گانوں کا کھیل (2)

سیما علی

لائبریرین
دل تو ہے دل، دل کا اعتبار کیا کیجیے
آ گیا جو کسی پہ پیار کیا کیجیے

یادوں میں تیری کھوئی، راتوں کو میں نہ سوئی
حالت یہ میرے من کی جانے نہ جانے کوئی
برسوں ہیں ترسی آنکھیں، جاگی ہیں پیاسی راتیں
آئی ہیں آتے آتے ہونٹوں پہ دل کی باتیں
پیار میں تیرے دل کا میرے کچھ بھی ہو انجام
بیقراری میں ہے قرار کیا کیجیے

چھائے ہیں من پہ میرے، مدہوش نیناں تیرے
گھیرے ہیں تن کو میرے، تیری بانہوں کے گھیرے
دوری سہی نہ جائے، چین کہیں نہ آئے
چلنا ہے اب تو تیری پلکوں کے سائے سائے
بس نہ چلے رے، شام سویرے لے کے تیرا نام
دل دھڑکتا ہے بار بار کیا کیجیے
ش سے
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
شام سے پہلے آنا
دھوپ ساری ڈھل رہی ہو
پھول سارے کھل گئے ہوں
موسم سارے لے انا
پھر وہی دن آئے ہیں
جانے کیا لے آئے ہیں
جیون میرا
سارا تیرا
جینا تو ایک بہانہ ہے
ایک تیرے آ جانے سے
مل رہے ہیں زمانے سے
جیون میرا
سارا تیرا
دور پھر کیا جانا ہے
شام سے پہلے آنا
دھوپ ساری ڈھل رہی ہو
پھول سارے کھل گئے ہوں
موسم سارے لے آنا
 

سیما علی

لائبریرین
م۔۔۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

زمانے بھر کے غم یا ایک تیرا غم؟
یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے

اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے
تیری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے

دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

حفیظ ان سے میں جتنا بدگماں ہوں
وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہوں گے

(حفیظ ہوشیار پوری)

اب ف

 
Top