گزاری زندگی ہم نے بنا سوچے بنا سمجھے----برائے اصلاح

الف عین
شاہد شاہنواز
@محمّد احسن سمیع :راحل:
-----
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
------
گزاری زندگی ہم نے بنا سوچے بنا سمجھے
ہماری جاہلانہ عادتوں کو کوئی کیا سمجھے
--------------
نظر آتی نہیں خامی جسے اچھا سمجھتے ہیں
برائی دیکھ کر بھی ہم اسے اس کی ادا سمجھے
----------------
کسی کو گر ضرورت ہو اسے اترن ہی دیتے ہیں
جو کل دینے پہ قادر تھا اسے بھی اک گدا سمجھے
-------------(زلزلہ زدگان کو اکثر لوگ پرانے کپڑے دیتے ہیں )
ورق چاندی کے دیکھے بس مگر حلوہ تو باسی تھا
پڑے تھے عقل پر پتھر جو اس کو ہم نیا سمجھے
--------------
ہماری مشکلوں میں جو ہمارے کام آیا تھا
اسے سمجھے کہ دشمن ہے اسے سب سے بُرا سمجھے
-----------
جسے روکو بُرائی سے وہ ہم سے روٹھ جاتا ہے
ہوا ایسا ہمارے ساتھ ہم کو دل جلا سمجھے
----------------
ہماری بات سن کر جب رہا وہ چُپ ، نہ کچھ بولا
بہت ناراض تھا ہم سے جسے اُس کی رضا سمجھے
----------
ہماری عقل کو سمجھو ذرا ارشد تسلّی سے
مرا جو خود کشی کر کے اسے رب کی رضا سمجھے
----------------
 

الف عین

لائبریرین
گزاری زندگی ہم نے بنا سوچے بنا سمجھے
ہماری جاہلانہ عادتوں کو کوئی کیا سمجھے
-------------- درست

نظر آتی نہیں خامی جسے اچھا سمجھتے ہیں
برائی دیکھ کر بھی ہم اسے اس کی ادا سمجھے
---------------- 'اس کی' کے بغیر بات واضح نہیں

کسی کو گر ضرورت ہو اسے اترن ہی دیتے ہیں
جو کل دینے پہ قادر تھا اسے بھی اک گدا سمجھے
-------------(زلزلہ زدگان کو اکثر لوگ پرانے کپڑے دیتے ہیں )
... کون؟ فاعل غائب ہے، یہ بھی ایک عام غلطی ہے اپ کی

ورق چاندی کے دیکھے بس مگر حلوہ تو باسی تھا
پڑے تھے عقل پر پتھر جو اس کو ہم نیا سمجھے
-------------- نیا یعنی تازہ؟ پہلا مصرع واضح نہیں، فاعل غیر موجود

ہماری مشکلوں میں جو ہمارے کام آیا تھا
اسے سمجھے کہ دشمن ہے اسے سب سے بُرا سمجھے
----------- دوسرا مصرع مجہول ہے، بلکہ پورا شعر ہی، کیوں سمجھے تھے ایسا، کچھ پتہ تو چلے؟

جسے روکو بُرائی سے وہ ہم سے روٹھ جاتا ہے
ہوا ایسا ہمارے ساتھ ہم کو دل جلا سمجھے
---------------- کون سمجھے؟ کیوں سنجھے؟ دل جلا ہی کیوں؟

ہماری بات سن کر جب رہا وہ چُپ ، نہ کچھ بولا
بہت ناراض تھا ہم سے جسے اُس کی رضا سمجھے
---------- ناراضگی کو رضا سمجھے یا خاموشی کو؟ خاموشی کو دوسرے مصرعے میں لانا چاہیے تھا، موجودہ صورت تو واضح نہیں

ہماری عقل کو سمجھو ذرا ارشد تسلّی سے
مرا جو خود کشی کر کے اسے رب کی رضا سمجھے
.. ہم سمجھے؟ دوسرے تسلی سے سمجھنے کی کوشش مریں تو کیا سمجھیں گے، یہ آپ کو ہی پتہ ہو گا، شعر میں تو پتہ نہیں چلتا
 
الف عین
(اصلاح کے بعد حاضرِ خدمت )
----------
نظر آتی نہیں خامی جسے اچھا سمجھتے ہیں
برائی دیکھ کر بھی ہم اسے اس کی ادا سمجھے
--------------
مدد مانگے اگر کوئی تو ہم اترن ہی دیتے ہیں
اسے وقتی ضرورت تھی ہم اس کو بھی گدا سمجھے
------------
ورق چاندی کے دیکھے بس ہمیں شائد کہ جلدی تھی
وہ بوسیدہ سا جو حلوہ تھا ہم اس کو نیا سمجھے
-------------
ہماری مشکلوں میں جو ہمارے کام آیا تھا
یہ کم ظرفی ہماری تھی اسے سب سے بُرا سمجھے
-----------
جسے روکو بُرائی سے وہ ہم سے روٹھ جاتا ہے
بھلا سوچا تھا لوگوں کا مگر ہم کو برا سمجھے
------------
ہماری بات سن کر جب رہا وہ چُپ ، نہ کچھ بولا
وہ اس کی برہمی تھی جس کو ہم اُس کی رضا سمجھے
----------
جو ہوتا ہے یہاں ارشد اسی میں رب کی مرضی ہے
اسی میں کامیابی ہے کہ تُو رب کی رضا سمجھے
 

الف عین

لائبریرین
نظر آتی نہیں خامی جسے اچھا سمجھتے ہیں
برائی دیکھ کر بھی ہم اسے اس کی ادا سمجھے
--------------
'اس کی' کے بغیر بات واضح نہیں
میرا مطلب تھا کہ 'اس کی خامی' جس پر غور نہیں کیا گیا

مدد مانگے اگر کوئی تو ہم اترن ہی دیتے ہیں
اسے وقتی ضرورت تھی ہم اس کو بھی گدا سمجھے
------------ ابھی بھی واضح نہیں ہو سکا۔ دوسرا مصرع یوں بہتر ہو سکتا ہے
جو خود دینے پہ کل قادر تھا، اس کو بھی گدا سمجھے
پہلا مصرعہ حال کے صیغے میں ہے، اسے بھی مناسب ترمیم کی ضرورت ہے پورے شعر میں
ایک تجویز
وہ سائل بن کے آیا تھا جو کل دینے پہ قادر تھا
اسے بھی ہم نے اترن دی، اسے بھی ہم گدا سمجھے

ورق چاندی کے دیکھے بس ہمیں شائد کہ جلدی تھی
وہ بوسیدہ سا جو حلوہ تھا ہم اس کو نیا سمجھے
------------- یہ شعر نکال ہی دیں ، حلوہ تازہ ہا باسی ہوتا ہے نیا پرانا نہیں

ہماری مشکلوں میں جو ہمارے کام آیا تھا
یہ کم ظرفی ہماری تھی اسے سب سے بُرا سمجھے
----------- ٹھیک، اگرچہ میرے سوال کا جواب نہیں دیا گیا

جسے روکو بُرائی سے وہ ہم سے روٹھ جاتا ہے
بھلا سوچا تھا لوگوں کا مگر ہم کو برا سمجھے
------------ ایک طرح کا شتر گربہ یہ بھی ہے 'روکو' امر ہے، لیکن دوسرے مصرعے سے معلوم ہوتا ہے کہ روکنے والے ہم ہی ہیں، دوسرا مصرع ماضی میں ہے، پہلا حال میں! دوسرے میں کون سمجھے؟ اب بھی واضح نہیں کیا گیا
جسے روکا برائی سے، ہوا ناراض وہ ہم سے
بھلا سوچا تھا جن کا ہم نے، وہ ہم کو برا سمجھے
سے شاید واضح ہو

ہماری بات سن کر جب رہا وہ چُپ ، نہ کچھ بولا
وہ اس کی برہمی تھی جس کو ہم اُس کی رضا سمجھے
---------- اپنی پچھلی بات کا اقتباس پھر لوں؟ 'نہ کچھ بولا' کا مطلب 'کچھ نہ بولا' سے مختلف ہے، شاید اس طرح آپ جو چاہتے ہیں وہ مفہوم واضح ہو سکے
ہماری بات پر وہ چپ ہوا، ناراض تھا شاید
وہ اس کی..

جو ہوتا ہے یہاں ارشد اسی میں رب کی مرضی ہے
اسی میں کامیابی ہے کہ تُو رب کی رضا سمجھے
.. دونوں مصرعوں میں رب لفظ اچھا نہیں
ہے بس اللہ کی مرضی جو ہوتا ہے یہاں ارشد
بہتر ہو گا

میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ میری بات سمجھ کر تبدیلیاں کریں اور جب خود مطمئن ہو جائیں تو وہ صورت پیش کریں۔ میں اپنے مصرعے اپ پر تھوپنے سے بچوں مگر مجبور ہو جاتا ہوں کہ شاید اس طرح آپ میں بھی زبان و بیان پر غور کرنے کی عادت پڑ جائے اور آپ خود دیکھ سکیں کہ بہتری کس طرح آ سکتی ہے
 
Top