کیا دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے؟

بلکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مر دوں کا زندہ کرنے کاکام بہت عرصہ سے شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔
:monkey:

لگتاہے اپ ہالی ووڈ کی فلمیں‌دیکھتے رہے ہیں۔ اس میں‌یہی ہوتا ہے کہ انسان کی کلوننگ کرکے اور اصل انسان کی ساری میموری ڈاون لوڈ کرلی جاتی ہے پھر اس کلون میں‌ اپلوڈ کی جاتی ہے۔ لیجیے انسان زندہ ہوگیا۔
یہ سب بکواس ہے
انسان جب مرگیا تو پھر زندہ نہیں‌ہوسکتا۔ سوائے اس کے کہ اللہ چاہے
 

فرہادعلی

محفلین
دیکھے

براہ کرم روحانی اسلامی اصطلاہوں کو مادی دنیا کیساتھ نہ ملائیں۔
ہر جان کو صرف خدا ہی پیدا کرتا اور مارتا ہے۔ کوئی بھی انسان خدا کے حکم اور مرضی کے بغیر اسکے قانون میں‌رد بدل نہیں‌کر سکتا۔

دیکھئے عارف بھی آپ یہاں مدلل بحث کر کہ مجھے قائل کر لیں‌میں‌آپ کی بات مان لوں‌گا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ میں‌نے جو کچھ کہا ہے وہ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں‌اسی موضوع پر کتاب لکھ رہا ہوں‌شاید ارادہ بدل جائے لیکن میں‌اس وقت تک نہیں بدلوں‌گا جب تک کوئی دلیل کہ ساتھ ثابت نیہں کرتا میں‌آپ کو اس موضوع پر قرآن سے اتنی دلیلیں دوں‌جتنی آپ چاہوں‌یہا ں ہر چیز دلیل پر مبنی ہونی چھاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چا ہے مذہب چاہے روہانیت چاہے جو بھی ہو
 

فرہادعلی

محفلین
لگتاہے اپ ہالی ووڈ کی فلمیں‌دیکھتے رہے ہیں۔ اس میں‌یہی ہوتا ہے کہ انسان کی کلوننگ کرکے اور اصل انسان کی ساری میموری ڈاون لوڈ کرلی جاتی ہے پھر اس کلون میں‌ اپلوڈ کی جاتی ہے۔ لیجیے انسان زندہ ہوگیا۔
یہ سب بکواس ہے
انسان جب مرگیا تو پھر زندہ نہیں‌ہوسکتا۔ سوائے اس کے کہ اللہ چاہے

دیکھئے میرے ملا بھائی یہ بات فلموں‌تک محدود نہیں‌آپ کو شاید کلوننگ کے بارے میں پتا ہی نہیں‌ آُپ کو اسی فورم سے معلومات مل سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ مٰں‌اتنی ہمت نہیں ہے کہ کچھ مزید ٹائپ کروں‌
 

فرہادعلی

محفلین
اس لنک پر تو مردہ زندہ ہونے کی بات ہی نہیں۔ مردہ سے خلیات لے کر ایک نیا جاندار پیدا کیا جا رہا ہے

تو آپ کو معلوم ہی نہیں انتہائی احمقانہ سوال کیا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مردہ اس کو کہتے ہیں جو مر جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو مان لیا کہ مردے کو زندہ نہیں‌کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک مرے ہوئے جاندار کو دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔



جسے دیکھو منہ اٹھا کر سائنسمیں کود پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی سکول پڑھنے کی عمر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:party:
 

محمد نعمان

محفلین
عارف یہ بات غلط ہے۔ کیڑے مار ادویات بلاتخصیص کیڑوں‌کو ختم نہیں‌کرتی بلکہ مہلک کیڑوں کی نسل کو سلیکٹ کرکے ختم کرتی ہیں۔ یہ سیلیکشن کافی تحقیق کے بعد کی جاتی ہے۔ اس طرح نہیں‌ہوتا کہ زہر ہر ایک پر استعمال کرکے سب کیڑوں کو ختم کردیا جائے۔ یہ سیلکشن بایولوجیکل ری ایکشن کی مدد سے بھی ہوتی ہےاور کیڑے کی اپنی پروٹیکشن کی وجہ سے بھی۔
دنیا میں‌غذا کی کوئی قلت نہیں ہاں‌تقسیم درست نہیں‌جس کی وجہ بڑے ممالک کی پالیسیاں‌ہیں۔

یہ بات کہ کیمیکل کیڑے مار ادویات تخصیص کے ساتھ کچھ کیڑوں کو ختم کرتی ہے اور دوست کیڑوں کو نہیں ختم کرتی درست نہیں، جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔۔۔۔ کچھ ایک ادویات ، گنی چنی ، ہیں کہ جو صرف ایک دو دوست کیڑوں کو نہیں مارتیں موجود ہیں مگر ان ادویات کی بھرمار ہے کہ جو ہر وسم کے ایکو سسٹم کو خراب کرنے میں پیش پیش ہیں۔اور اسی قسم کی ادویات ہمارے ملک اور ہمارے جیسے غیر ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتی ہیں (بلکہ استعمال ہی کی دستیاب ہی یہی ہوتی ہیں ) اس لیے بھی کہ سستی بھی ہوتی ہیں اور جلد اثر کرنے والی بھی۔ اور اس کی دلیل کے لیے تمام لٹریچر موجود ہے جس میں پوری دنیا کے سائنس دانوں نے منتیں کی ہیں کہ خدارا ان کیمیکلز کو ترک کیجیئے۔
ہاں بیالوجیکل کنٹرول ایک ایسا قدرتی طریقہ ہے جس کو اپنانے کی تمام باشعور افراد استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں جس کے منفی اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
 

محمد نعمان

محفلین
میرا خیال ہے کہ جینز ڈی این اے کی پٹی پر چپکے ہوئے نہیں‌بلکہ ڈی این اے کے سیکوینس کی ایک تعداد کو کہتے ہیں۔ اگر مجھے درست یاد پڑتا ہے تویہ مجموعہ ڈی این اے (یعنی جینز) پروٹیینز بناتے ہیں۔
ان دو باتوں میں کوئی فرق نہیں۔
آپکی بات کچھ ابہام پیدا کر رہی ہے۔کھل کے بیان فرما دیجیئے۔
 
بہت فرق ہے
ڈی این کے کی سیکونسز جیسے اے سی ٹی جی کی ایک خاص تعداد ایک خاص جینز کی تشکیل کرتی ہے۔ اس ڈی این اے کی پٹی کے ساتھ ساتھ ہی پروٹینز بھی ہوتے ہیں ۔ عمومی طور پر ڈی این اے کے بنیادی جز کی ایک خاص تعداد کو ہی جینز کہتے ہیں
 
یہ بات کہ کیمیکل کیڑے مار ادویات تخصیص کے ساتھ کچھ کیڑوں کو ختم کرتی ہے اور دوست کیڑوں کو نہیں ختم کرتی درست نہیں، جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔۔۔۔ کچھ ایک ادویات ، گنی چنی ، ہیں کہ جو صرف ایک دو دوست کیڑوں کو نہیں مارتیں موجود ہیں مگر ان ادویات کی بھرمار ہے کہ جو ہر وسم کے ایکو سسٹم کو خراب کرنے میں پیش پیش ہیں۔اور اسی قسم کی ادویات ہمارے ملک اور ہمارے جیسے غیر ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتی ہیں (بلکہ استعمال ہی کی دستیاب ہی یہی ہوتی ہیں ) اس لیے بھی کہ سستی بھی ہوتی ہیں اور جلد اثر کرنے والی بھی۔ اور اس کی دلیل کے لیے تمام لٹریچر موجود ہے جس میں پوری دنیا کے سائنس دانوں نے منتیں کی ہیں کہ خدارا ان کیمیکلز کو ترک کیجیئے۔
ہاں بیالوجیکل کنٹرول ایک ایسا قدرتی طریقہ ہے جس کو اپنانے کی تمام باشعور افراد استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں جس کے منفی اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
بہت حد تک وہ ادویات تو بلا تخصیص تمام کیڑوں کو ختم کرتی ہیں اور بہت ہی مضر ہیں جیسے ڈی ڈی ٹی وغیرہ ان کے استعمال نہ کرنے پر تمام ممالک کا اجماع ہے۔ عمومی طور پر یہ بن بھی نہیں‌رہی ہیں۔ اج کل ادویات بہت ریسرچ کے بعد استعمال کی جاتی ہیں‌جن کے اینوایرمنٹل ایفیکٹس کو استعال سے پہلے جانچا جاتا ہے۔
لہذا یہ کہنا کہ ادویات کے استعمال سے شہد کی مکھیاں ختم ہورہی ہیں جس کی وجہ سے خوراک کی قلت ہورہی ہے اپنے اپ کو دھوکہ دینے کی بات ہے
حقیقت یہ کہ زرعی پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم اور بائیو ڈیزل جیسے پروجیکٹز اس قلت کی ذمہ دار ہیں۔
 

خرم

محفلین
تو آپ کو معلوم ہی نہیں انتہائی احمقانہ سوال کیا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مردہ اس کو کہتے ہیں جو مر جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو مان لیا کہ مردے کو زندہ نہیں‌کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک مرے ہوئے جاندار کو دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔



جسے دیکھو منہ اٹھا کر سائنسمیں کود پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی سکول پڑھنے کی عمر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:party:

فرہاد آپ نے تو تیشہ ہی اپنے سر پر مار لیا تھا سو آپ کی بات سے اعراض برتنا چاہئے :)
برسبیل تذکرہ عرض کریں کہ پہلے آپ مردہ کی تعریف فرما دیجئے پھر شائد بات کرنے یا سمجھانے کا فائدہ بھی ہو۔
 

محمد نعمان

محفلین
بہت حد تک وہ ادویات تو بلا تخصیص تمام کیڑوں کو ختم کرتی ہیں اور بہت ہی مضر ہیں جیسے ڈی ڈی ٹی وغیرہ ان کے استعمال نہ کرنے پر تمام ممالک کا اجماع ہے۔ عمومی طور پر یہ بن بھی نہیں‌رہی ہیں۔ اج کل ادویات بہت ریسرچ کے بعد استعمال کی جاتی ہیں‌جن کے اینوایرمنٹل ایفیکٹس کو استعال سے پہلے جانچا جاتا ہے۔
لہذا یہ کہنا کہ ادویات کے استعمال سے شہد کی مکھیاں ختم ہورہی ہیں جس کی وجہ سے خوراک کی قلت ہورہی ہے اپنے اپ کو دھوکہ دینے کی بات ہے
حقیقت یہ کہ زرعی پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم اور بائیو ڈیزل جیسے پروجیکٹز اس قلت کی ذمہ دار ہیں۔
مجھے پھر اپنی بات دہرانی پڑے گی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ آپ مانے ہی نہیں دے رہے۔۔۔دی ڈی ٹی پاکستان میں ابھی بھی اس طرح استعمال ہو رہی ہے کہ کھلی بھی بیچی جاتی ہے۔۔۔۔آپ کی اس بات میں کہاں تک سچائی ہے کہ اور ممالک میں بھی اس کا استعمال نہیں ہوتا اس پر بحث کرنے کا کیا فائدہ کہ ایک دفعہ اپنی بات کہہ چکا ہوں۔
بہت فرق ہے
ڈی این کے کی سیکونسز جیسے اے سی ٹی جی کی ایک خاص تعداد ایک خاص جینز کی تشکیل کرتی ہے۔ اس ڈی این اے کی پٹی کے ساتھ ساتھ ہی پروٹینز بھی ہوتے ہیں ۔ عمومی طور پر ڈی این اے کے بنیادی جز کی ایک خاص تعداد کو ہی جینز کہتے ہیں
میں پھر اپنی بات دہراؤں گا کہ کوئی فرق نہیں اس بات میں۔۔۔۔جس طرح آپ جینز کی ڈی این اے کی تعریف کررہے ہیں، یہ میٹرک کی کتابوں میں بلکہ اس سے بھی نچلی کلاسوں کی کتابوں میں ہے جب کہ اس کی ساخت اتنی سادہ نہیں۔۔۔اور اگر میں کھل کے اس بات کو بیان کرنے لگوں تو یہ یہاں ممکن نہیں۔ اس لیے کہوں گا کہ ڈی این اے پر ہی جینز چپکے ہونے یا اس ڈی این اے کا حصہ ہونا ایک ہی معانی میں استعمال ہوئے ہیں ان میں تکنیکی طور پر فرق نہیں۔
 
بیٹا اصل نقطہ یہ ہے کہ دنیا میں‌زرعی اجناس کی کمی نہیں‌ہورہی بلکہ اس کی تقسیم اور استعمال کی وجہ سے بھوک بڑھ ر ہی ہے نہ کہ شہد کی مکھیوں‌کی کمی کی وجہ سے۔

دوسری بات یہ کہ ڈی این اے کی ٹوئسٹڈ چین میں کچھ پروٹین بھی پروئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہا تھا کہ ڈی این اے کی پٹی پر چپکے ہوئے جینز نہیں بلکہ پروٹینز ہوتےہیں‌ہاں یہ کہ وہ جینز کا ہی حصہ ہوتے ہیں
بلاشبہ یہ تمام معلومات بنیادی ہی ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
خرم بھائی

" اور وہی ہے جو زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے۔"

اب فرہاد علی مردہ سے کیا مراد لیتے ہیں، اللہ ہی جانے۔
 
بے شک۔

اللہ ہی ہے جس کی طرف ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے
وہی ہم کومارے گا اور وہی زندہ کرے گا اور وہی پھر سب کا فیصلہ بھی کرے گا۔
 

فرہادعلی

محفلین
خرم بھائی

" اور وہی ہے جو زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے۔"

اب فرہاد علی مردہ سے کیا مراد لیتے ہیں، اللہ ہی جانے۔

آپ سب نجانے کیا سمجھنے لگ گئے میں‌ کیا مراد لونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آللہ تعالی نے انسان کو تدبر کے ساتھ اپنے کہ اسرار کے بارے میں‌تحقیق و تفتیش کرنے کی دعوت دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جو جیسا سمجھ لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان اللہ کا نائب ہے ۔۔۔۔۔۔ اللہ نے جب خود کھلے انداز میں‌فرمادیا اب انسان کو چاہیے کہ وہ اس عارضی دنیا کے بھید سے پردہ اٹھا ئے نہ کے اس دنیا کا حصہ بن کر اپنی خودی کو فراموش کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چائے کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ چائے پیئں‌گے کے کافی ؟؟؟
 

خرم

محفلین
لیکن آپ نے جواب نہیں دیا سوال کا کہ مردہ سے کیا مراد ہے اور زندہ کسے کہتےہیں؟ کیا وہ شخص جس کا جین زندہ ہو وہ زندہ کہلائے گا یا زندگی صرف وہ جس میں ایک شخص اپنے تمام تر شخصی خواص کے ساتھ موجود ہو؟
 

فرہادعلی

محفلین
لیکن آپ نے جواب نہیں دیا سوال کا کہ مردہ سے کیا مراد ہے اور زندہ کسے کہتےہیں؟ کیا وہ شخص جس کا جین زندہ ہو وہ زندہ کہلائے گا یا زندگی صرف وہ جس میں ایک شخص اپنے تمام تر شخصی خواص کے ساتھ موجود ہو؟

اگر جینز زندہ ہیں تو تب تک وہ وہ زندہ ہے ۔۔۔ لیکن یہ صرف سا ئنس کے نزدیک ہے ۔۔۔ عقل کے نز دیک زندہ اس کو سمجھا جا تا ہے جو اٹھتا بیٹھتا کھا تا پیتا ہے سانس لیتا ہے ۔۔
میں‌اب بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کے ایک آدمی کبھی نہیں مرتا بلکہ اس کا شریر اس کا جسم مرتا ہے ۔۔۔۔۔ جسم صرف مختلف قسم کے مرکبات اور ایلمٹس کا مجموعہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
مثلا ٔ خوراک میں‌کیلشیم میگنیشم کاربونیٹیس پروٹینز واٹر سالٹس فیٹس اور وٹامنز شامل ہوتے ہیں‌۔۔۔۔۔ اس کی وجہ کیا ہے؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔ آپ ایک گاڑی لے لیں‌ جو تیل پر چلتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تیل ختم تو گاڑی بند ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح جسم کو بھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔جو اسے انرجی مہیا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ جو اسے حراروں یا کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ جس سے ہمارے جسم کے افعال سر انجام پاتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ تو ہو گئی جسم کی تعریف اب آتے ہیں‌ زندگی کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔
خودی کیا ہے؟؟ ۔۔۔
ّعلامہ اقبال رحمہ اللہ نے خود ی کس چیز کو کہا ہے ۔۔۔۔۔۔ جسے آپ روح کہتے ہو لیکن روح کی تعریف اور جسم کی تعریف میں‌کچھ فرق ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آپ جب مرتے ہو لیکن آپ نہٰں مرتے بلکہ آپ کا جسم مرتا ہے آپ تو زندہ ہو ۔۔۔ آُ نہٰں مرے آپ نے پلک جھپکی پلک جھپکے سے پہلے آپ دنیا میں تھے پلک جھپکنے کے بعد آپ کسی اور جہاں‌میں‌ہونگے لیکن آپ خود کو چھونا چاہیں گے تو آُ کا جسم آپ کے ساتھ ہو گا ۔۔۔ اب یہاں‌آپ کا جسم حقیقی نہیں‌مطلب اس کو خوراک کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اب یہاں‌تک کسی کو کوئی مسلئہ نہیں‌تو شکریہ اگر کوئی مسلہ ہے تو اعتراض کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے خوشی ہو گ ی
 

خرم

محفلین
آپ کے جواب میں ہی ایک اور سوال چھپا ہے۔ آپ نے کہا کہ زندہ وہ جو کھاتا پیتا سانس لیتا ہے۔ کیا صرف کھانا پینا سانس لینا ہی زندگی سمجھا جائے گا؟ زندگی تو دو چیزوں‌کا مرکب ہوتی ہے، ایک جسم جس کی آپ نے تعریف فرما دی اور دوسری روح جو اس جسم پر حکمرانی کرتی ہے۔ جو چیز ایک انسان کو دوسرے سے مختلف کرتی ہے وہ تو روح ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کا تعین کرتی ہے۔ ایک انسان دوبارہ زندہ تو تب ہی ہوسکتا ہے جب اس کا جسم اور اس کی روح (شخصیت) کاملاَ دوبارہ واپس آجائے۔ سائنس تو ایک جسم سے دوسرا جسم بھی نہیں بنا سکتی کہ سیل تو بذات خود زندہ ہے اور زندگی رکھتا ہے اور ایک نئے جسم کی تشکیل کا تمام تر عمل قدرتی طریق پر ہی سرانجام پاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تندور میں روٹی سینکنے کی بجائے آپ اوون میں سینک لیتے ہیں :)
 

فرہادعلی

محفلین
تندور میں روٹی

سائنس تو ایک جسم سے دوسرا جسم بھی نہیں بنا سکتی کہ سیل تو بذات خود زندہ ہے اور زندگی رکھتا ہے اور ایک نئے جسم کی تشکیل کا تمام تر عمل قدرتی طریق پر ہی سرانجام پاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تندور میں روٹی سینکنے کی بجائے آپ اوون میں سینک لیتے ہیں :)[/QUOTE نے کہا:
ویری گڈ۔۔۔۔۔۔!! آپ سے یہ کس نے کہ دیا کے سیل زندہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا پتھر زندہ ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں !!
اس کی وجہ یہ ہے کے پتھر ایک مادہ ہے اور سیل بھی ایک مادہ ہے ۔۔۔۔۔سیل مختلف قسم کے نامیاتی مرکبات کے ملنے سے وجود میں‌آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کے سیل مادہ ہے اور مادہ زندہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ سیل میں پائے جانے والے تمام اعضاءایک مخصوص مدت تک اپنا کام سرانجام دینے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔ ڈی این اے جسے وراثت کی اکائی کہا جاتاہے ۔۔۔۔۔ مالیکولز کی کوڈنگ ہو تی ہے ۔۔۔۔۔۔ جو کبھی تباہ نہیں‌ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ اور لامتنا ہی عرصے تک برقرار رہتی ہے :star:
 

ابو کاشان

محفلین
خرم بھائی

" اور وہی ہے جو زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے۔"

اب فرہاد علی مردہ سے کیا مراد لیتے ہیں، اللہ ہی جانے۔

شمشاد بھائی اس کی مثال یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک زندہ مرغی ایک مردہ انڈا دیتی ہے اور پھر اسی مردہ انڈا سے ایک زندہ چوزہ نکلتا ہے۔
یہ ایک عام مشاہدہ کی بات ہے۔ اب سائنس اسے کیا کہتی ہے یہ مجھے معلوم نہیں۔
 
Top