کیا ہے شوق نے مضطر کہ ایک حمد کہوں

اب ایسے بھی حالات نہیں کوئی لکھنے کی کوشش نہیں کرے تو سیکھے گا کیسے بہتری کیسے لائے گا۔ اس لیے اپ کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری بات یہ کہ اوپر موجود کلام اتنا گیا گزرا نہیں جو ایسا مشورہ وہ بھی مفت عنایت کیا جاسکے۔
صاحب بے شک لکھنے ہی سے انسان سیکھتا ہے ۔ مگر جناب استاد گرامی صاحب ! کیا سیکھنے کیلیے دیگر موضوعات کم ہیں جو حمد و نعت جیسے حساس موضوعات ہی پر مشق سخن کی جائے۔ حمد و نعت میں تو معنوی اعتبار سے رتی بھر کم یا زیادہ ایک لفظ بھی لکھا روز حساب گلے پڑ سکتا ہے۔ خیر اپنی اپنی رائے ہیے۔ ہر قاری اپنی ماہرانہ یا جاہلانہ رائے دینے میں مکمل آزاد ہے
 

ابن رضا

لائبریرین
رضا بھائی ۔۔مثنوی کا مجھے علم تھا چونکہ میں نے تمہید حمد کی باندھی تھی اس لیے سوچا کہ اس کو آزاد نظم ہی رہنے دوں ۔۔۔۔ پھر اوپر قوافی کی بات ہوئی تو اس کو بدل دیا ۔ ۔۔ آپ کی معلومات بہت گراں قدر اور حوصلہ افزا ہوتی ہیں ۔۔ اب کیا دوسرا شعر نکال دوں یا تبدیلی ضروری ہے ؟ پہلے تین اشعار غزل کے فارمیٹ پر تھے اور باقی نظم کے ۔۔۔
بات یہ ہے بہن کہ مجموعی طور پر جب کسی بھی کلام کو پرکھا جائے تو اگر زیادہ اشعار کسی مخصوص صنفِ سخن کی طرف اشارہ کر رہے ہوں تو بہتر یہی ہے کی کلام کو اسی صنف میں ڈھال لیا جائے۔ حمد جس بھی صنفِ سخن میں کہیں یہ تو حقیقی اظہارِ محبت و عقیدت ہے۔ اب مثنوی کہ زیادہ قریب ہے تو جو ایک ادھ شعر رہ گیا ا س کو بھی اسی میں ڈھال لیں یا جیسے آپ کو مناسب لگے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
بات یہ ہے بہن کہ مجموعی طور پر جب کسی بھی کلام کو پرکھا جائے تو اگر زیادہ اشعار کسی مخصوص صنفِ سخن کی طرف اشارہ کر رہے ہوں تو بہتر یہی ہے کی کلام کو اسی صنف میں ڈھال لیا جائے۔ حمد جس بھی صنفِ سخن میں کہیں یہ تو حقیقی اظہارِ محبت و عقیدت ہے۔ اب مثنوی کہ زیادہ قریب ہے تو جو ایک ادھ شعر رہ گیا ا س کو بھی اسی میں ڈھال لیں یا جیسے آپ کو مناسب لگے۔
چلیں اس کو بھی ڈھال لیتی ہوں ۔۔۔ نوازش بھیا
 

ابن رضا

لائبریرین
صاحب بے شک لکھنے ہی سے انسان سیکھتا ہے ۔ مگر جناب استاد گرامی صاحب ! کیا سیکھنے کیلیے دیگر موضوعات کم ہیں جو حمد و نعت جیسے حساس موضوعات ہی پر مشق سخن کی جائے۔ حمد و نعت میں تو معنوی اعتبار سے رتی بھر کم یا زیادہ ایک لفظ بھی لکھا روز حساب گلے پڑ سکتا ہے۔ خیر اپنی اپنی رائے ہیے۔ ہر قاری اپنی ماہرانہ یا جاہلانہ رائے دینے میں مکمل آزاد ہے
جہاں تک روزِ حساب کی بات ہےدوست وہ اللہ اور بندے کا ذاتی معاملہ اور وہاں پکڑ صرف حمد و نعت کے الفاظ کی نہیں بلکہ ہر لفظ کی ہونی ہے ہر بات کا حساب دینا ہے۔ دوسری بات یہ کہ خاکسار کوئی استاد نہیں شاگرد ہے جبکہ استادِ محفل سر الف عین ہیں۔ باقی ہم سب رائے کا اظہار کرنے کے لیے بالکل آزاد ہیں مگر کسی کا قلم نہیں قید کر سکتے۔ کہ یہ لکھیں اور وہ نہ لکھیں ہر ایک کا اپنا رجحان اور پیمانہ اور کسی کو لکھنے کے لیے کسی کی پیشگی اجازت ہرگز مطلوب نہ ہے۔ کچھ پسند آئے تو پڑھنا چاہیے داد دینی چاہیے تعمیری صلاح و مشورے دینے چاہیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے یا پھر اپنی راہ لینی چاہیے۔ مزید کچھ عرض کرنے سے قاصر ہوں۔
 
میری رائے میں اگر حمد میں کوئی ایسی بات ہو اللہ تعالٰی کے رتبہ کو کم کر رہی ہو یا نعت میں کوئی ایسی بات ہو جو نبی ﷺ کے رتبے کے شایانِ شان نہ ہو، تو پھر اعتراض بنتا ہے. جب کہ یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے.

حمد و نعت میں احتیاط صرف اس بات کی ہے کہ کہیں انجانے میں کوئی غلطی نہ ہو جائے.
تابش صاحب ، حمد میں محترمہ کی طرف سے کشف کے دعوی کے بارے کیا فرمائیں گے؟
 
اللہ زبان مبارک کرے آپ کی کہ اس بات میں بلا تردد کوئی شک نہیں آج تک جتنا لکھا ہے وہ کشف ہی ہوا ہے میں اس لیے یہ یقین رکھتی ہوں کہ میرے ہر شعر کا خیال عمدہ ہوتا ہے سوائے زبان کی کم علمی کے ۔
صاحبہ توبہ کریں ۔ اتنے بھری بھرکم الفاظ زبردستی بھرتی کر دینا الگ بات ہے۔آپکی طرف سے دعویء کشف کے بعد توبہ واجب ہے۔ بنا سوچے سمجھے کچھ بھی کہنے سے قبل ایسے الفاظ کے معانی بغور پڑھ لیا کریں۔ خیال اچھا ہونا اور بات ہے اور کشف ہونا اور بات ہے۔ اللہ آپکو معاف فرمائے
 
تابش صاحب ، حمد میں محترمہ کی طرف سے کشف کے دعوی کے بارے کیا فرمائیں گے؟
آپ کشف کو ایک انتہائی مخصوص معنوں میں لے رہے ہیں.

جبکہ یہاں کشف جن معنوں میں استعمال ہوا وہ بھی درست ہے.
کسی بھی انسان کے ذہن میں اچھے خیالات کا آنا اس فرد پر اللہ تعالٰی کی طرف سے کشف ہی ہے.

آپ اس کا صرف تصوف والا مفہوم لے رہے ہیں.
 

نور وجدان

لائبریرین
صاحبہ توبہ کریں ۔ اتنے بھری بھرکم الفاظ زبردستی بھرتی کر دینا الگ بات ہے۔آپکی طرف سے دعویء کشف کے بعد توبہ واجب ہے۔ بنا سوچے سمجھے کچھ بھی کہنے سے قبل ایسے الفاظ کے معانی بغور پڑھ لیا کریں۔ خیال اچھا ہونا اور بات ہے اور کشف ہونا اور بات ہے۔ اللہ آپکو معاف فرمائے

بھائی اللہ کی آپ پر رحمت ہو. میں نے جو لکھا ہے وہ میرا شوق ہے. شوق کا کوئ مول نہیں ہے. آپ یا کوئ بھی کسی کے شوق پہ فتوی نہیں لگا سکتا نہ ہی کوئ لگا سکتا ہے کہ محبت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ طوفان کا مقابلہ کرسکے. میں دعوی کرتی ہوں مجھے اپنے پیدا کرنے والے خالق سے بے پناہ محبت ہے اور فخر کرتی ہوں کہ مجھے استطاعت ملی ہے کہ میں اس کی جناب میں کچھ کہ سکوں. آپ کا فتوی میں سدا یاد رکھوں گی کہ ہمارے لفظ آئنہ ہوتے ہیں. ہماری شبیہ، ہمارا عکس لفظ ہیں ..... آپ کو اپنی رائے کی جس طرح آزادی ہے کہ پسند کریں یا ناپسند ..ماہرانہ رائے ہو یا جاہلانہ ...... ہم اس کو قبول کرتے ہیں تو آپ کیسے روکیں گے لکھنے سے.؟ جہاں تک معافی کی بات ہے تو اللہ بہتر جانتا ہے اس کا مستحق کون ہے!!!! میں نے الحمد اللہ ایسا کچھ نہیں کیا کہ جس پر مجھے شرمسار ہونا پڑے بلکہ مقام فخر ہے کہ میں کہتی ہوں اور کہتی رہوں گی. ان شاء اللہ ان شاء اللہ ان شاء اللہ
 

الف عین

لائبریرین
جائے۔کشف ہی کیا، اسے الہام بھی کہا جا سکتا ہے، تو کیا سلمان دانش جی پیغمبری کا دعویٰ کہیں گے!!! ہر لفظ کو اس کے لغوی معنوں میں نہیں لیا جاتا۔
ترمیم شدہ اشعار کی اصلاح۔۔

جو لکھ دیا دمِ مستی میں پہلا حرفِ دل
تو پھر بپا ہوا محشر لگی یوں ضربِ دل
۔۔قوافی یہاں بھی نہیں رہے۔ صوتی قوافی بھی اس وت کہا جائے گا انہیں اگر ان کو حرفے اور ضربے لکھا جائے

بدن کی قید میں مانند موم دل پگھلا
ترے حضور میں جو حرف حرف دل کا جلا ۔
پگھلا اور جلا بھی قافئے نہیں درست۔

مرے سبھی سیہ اعمال کا ملا نامہ
جھکا ہے شرم سے سر اب کہ میرا کیا ہو گا
سیہ اعمال‘ وزن میں درست نہیں آتا۔ اس مصرع میں روانی بھی نہیں۔ دوسرا مصرع کہو۔

مرے وجود کا شافی جو ہے ربِ دو جہاں
رب جب اضافت کے ساتھ آتا ہے تو درست تلفظ کا خیال رکھنا چاہئے۔ کہ بے مشدد ہے۔وجود کا شافی بھی مجہول سی ترکیب ہے۔

مٹائی آئینہِ دل سے گرد جو تم نَے
تمھارا کیا ہو مقدر جمالِ یار کی مَے
۔۔نے کے نون پر زبر لگا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ زبر والا نَے مفہوم میں دوسرا ہوتا ہے، بمعنی لَے۔
 

ابن رضا

لائبریرین
نَے کا مطلب نہیں پڑھا ہے ۔۔۔ ابن رضا بھائی نَے کے مطلب کی وضاحت تو کردیں ۔۔
دوسرا ۔۔پگھلا کا قوافی سلگا ہوسکتا ہے ؟
دراصل " نے " اور "مَے" ہم قافیہ نہیں ہیں ۔ آپ ان کو پڑھیں تو ہم آواز نہیں معلوم ہونگے۔ پگھلا اور سلگا مشتق حالت میں ہے اور ان میں الف روی ہے اس لیے میرے خیال میں یہ ہم قافیہ ہی ہیں
 

نور وجدان

لائبریرین

کیا ہے شوق نے مضطر کہ ایک حمد کہوں
ہوا ہے کشف یہ مجھ پر کہ ایک حمد کہوں

غمِ حیات نے چھوڑا ہے ایک پل کے لئے
کہوں یہ حمد میں آنکھوں کو اپنی جَل ہےکیے

جو پہلا حرف دلِ بے قرار کا تھا لکھا
دلِ ستم زدہ میں حشر سا ہوا تھا بپا

بدن کی قید میں مانند موم دل پگھلا
حضورِ یار میں ہرحرف دل کا تھا سلگا

وصالِ شوق میں دل بے قرار تھا کتنا
تڑپ سے بڑھتا ہوا اضطرار تھا کتنا

نمازِ عشق سے پہلے جو دے رہا تھا اذاں
زباں پہ آ نہ سکے دل کے وجد کا وہ بیاں

نگاہ نامہِ اعمال پر مری ہے پڑی
مجھے سزا کہیں یوم ِ حساب ہو نہ کڑی

کرم تھا حال پہ میرے کرم وہ اب ہی نہیں
کہ بے وفا ہوں خطاوارِ شرک میں بھی نہیں

اگر گِنوں میں گنہ بے شمار ہیں میرے
کہ حشر میں بھی سزاوار ہوں گے ہم تیرے

ملے اگر مجھے نشتر تو فکر بھی ہے کہاں
مسیح ذات کا میری ہے خالقِ دو جہاں

مٹائی آئینہِ دل سے گرد تم نے جب
نصیب جلوہِ جاناں تمھیں نہ ہو کیوں اب

مری خودی میں چھپا جلوہ بھی تو تیرا ہے
تری شبیہ بسی مجھ میں کیا یہاں مرا ہے

ہےرنگ میرا جو تیرے ہی آئنے کی جھلک
جلا دے اس کو کہ خورشید سی ہو مجھ میں دمک​
 

الف عین

لائبریرین
نا مناسب نشسترانے کی وجہ سےغلط ے‘ ے میںگ الگ تقطیع ہونا غلط ہے۔ے زیادہ اسقاط کی وجہ سے
تبدیل شدہ اشعار
غمِ حیات نے چھوڑا ہے ایک پل کے لئے
کہوں یہ حمد میں آنکھوں کو اپنی جَل ہےکیے
۔۔’جل ہی کئے‘ کیا محاورہ ہے،زبردستی قافیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

جو پہلا حرف دلِ بے قرار کا تھا لکھا
دلِ ستم زدہ میں حشر سا ہوا تھا بپا
روانی کی کمی ہے۔ ضرورت سے زیادہ اسقاط کی وجہ سے

بدن کی قید میں مانند موم دل پگھلا
حضورِ یار میں ہرحرف دل کا تھا سلگا
÷÷ایضاً، ماضی کا صیغہ دونوں مصرعوں میں الگ الگ ہے۔ اگریزی کے مطابق ایک میں Past Indefinite اور دوسرے میں Past perfect
ملے اگر مجھے نشتر تو فکر بھی ہے کہاں
مسیح ذات کا میری ہے خالقِ دو جہاں
’دجہاں‘ تقطیع ہونا اچھا نہیں لگتا

مٹائی آئینہِ دل سے گرد تم نے جب
نصیب جلوہِ جاناں تمھیں نہ ہو کیوں اب
÷÷عدم روانی کا شکار

مری خودی میں چھپا جلوہ بھی تو تیرا ہے
تری شبیہ بسی مجھ میں کیا یہاں مرا ہے
دونوں مصرعوں میں قوافی کا الگ الگ تقطیع ہونا غلط ہے۔
پہلے میں’تیرا ہے‘ لن فعلن
دوسرے میں ’مر ہے‘ محض فعلن!!

ہےرنگ میرا جو تیرے ہی آئنے کی جھلک
جلا دے اس کو کہ خورشید سی ہو مجھ میں دمک
دوسرا مصرع چست نہیں۔

مختصر یہ کہ تمہاری زیادہ تر اغلاط حروف کو ضرورت سے زیادہ گرا دینے یا غلط گرانے کی وجہ سے یا الفاظ کی نا مناسب نشست ہیں۔ ان اغلاط سے سیکھو۔
 
Top