نصیر الدین نصیر کیجیے جو ستم رہ گئے ہیں

یوسف سلطان

محفلین
کیجیے جو ستم رہ گئے ہیں
جان دینے کو ہم رہ گئے ہیں

بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں
کھوئےکھوئےسےہم رہ گئےہیں

دو قدم چل کے رہ وفا میں
تھک گئے تم کہ ہم رہ گئے ہیں

بانٹ لی سب نے آپس میں‌خوشیاں
میرے حصے میں غم رہ گئے ہیں

اب نہ اٹھنا سرہانے سے میرے
اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں

قافلہ چل کے منزل پہ پہنچا
ٹھہروٹھہرو! کہ ہم رہ گئے ہیں

دیکھ کر ان کےمنگتوں کی غیرت
دنگ اہلِ کرم رہ گئے ہیں

ان کی ستاریاں کچھ نہ پوچھو
عاصیوں کے بھرم رہ گئے ہیں

اے صبا ! ایک زحمت ذرا پھر
اُن کی زلفوں میں خم رہ گئے ہیں

کائناتِ جفا و وفا میں
ایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں

آج ساقی پلا شیخ کو بھی
ایک یہ محترم رہ گئے ہیں

یہ گلی کس کی ہے اللہ اللہ
اٹھتے اٹھتے قدم رہ گئے ہیں

وہ تو آ کر گئے بھی کبھی کے
دل پہ نقش قدم رہ گئے ہیں

دل نصیر ان کا تھا ،لے گئے وہ
ہم خدا کی قسم رہ گئے ہیں

دورِ ماضی کی تصویرِ آخر
اے نصیر ! ایک ہم رہ گئے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر سید نصیر الدین نصیر گولڑوی
 
Top