اسکین دستیاب گذشتہ لکھنؤ

مقدس نے 'اردو نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 21, 2020 12:45 شام

  1. مقدس

    مقدس لائبریرین

    مراسلے:
    29,038
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Tired
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمل ابراہیم

    محمل ابراہیم لائبریرین

    مراسلے:
    340
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Angelic
    ریختہ صفحہ - 56

    ۱۰۱۹ محمدی( ۱۵۹۰)میں شہنشاہ اکبر نے جب سارے ہندوستان کو بارہ صوبوں میں تقسیم کیا تو صوبۂ اودھ کے صوبے دار یا والی کا مستقر،بادی النظر میں لکھنئو ہی قرار پایا تھا۔اُن دِنوں اتفاق سے شیخ عبد الرحیم نام ضلع بجنور کے ایک خستہ حال و پریشاں روزگار بزرگ بہ تلاشِ معاش دہلی پہنچے۔وہاں امرائے دربار میں رسوخ پیدا کر کے بارگاہِ شہنشاہی میں باریاب ہوئے۔آخر منصب داران شاہی میں شامل ہو کے،لکھنؤ میں جاگیر پائی اور چند روز بعد،بڑے تزک و احتشام اور کرو فر سے اپنی جاگیر میں آگے مقیم ہوئے۔یہاں خاص لچھمن ٹیلے یا شاہ پیر محمد کے ٹیلے پر مقیم ہوکے،انہوں نے اپنا پنچ محلّہ بنوایا،شیخن دروازہ تعمیر کرایا اور لکھنؤ میں پیوند زمین ہوئے۔اُن کا مقبرہ نادان محل کے نام سے آج تک مشہور ہے،جس کی عمارت کو ابھی چند روز ہوئے گورنمنٹ آف انڈیا نے پسند کرکے،اپنی زیرِ حمایت لے لیا۔
    اُسی زمانے میں یہاں شیخ عبد الرحیم نے لچھمن ٹیلے کے پاس ایک دوسری بلندی پر ایک چھوٹا قلعہ تعمیر کرایا جو قرب و جوار کی گھڑیوں سے زیادہ مضبوط تھا اور گرد و نواح کے لوگوں پر اُس کا بہت اثر پڑتا تھا یا تو اس لئے کہ شیخ عبد الرحیم کو دربار شاہی سے علم ماہی مراتب عطا ہوا تھا،یا اس لیے کہ اُس قلعے کے ایک مکان میں چھبیس محرابیں تھیں،اور ہے محراب پر معمار نے دو دو مچھلیاں بنا کے،باون مچھلیاں بنا دی تھیں،اُس قلعے کا نام "مچھی بھون" مشہور ہو گیا۔بھون کا لفظ،یا تو قلعے کے معنوں میں ہے،یا "باون" سے بگڑ کے بن گیا ہے۔جس معمار نے اُس قلعے کو تعمیر کیا،وہ لکھنا نام کا ایک اہیر تھا اور کہتے ہیں کہ اُسی کے نام سے شہر کا نام لکھنؤ ہو گیا۔اور بعض کا خیال ہے کہ لچھمن پور ہی بگڑ کے،لکھنؤ بن گیا ہے۔ان میں سے جو بات ہو،مگر اس آبادی نے یہ نام شیخ عبد الرحیم کے آنے کے بعد پایا۔
    چند روز بعد شیخ عبد الرحیم کے خاندان والوں یعنی شیخ زادوں کے علاوہ،یہاں


    ریختہ صفحہ - 57

    پٹھانوں کا ایک گروہ آ گیا ،جو جنوب کی طرف بسے اور ' رام نگر ' کے پٹھان مشہور ہوئے۔
    انہوں نے اپنی زمینداری کی حد اُس مقام تک قرار دی تھی جہاں اب گول دروازہ واقع ہے۔کیوں کہ وہاں سے دریا کی طرف بڑھیے تو شیخ زادوں کی زمین شروع ہوتی تھی،اُن پٹھانوں کے بعد شیوخ کا ایک نیا گروہ آ کے مشرق کی طرف بس گیا جو شیوخ نبہرہ کہلاتے ہیں۔اُن لوگوں کی زمین وہاں پر تھی جہاں اب ریزیڈنسی کے کھنڈر پڑے ہیں۔
    یہ تینوں گروہ اپنے اپنے علاقوں پر متصرف اور اپنے حلقوں کے حاکم تھے لیکن شیخ زادوں کا اثر سب پر غالب تھا،اور قرب و جوار پر اُن کا دباؤ پڑتا تھا۔جس کا قوی سبب یہ تھا کہ یہ لوگ دربارِ دہلی میں رسوخ رکھتے تھے۔اُن میں سے کئی شخص پورے ملک اودھ کے صوبے دار مقرر ہو گئے تھے۔اور اُن کے قلعۂ مچھلی بھون کی مضبوطی کے اُس قدر شہرت تھی کہ عوام کی زبان پر تھا:"جس کا مچھی بھون' اُس کا لکھنؤ"۔
    اکبر ہی کے زمانے میں لکھنؤ ترقّی کرنے لگا تھا۔اور اُس کی آبادی بڑھتی اور پھیلتی جاتی تھی۔یہ صحیح ہے کہ صوبہ دار اودھ،اُنہیں شیخ زادوں میں سے منتخب ہوئے،لیکن عام معمول یہ تھا کہ اس خدمت پر معززین دہلی مقرر ہوتے،جو سالوں سال اپنے گھر بیٹھے رہتے،فقط تحصیل و وصول کے زمانے میں ایک دورہ سا کرتے،اور اُن کے نائب یہاں رہا کرتے۔لہٰذا اُن سے شہر کی ترقّی کی کوئی امید نہ کی جا سکتی تھی۔ہاں یہاں کے دو ایک شیخ زادے جو صوبے دار مقرر ہو گئے،تو اُن کے تقرر سے البتہ لکھنؤ کو فائدہ پہنچا۔
    لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اکبر کو لکھنؤ کی طرف خاص توجہ تھی۔چنانچہ اُس نے یہاں کے برہمنوں کو،باجپئی چڑھاوے کے لیے ایک لاکھ روپے مرحمت فرمائے تھے،اور اُسی وقت سے لکھنؤ کے باجپئی برہمن مشہور ہوئے۔اسی سے پتہ چلتا ہے کہ لکھنؤ کے قدیم ترین ہندو محلے جو اکبر کے وقت میں موجود تھے: باجپئی ٹولہ،کٹاری ٹولہ،سوندھی ٹولہ،بنجاری ٹولہ


    ریختہ صفحہ-58

    اور اہیری ٹولہ ہیں۔اور یہ سب چوک ہی کے اطراف میں ہیں۔
    مرزا سلیم نے جو تخت پر بیٹھ کے نور الدین جہانگیر کے لقب سے مشہور ہوئے،باپ کی زندگی اور اپنے ایّام ولی عہدی میں،مرزا منڈی کی بنیاد ڈالی جو مچھی بھون سے مغرب کی طرف واقع ہے۔اکبر کے آخر عہد میں یہاں کے صوبے دار،جواہر خاں تھے۔وہ تو دہلی میں رہتے مگر اُن کے نائب،قاضی محمود بلگرامی نے،چوک کے جنوب میں،اُس سے ملے ہوئے،داہنی طرف محمود نگر اور بائیں طرف شاہ گنج آباد کیے اور اُن کے اور چوک کے درمیان میں،بادشاہ کے نام سے،اکبری دروازہ تعمیر کرایا۔
    عہد اکبری میں جب کہ یہ عمارتیں بن رہی تھیں اور یہ محلے آباد ہو رہے تھے،لکھنؤ ایک اچھی تجارت گاہ بن گیا تھا۔اور ترقی کے اُس درجے کو پہنچا ہوا تھا کہ ایک فرانسیسی تاجر نے،جو گھوڑوں کی تجارت کرتا تھا،یہاں قیام کرکے،نفع حاصل کرنے کی کوشش کی اور دربار شاہی سے،لکھنؤ کے قیام کے لیے،سند مستانی¹ حاصل کرکے،یہاں اپنا اصطبل قائم کیا۔اور پہلے ہی سال میں اُس قدر پھلا پھولا کہ چوک کے متصل،چار عالیشان مکان تعمیر کر لیے سال ختم ہونے پر جب اُس نے پروانہ مستانی کی تجدید چاہی،تو اُسے زیادہ قیام کی اجازت نہ ملی۔اور اس پر بھی اُس نے زبردستی ٹھہرنے کا ارادہ کیا تو حسب الحکم شہنشاہی،حکام شہر نے اُس کے مکانات ضبط کر کے،نزول سرکار کر لیے اور اُسے یہاں سے نکال دیا وہ چاروں مکان مدت تک سرکار کے قبضے میں رہے۔یہاں تک کہ شہنشاہ اورنگ زیبؒ عالم گیر کے عہد
    __________________________________________
    ١. مستامن کے معنی طالب امن ہیں۔یورپ والوں کو چوں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اپنے لیے خطرہ نظر آیا کرتا تھا، اس لئے جہاں قیام کرنا چاہتے،وہاں کے لیے دربار دہلی سے مستامنی کے سند حاصل کر لیا کرتے،تا کہ حکام و عمال اور نیز رعایا اُنہیں نہ ستائیں۔اُس سند سے چوں کہ سلطنت پر ذمے داریاں عائد ہو جاتی تھیں،اس لیے ایک سال سے زیادہ کی سند کم دی جاتی تھی۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 22, 2020 3:48 شام
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمل ابراہیم

    محمل ابراہیم لائبریرین

    مراسلے:
    340
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Angelic
    ریختہ صفحہ - 59

    میں، جب ملا نظام الدین سہالوی نے اپنے قصبے کے فسادوں سے عاجز آ کے،لکھنؤ میں سکونت اختیار کرنے کا قصد کیا،تو عطیہ سرکار کے طور پر وہ چاروں مکان اُنہیں دے دیے گئے،اور اُنہوں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ آ کے اُن مکانوں میں سکونت اختیار کی،جو اپنے گرد و پیش کے بہت سے مکانات کے ساتھ آج تک ' فرنگی محل ' کہلاتے ہیں۔ملّا صاحب کے قدوم کی برکت سے،لکھنؤ،علم و فضل کا مرکز اور طلبۂ علوم کا مرجع و ماوا بن گیا۔اور اُس علمی مرجعیت کو اُس قدر ترقی ہوئی کہ ملّا نظام الدین کا مرتب کیا ہوا نصاب تعلیم،جو سلسلۂ نظامیہ کہلاتا ہے،مدتِ دراز سے ہندوستان ہی کا نہیں،سارے ایشیا کا نصاب تعلیم ہے اور علمی کمالات کے ساتھ اُس میں ولیّانہ برکتیں بھی مضمر تصوّر کی جاتی ہیں۔اور اس سے بہ خوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس زمانے میں کہاں کہاں اور کتنی کتنی دور کے طلبہ علوم،لکھنؤ میں جمع رہتے ہوں گے۔
    یورپین سیاح لیکٹ،جو ۱۰۶۰ محمدی (۱۶۳۱ عیسوی) یعنی شاہ جہاں بادشاہ کی سلطنت کے اوائل میں ہندوستان کی سیر کر رہا تھا،لکھنؤ کی نسبت لکھتا ہے کہ " یہ عظیم الشان منڈی ہے۔"عہدِ شاہ جہانی میں یہاں کے صوبے دار،سلطان علی شاہ قلی خاں تھے۔اُن کے دو بیٹے تھے: مِرزا فاضل اور مِرزا منصور۔انہی دونوں نام سے اُنہوں نے محمود نگر سے جنوب کی طرف آگے بڑھ کے،دو نئے محلّے فاضل نگر اور منصور نگر آباد کیے۔
    اُس زمانے میں یہاں اشرف علی خاں نام ایک رسالدار تھے،انہوں نے اسی سلسلے میں اشرف آباد بسایا،اور اُن کے بھائی مشرف علی خاں نے،نالے کے دوسری طرف اپنا گھر بنا کے مشرف آباد نام کا ایک اور محلّہ قائم کیا،جس کا نام،مرور ایام سے اب نو بسته ہو گیا ہے۔انہی دنوں پیر خاں نام ایک اور فوجی افسر تھے،جنہوں نے ان سب محلوں سے مغرب کی طرف دور جا کے،اپنی گڑھی بنائی۔جو مقام ( کذا) آج تک پیر خاں کی گڑھی کہلاتا ہے۔
    شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر نے کسی ضرورت سے اجودھیا کا سفر کیا۔

    ریختہ صفحہ - 60


    واپسی کے وقت لکھنؤ میں ٹھہرتا ہوا دہلی گیا،اُس موقع پر اُس نے شاہ پیر محمد کے ٹیلے والی مسجد تعمیر کرائی۔جو خاص لچھمن ٹیلے پر ہونے کی وجہ سے،ایسی بلندی پر واقع ہے،جس سے زیادہ مناسب جگہ مسجد کے لیے لکھنؤ میں نہیں ہو سکتی۔اور غالباً اسی موقع پر اُس نے فرنگی محل کے مکانات،علامہ زماں ملّا نظام الدین کی نذر کیے ہوں گے۔
    محمد شاہ رنگیلے کے زمانے میں لکھنؤ کا صوبے دار گردھانانگا نام ایک بہادر ہندو رسالدار تھا۔اُس کا چچا چھبیلے ‍رام کے مرنے پر گردھانانگا نے سرکشی اختیار کی اور اور ارادہ کیا کہ چچا کی جگہ زبردستی الہ آباد کا حاکم ہو جائے۔مگر پھر خود ہی کچھ سوچ کے اُس نے اظہار اطاعت و فرمانبرداری کیا،اور دربار سے اودھ کی صوبے داری کا خلعت عطا کیا گیا۔اُس نے یہاں کی سکونت اختیار کی۔اور اُس کی بی بی نے جو رانی کہلاتی تھی،رانی کٹرہ آباد کیا۔
    مگر یہاں کا حاکم اور صوبے دار چاہے کوئی ہو،شیخ زادوں کا اس قدر زور تھا کہ کسی والی کو،چاہے کیسا ہی زبردست ہو اور کیسی ہی سند حکمرانی لے آیا ہو،یہ جرأت نہیں ہو سکتی تھی کہ اُن کے حلقے میں قدم رکھے۔مچھی بھون کو اگر چہ امارت کی حیثیت حاصل تھی،لیکن شیخ زادوں نے اُسے اپنی موروثی جائیداد بنا لیا تھا،اور دہلی سے جو والی آتا،اُس کے پاس پھٹکنے نہ پاتا۔انہوں نے مچھی بھون کے پاس دو اور عمارتیں تعمیر کر لی تھیں،جن میں سے ایک کہ نام مبارک محلا تھا۔اور دوسری کا نام پنچ محلا تھا۔پنچ محلے کی نسبت کوئی کہتا ہے کہ پنچ منزلی عمارت تھی اور کوئی کہتا ہے کہ ایک دوسرے کے پاس پانچ محل بنے ہوئے تھے۔اور اُن کے جنوب طرف ایک بڑا محراب دار پھاٹک تھا جو شیخن دروازہ کہلاتا۔شہر سے جو لوگ شیخ زادوں کی مذکورہ عمارتوں میں جانا چاہتے،اسی پھاٹک میں سے ہو کے گزرتے
    اس پھاٹک کے محراب میں بانکے شیخ زادوں نے ایک ننگی تلوار لٹکا رکھی تھی اور
     

اس صفحے کی تشہیر