کیا عجم ، کیا عرب محبت میں - از آصف شفیع

www.onlineurdu.com پر آصف شفیع کی یہ غزلیں پڑھیں ۔ یہ غزل پسند آئی۔

نہیں ہوتا نسب محبت میں
کیا عجم ، کیا عرب محبت میں

ہم نے اک زندگی گزاری ہے
تم تو آئے ہو اب محبت میں

اور کیا کلفتیں اٹھاتے ہم
ہو گئے جاں بلب محبت میں

خامشی ہی زبان ہوتی ہے
بولتے کب ہیں لب محبت میں

آگہی کے جہان کھلتے ہیں
چوٹ لگتی ہے جب محبت میں

یہ ہے دشتِ جنوں، یہاں آصف
چاک داماں ہیں سب محبت میں
 
آصف سفیع صاحب ماشاللہ خوب لکھتے ہیں ہم نے ان کی غزلیں آن لائن پر پوسٹ کی تھیں
محترمہ فایزہ ندیم صاحبہ نے ایک غزل پیش کی اس غزل کے علاوہ باقی غزلیں اس لنک میں پڑھئے
 
Top