گھٹا گھنگھور گھور، مور مچاوے شور ۔ خورشید بانو

فاتح

لائبریرین
گھٹا گھنگھور گھور، مور مچاوے شور
بچپن سے نیرہ نور کی آواز میں یہ گیت سن کر یہی گمان تھا کہ شاید اس کی دھن بھی نیرہ نور کی ہی مرتب کردہ ہے اور اسے صرف انھی نے گایا ہے لیکن کچھ عرصہ قبل یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ دراصل یہ گیت 1943 میں اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک یعنی تان سین کی زندگی پر جیانت دیسائی کی بنائی ہوئی فلم "تان سین" میں خورشید بانو نے پہلی مرتبہ گایا تھا اور اسے کھیم چند پرکاش نے کمپوز کیا تھا۔ اس فلم میں خورشید بانو نے بطور اداکارہ تان سین کی محبوبہ تانی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ یعنی خورشید بانو اس ویڈیو میں یہ نغمہ اپنے لیے ہی گا رہی ہیں۔

گلوکار: خورشید بانو
موسیقار: کھیم چند پرکاش
شاعر: پنڈت اندرا چندرا
اداکار: خورشید بانو اور کندن لال سہگل
فلم: تان سین
سال: 1943

گھٹا گھنگھور گھور
مور مچاوے شور
مورے سجن آ جا
آ جا مورے سجن آ جا

ایک موج کا نام جوانی
اک آوے، اک جاوے
موج میں موج نہ لی جس نے
وہ پھر باجھے پچھتاوے
بڑا دکھ دیوے جیا
مانے نہ ہائے پیا
اِنھیں سمجھا جا
آ جا اِنھیں سمجھا جا

سب لگ پھروں کھوج میں تیری
پیا کھوئے کھوئے
جو لاگی نہ جانیں میری
ان کا بھلا نہ ہووے
پھروں میں دُوارے دُوارے
دو نینواں کے مارے
مکھ دکھلا جا
آ جا مکھ دکھلا جا
 

خوشی

محفلین
بہت خوبصورت شئیرنگ ھے آئیندہ اگر کسی گیت کے بارے کوئی شک ہو تو میری خدمات حاصل کر لیا کریں ایویں تکے لگانا اچھی عادت نہیں‌ہوتی
 

فاتح

لائبریرین
بہت خوبصورت شئیرنگ ھے آئیندہ اگر کسی گیت کے بارے کوئی شک ہو تو میری خدمات حاصل کر لیا کریں ایویں تکے لگانا اچھی عادت نہیں‌ہوتی
کیا واقعی آپ کو علم تھا کہ یہ گیت درحقیقت خورشید بانو نے گایا تھا اور کہیں بعد میں نیرہ نور نے گایا؟
اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو آپ کے علم و عظمت کو سلام:)
یہ تو خوب ہوا کہ ہم جیسوں کو موسیقی پر ایک عالمہ میسر آ گئیں۔ اب یہ بھی بتا دیجیے کہ آپ کی خدمات کا دائرہ کہاں تک ہے؟ یعنی ہمیں تو چند ایک ہی مشکلات پیش آتی ہیں مثلاً کسی گانے کی آڈیو یا ویڈیو نہیں مل رہی، کسی گیت کے موسیقار یا فلم کا نام نہیں معلوم یا کسی نغمے کے گلوکار کا علم نہیں۔ ان میں کس کس موقعے پر آپ سے استفسار کیا جا سکتا ہے؟
 

فاتح

لائبریرین

فاتح

لائبریرین
خوب۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم میں نے اسے پہلی بار ہی نیرہ کے علاوہ کسی آواز میں سنا ہے
شکریہ امید اور محبت صاحبہ!
اسی 'تحقیق' میں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اس گیت کے علاوہ "پنچھی باورا" بھی دراصل خورشید بانو کا گایا ہوا گیت ہے جسے نیرہ نور نے بعد میں گایا۔:)
 

الف عین

لائبریرین
ہم تو ٹھہرے پرانے آدمی اور وہ بھی ہندوستانی۔ ہم کو تو یہ اب معلوم ہوا کہ کوئی محترمہ نیرہ نور بھی پاکستان میں ہیں جو ہندوستانی کلاسیکی نغموں کی نقل کرتی ہیں، کم از کم دو گانوں کی حد تک!!!
 

فاتح

لائبریرین
ہم تو ٹھہرے پرانے آدمی اور وہ بھی ہندوستانی۔ ہم کو تو یہ اب معلوم ہوا کہ کوئی محترمہ نیرہ نور بھی پاکستان میں ہیں جو ہندوستانی کلاسیکی نغموں کی نقل کرتی ہیں، کم از کم دو گانوں کی حد تک!!!
اعجاز صاحب! شاید آپ نے فلم کے سن پر غور نہیں کیا کہ یہ 1943 کی بنی ہوئی فلم ہے جب پاکستان یا ہندوستان الگ الگ ممالک نہیں تھے لہٰذا اول تو ہم اسے (موجودہ) ہندوستانی نغمہ ہی نہیں مانتے اور دوم یہ کہ خورشید بانو قیامِ پاکستان سے لے کر اپنی وفات کے سن یعنی 2001 تک کراچی ہی میں مقیم رہیں اور جہاں جہاں ان کا نام لیا جاتا ہے انھیں "پاکستانی گلوکارہ و اداکارہ" کے طور پر ہی پہچانا جاتا ہے۔
اس لیے اگر نیرہ نور نے نقل کی بھی ہے تو ایک پاکستانی گلوکارہ کے نغموں کی ہی کی ہے۔:)
جس دوسرے گیت یعنی "پنچھی باورا" کا میں نے اولاً ذکر کیا تھا وہ فلم "بھکتا سرداس" میں خورشید بانو کی آواز میں شامل ہے اور وہ فلم بھی 1942 یعنی قیامِ پاکستان سے پانچ برس قبل کی ہے۔
 
شکریہ امید اور محبت صاحبہ!
اسی 'تحقیق' میں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اس گیت کے علاوہ "پنچھی باورا" بھی دراصل خورشید بانو کا گایا ہوا گیت ہے جسے نیرہ نور نے بعد میں گایا۔:)

آہاں۔۔۔۔۔۔آپ کی تحقیق سے یہ بات میرے علم میں بھی اگئی
 
Top