گرے ہیں سب تفرقوں کی ذلالت میں۔۔برائے اصلاح

شیرازخان

محفلین
مفا عیلن۔مفا عیلن۔مفا عیلن۔

گِرے ہیں سب تفرقوں کی ذلالت میں
کیا کچھ کر گئے ہائے جہالت میں

یہ جس اسلام پر لڑتے ہیں مجھ کو وہ
نظر آتا نہیں عہدِ رسالت میں

وہ رکھتا ہے اسے بس ہاتھ کے نیچے
نہیں آتا قرآں کی کی کیوں عدالت میں

یہ بیماری نہیں ایسی کہ جڑ پکڑے
چھُپا ہے عیب کوئی اپنی ہی کفالت میں

اِدھر ظالم کو ظالم کہہ رہا ہوں میں
اُدھر ہےظلم بھی پوری جلالت میں

نہیں پرروشنی روشن خیالی میں
نہیں اندھیرے کی کرتا وکالت میں

بچے دنیا میں بس شیرؔاز ہنگامے
بچا لو آخرت ہنگامی حالت میں
الف عین
محمد اسامہ سَرسَری
شاہد شاہنواز
محمد یعقوب آسی
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
گِرے ہیں سب تفرقوں کی ذلالت میں
کیا کچھ کر گئے ہائے جہالت میں
÷÷تفرقہ کا تلفظ۔۔ درست تَف ۔رَقَہ، تَفَر ۔ قہنہیں۔ دوسرے مصرع میں بھی شاید کیا (درست تقطیع محض کا)
یہ جس اسلام پر لڑتے ہیں مجھ کو وہ
نظر آتا نہیں عہدِ رسالت میں
÷÷درست

وہ رکھتا ہے اسے بس ہاتھ کے نیچے
نہیں آتا قرآں کی کی کیوں عدالت میں
÷÷کی کیوں میں کاف کی تکرار اچھی نہیں۔
نہیں آتا ہےقرآں کی عدالت میں
کیا جا سکتا ہے

یہ بیماری نہیں ایسی کہ جڑ پکڑے
چھُپا ہے عیب کوئی اپنی ہی کفالت میں
دوسرا مصرع کیسے تقطیع کر رہے ہو، کسی طرح نہیں آتا۔
چھپا ہے عیب کچھ اپنی کفالت میں

اِدھر ظالم کو ظالم کہہ رہا ہوں میں
اُدھر ہےظلم بھی پوری جلالت میں
÷÷جلالت؟ جلال ہی درست لفظ ہے

نہیں پرروشنی روشن خیالی میں
نہیں اندھیرے کی کرتا وکالت میں
÷÷دوسرا مصرع غلط ہے، ایک تو اندھیرا میں ن معلنہ نہیں،
اندیرے کی نہیں کرتا۔۔۔ ہو سکتا ہے
دوسرے ردیف میں ہے، یا مَیں؟ یہاں مَیں آنا چاہئے تھا۔
بچے دنیا میں بس شیرؔاز ہنگامے
بچا لو آخرت ہنگامی حالت میں
÷÷ہنگامی حالت کون سی ہے؟
 

شیرازخان

محفلین
استاد جی ڈرتے ڈرتے اس کاوش کو چڑھایا تھا ردیف پہلے ہی انرجی و لطافت سے مرحوم لگ رہی تھی۔۔۔۔اب تبدیلی کے ساتھ پیش کر رہا ہوں مگر اب ردیف اوزان کی وجہ سے مشکوک لگ رہی ہے ۔۔۔۔؟؟؟

یہ فرقوں کی ذلالت نے تباہ کیا ہے
ہمیں اپنی جہالت نے تباہ کیا ہے

یہ بیماری نہیں ایسی کہ جڑ پکڑے
ہمیں تیری کفالت نے تباہ کیا ہے

معزز تھی زمانے میں کسی حد تک
سچائی کو عدالت نے تباہ کیا ہے

نہیں ہے روشنی روشن خیالی میں
اندیرے کی وکالت نے تباہ کیا ہے

خوشی کے واسطے یاں کون مرتا ہے
ہمیں عہد ملالت نے تباہ کیا ہے

یہاں گردے بکے شیراز لفظوں کے
کسے خاموش حالت نےتباہ کیا ہے
الف عین
 

شیرازخان

محفلین
سبھی ہیں غرق فرقوں کی ذلالت میں
کٹی ہیں گردنیں بھی یاں جہالت میں

یہ جس اسلام پر لڑتے ہیں مجھ کو وہ
نظر آتا نہیں عہدِ رسالت میں

وہ رکھتا ہے اسے بس ہاتھ کے نیچے
نہیں آتا ہےقرآں کی عدالت میں

یہ بیماری نہیں ایسی کہ جڑ پکڑے
چھُپا ہے عیب کچھ اپنی کفالت میں

نہیں ہے روشنی ، روشن خیالی میں
لگے ہو کیوں اندیرے کی وکالت میں

مریں گے بول کر شیراز سچ سارا
یوں بھی مرنا ہے خاموشی کی حالت میں
الف عین
 

الف عین

لائبریرین
بس آخری مصرع ذرا سا بدل دو۔ ’یوں بھی‘ محض ’یُبی‘ تقطیع ہو رہا ہے۔
کہ مرجانا ہے خاموشی۔۔۔
 
Top