہروں کی جو بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے وہ یہاں کے کتب خانے ہیں۔ میں نے دو حاضر کے عظیم عالم پروفیسر حمید اللہ کے بارے میں سنا تھا کہ وہ پیرس سے اسی لیے نہیں جانا چاہتے تھے کہ وہاں کے کتب خانوں سے انہیں بے انتہا لگاؤ تھا۔
     
  7. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    جناب نبیل صاحب:

    جی ہاں، ان ملکوں میں‌شاندار کتب خانے دیکھ کر ان کی ترقی کا ‘راز‘ کچھ کچھ سمجھ میں‌آتا ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں جو حال ہے، وہ قابلِِ بیان نہیں ہے۔

    آپ کی بیان کردہ لائبریری غالبا ً جرمنی میں‌ہے۔آپ جانتے ہی ہوں‌گے کہ جرمن ویسے بھی فارسی ادب و شعر سے بڑا لگاؤ رکھتے ہیں۔مشہور فلسفی نیچی (جسے اردو میں اکثر نطشے لکھا جاتا ہے) فارسی شاعری کا پرستار تھا۔ عظیم جرمن شاعر گوئٹے نے حافظ شیرازی سے متاثر ہو کر اپنی کتاب کا نام “دیوان“ رکھا تھا۔ جدید دور میں محترمہ این میری شمل نے فارسی (اور اردو) شاعری پر زبردست کام کیا ہے۔

    قیصرانی صاحب: اس مضمون کے عنوان کا فرزانہ صاحبہ سے کیا تعلق ہے، بات کچھ سمجھ میںنہیں‌آسکی۔

    زیف
     
  8. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    زیف بھائی، اصل میں‌فرزانہ صاحبہ کافی شاعرہ ہیں(کافی سے کیا مراد ہے، اس پر پھر کبھی بات کریں‌گے:)) اور اس طرح کے عنوان میں نے گلزار کے بعد انہیں استعمال کرتے دیکھے ہیں۔ جب میں‌نے عنوان پڑھا تو بغیر سوچے سمجھے یہ فرض کر لیا کہ یہ بھی فرزانہ صاحبہ کا عنوان ہے۔ معذرت۔ ویسے کیا آپ بھی اس طرح‌کی شاعری کرتے ہیں؟
    بے بی ہاتھی
     
  9. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,072
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    بہت عمدہ۔
     
  10. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,748
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    زیف سید نے گوئٹے کے جس دیوان کا ذکر کیا ہے، اقبال نے اسی کے جواب میں پیام مشرق لکھا تھا۔ پیام مشرق کے دیباچے میں یورپ کے شعرا پر مشرقی اور خاص طور پر فارسی شاعری اور فلسفے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ میں وقت ملنے پر اس دیباچے کو بھی یہاں پوسٹ کر دوں گا۔
     
  11. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    جی نبیل صاحب، اگر آپ گوئٹے کے دیوان کا دیباچہ عنایت کردیں‌تو کیا ہی بات ہو گی۔ آپ نے بجا ارشاد فرمایا کہ اقبال نے “پیامِ مشرق“ گوئٹے کے اسی دیوان کے زیرِ اثر لکھی تھی۔ اقبال گوئٹے کے بڑے مداح ‌تھےاور ان کے کلام میں‌کئی جگہ گوئٹے کا ذکر ملتا ہے۔ ایک مقام پر وہ غالب کو گوئٹے کا “ہم نشیں“ قرار دیتے ہیں:

    آہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
    گلشنِ ویمر میں‌تیرا ہم نشیں خوابیدہ ہے

    ۔ ۔ ۔

    زیف
     
  12. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,748
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    زیف، میں تو پیام مشرق کے دیباچے کا ذکر کر رہا تھا۔ :oops:

    میں نے گوئٹے کے دیوان کا انگریزی ترجمہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ فی الحال مجھے نہیں ملا۔ بہرحال میں اسے ذہن میں رکھوں گا اور جیسے ہی اس بارے میں کوئی انفارمیشن ملی، اسے یہاں پوسٹ کردوں گا۔
     
  13. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    اررر۔ غلطی کی معذرت!

    انٹرنیٹ پر دیوان کا انگریزی ترجمہ مجھے بھی نہیں ملا۔ میں ‌نے گوئٹے کے “فاؤسٹ“ اور“ورتھرکی داستانِ محبت“کے اردو ترجمے دیکھے ہیں۔ جس کی بنا پراندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ “دیوان“ کا بھی ضروراردو میں ترجمہ ہوا ہو گا۔

    پیامِ مشرق allamaiqbal.com پر موجود ہے۔

    ---

    زیف‌
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    وکیپر منتقل ہو گیا ہے
    قیصرانی
     
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر