گوشت کا مرثیہ (روحِ اقبال سے معذرت کے ساتھ)-سید محمد جعفری

آپ کو ہمارا احسان مند ہونا چاہیے کہ ہم کُلیّاں نہیں کہتے ;)

آتا نہیں مجھ کو قبلہ قبلی ۔۔۔ ۔۔بس صاف یہ ہے کہ بھائی شبلی​
تکلیف اٹھائو آج کی رات ۔۔۔ ۔کھانا یہیں کھائو آج کی رات​
حاضر جو کچھ ہو دال دلیا ۔۔۔ ۔۔۔ سمجھو اس کوپلائو قلیا​
جب مولانا شبلی نعمانی الہ آباد آئے اور حضرت اکبر الہ آبادی کو ان کے ورودِمسعود کی خبر پہنچی۔​
آپ نے مولانا کی دعوت کی اور​

قلم برداشتہ یہ اشعار لکھ کر مولانا کی خدمت میں روانہ کیے۔​
قبلہ فارقلیط رحمانی بھائی جان کے ایک مراسلہ سے شکریہ کے ساتھ:)
 

فاتح

لائبریرین
آتا نہیں مجھ کو قبلہ قبلی ۔۔۔ ۔۔بس صاف یہ ہے کہ بھائی شبلی​
تکلیف اٹھائو آج کی رات ۔۔۔ ۔کھانا یہیں کھائو آج کی رات​
حاضر جو کچھ ہو دال دلیا ۔۔۔ ۔۔۔ سمجھو اس کوپلائو قلیا​
جب مولانا شبلی نعمانی الہ آباد آئے اور حضرت اکبر الہ آبادی کو ان کے ورودِمسعود کی خبر پہنچی۔​
آپ نے مولانا کی دعوت کی اور​

قلم برداشتہ یہ اشعار لکھ کر مولانا کی خدمت میں روانہ کیے۔​
قبلہ فارقلیط رحمانی بھائی جان کے ایک مراسلہ سے شکریہ کے ساتھ:)
پس منظر یوں ہے کہ شبلی نے ایک مرتبہ اکبر سے کہا تھا کہ ہمارے نام کا قافیہ لائیں تو مانیں۔۔۔
اور اس پر اکبر نے انہیں یہ منظوم دعوت نامہ بھجوایا جس میں شبلی کا قافیہ قبلہ کے مہمل قبلی کو باندھ کر اپنی استادی کا لوہا منوایا۔
 
پس منظر یوں ہے کہ شبلی نے ایک مرتبہ اکبر سے کہا تھا کہ ہمارے نام کا قافیہ لائیں تو مانیں۔۔۔
اور اس پر اکبر نے انہیں یہ منظوم دعوت نامہ بھجوایا جس میں شبلی کا قافیہ قبلہ کے مہمل قبلی کو باندھ کر اپنی استادی کا لوہا منوایا۔

جی بھائی جان وہ بھی اس ربط میں تھا لیکن میں نے جان بوجھ اتنا ہی بھر لکھا تھا یہ لیجئے بقیہ یہاں بھی پیصت کئے دیتا ہوں:)

اس کے جواب میں مولانا شبلی نعمانی نے اشعار مندرجہ ذیل لکھ کر معذرت چاہی
آج دعوت میں نہ جانے کا مجھے بھی ہے ملال
لیکن اسباب کچھ ایسے ہیں کہ مجبور ہوں میں
آپ کے لطف و کرم کا مجھے انکار نہیں
حلقہ در گوش ہوں ممنون ہوںمشکور ہوں میں
لیکن اب میں وہ نہیں ہوں کہ پڑا پھرتا تھا
اب تو اللہ کے افضال سے تیمور ہوں میں
دل کے بہلانے کی باتیں ہیں یہ شبلی ورنہ
جیتے جی مردہ ہوں مرحوم ہوں مغفور ہوں میں
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ (مکتوبات شبلی حصہ دوم)
 

فاتح

لائبریرین
جی بھائی جان وہ بھی اس ربط میں تھا لیکن میں نے جان بوجھ اتنا ہی بھر لکھا تھا یہ لیجئے بقیہ یہاں بھی پیصت کئے دیتا ہوں:)

اس کے جواب میں مولانا شبلی نعمانی نے اشعار مندرجہ ذیل لکھ کر معذرت چاہی
آج دعوت میں نہ جانے کا مجھے بھی ہے ملال
لیکن اسباب کچھ ایسے ہیں کہ مجبور ہوں میں
آپ کے لطف و کرم کا مجھے انکار نہیں
حلقہ در گوش ہوں ممنون ہوںمشکور ہوں میں
لیکن اب میں وہ نہیں ہوں کہ پڑا پھرتا تھا
اب تو اللہ کے افضال سے تیمور ہوں میں
دل کے بہلانے کی باتیں ہیں یہ شبلی ورنہ
جیتے جی مردہ ہوں مرحوم ہوں مغفور ہوں میں
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ (مکتوبات شبلی حصہ دوم)
اس اقتباس میں تو کہیں شبلی کی جانب سے "شبلی" کا قافیہ نہ ہونے کا اور اس کے جواب میں اکبر کی جانب سے مہمل کو قافیہ برتنے کا ذکر نہیں۔۔۔ :unsure:
 
Top