جوش کیا نمازِ شاہ تھی، ارکانِ ایمانی کے ساتھ

حسان خان

لائبریرین
کیا نمازِ شاہ تھی، ارکانِ ایمانی کے ساتھ
دل بھی جھک جاتا تھا ہر سجدے میں پیشانی کے ساتھ
حشر تک زندہ ہے تیرا نام اے ابنِ رسول!
کر چکا ہے تو وہ احساں، نوعِ انسانی کے ساتھ
اُن کے آگے صولتِ دنیا کا ذکر، او ابنِ سعد
کھیلتی ہے جن کی ٹھوکر تاجِ سلطانی کے ساتھ
غیرتِ حق کو کہیں دیکھو نہ آ جائے جلال
ظالمو ہولی نہ کھیلو خونِ انسانی کے ساتھ
باندھتی ہو کیا ہوا، اے اہرمن کی آندھیو!
کھیلنا آساں نہیں ہے شمعِ یزدانی کے ساتھ
ہمتِ معصوم کو فاسق سے کیا خوف و خطر
یہ سفینہ مضحکہ کرتا ہے طغیانی کے ساتھ
صرف رو لینے سے قوموں کے نہیں پھرتے ہیں دن
خوں فشانی بھی ہے لازم اشک افشانی کے ساتھ
آنکھ میں آنسو ہوں، سینوں میں شرارِ زندگی
موجۂ آتش بھی ہو، بہتے ہوئے پانی کے ساتھ
اہلِ بیتِ پاک کی ہر سانس کو اے مدعی!
ہاں ملا کر دیکھ لے آیاتِ قرآنی کے ساتھ
جوش ہم ادنیٰ غلامانِ علیِ مرتضیٰ
تمکنت سے پیش آتے ہیں جہانبانی کے ساتھ
(جوش)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
صرف رو لینے سے قوموں کے نہیں پھرتے ہیں دن
خوں فشانی بھی ہے لازم اشک افشانی کے ساتھ
کیا انتخاب کیا ہے حسان بھائی۔ لاجواب ۔ بہت ہی عمدہ :zabardast1:
 

سید زبیر

محفلین
سبحان اللہ ۔ ۔۔ خوبصورت کلام
صرف رو لینے سے قوموں کے نہیں پھرتے ہیں دن
خوں فشانی بھی ہے لازم اشک افشانی کے ساتھ
 
Top