گئے وقتوں کا بھولا ماجرا ہوں۔۔برائے اصلاح

نمرہ

محفلین
گئے وقتوں کا بھولا ماجرا ہوں
اور اس مسکین حالی پر فدا ہوں
نہیں نسبت مجھے کچھ منزلوں سے
میں گرد قافلہ ہوں، نقش پا ہوں
ٹھہر سکتی نہیں خیموں میں پیچھے
سر میدان خنجر آزما ہوں
مرے چاروں طرف پتھر ہیں گویا
میں خود کو لوٹ کر آتی صدا ہوں
نہیں آتا سمجھ میں، ان دنوں پر
بھروں آہیں کہ پھر نغمہ سرا ہوں
نبھانے کی نہیں قائل سراسر
مگر رسم جہاں سے آشنا ہوں
اگر رہتے ہوں بال و پر سلامت
خدا کے بعد اپنا آسرا ہوں
بہ وصف تلخ گوئی میں ابھی تک
تعجب ہے، زمانے کو روا ہوں
اگرچہ میں نہیں کوئی ستارا
پہ اپنے کچے آنگن کا دیا ہوں
 
کیا کہنے!
گئے وقتوں کا بھولا ماجرا ہوں
اور اس مسکین حالی پر فدا ہوں
حالیؔ مرحوم کی بابت یہ تو سنا تھا کہ لوگ انھیں ہل چلانے والا ہالی سمجھ بیٹھتے تھے۔ وہ مسکین بھی تھے یہ علم آج ہوا! :idontknow:
مرے چاروں طرف پتھر ہیں گویا
میں خود کو لوٹ کر آتی صدا ہوں
بہت عمدہ شعر!
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ، لیکن اصلاح سخن میں ہے تو کچھ نہ کچھ تو کہنا ہو گا نا!!

نہیں آتا سمجھ میں، ان دنوں پر
بھروں آہیں کہ پھر نغمہ سرا ہوں
÷÷صیغہ تمنائی ہے لیکن الفاظ سے حال کا لگتا ہے، اس لئے واضح نہیں۔

نبھانے کی نہیں قائل سراسر
مگر رسم جہاں سے آشنا ہوں
÷÷پہلا مصرع مزید بہتر ہو سکتا ہے
 
Top