کیا اعلٰی تعلیم لڑکیوں کی شادی میں رکاوٹ ہے؟

شمشاد

لائبریرین
بات تو اچھی ہے لیکن اکثریت اس کو اچھا نہیں سمجھتی کہ مرد احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
 

عسکری

معطل
بات تو اچھی ہے لیکن اکثریت اس کو اچھا نہیں سمجھتی کہ مرد احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔


لو جی یہ تو فخر کی بات ہے الٹا احساس کمتری ؟ یہ ان کے لیے تکلیف دہ ہو گی جو اپنی وائف کو اپنے برابر نہیں سمجھتے میرے خیال سے میاں بیوی برابر ہیں اور یہ ایک طرح کا ایڈوانٹیج ہے کہ ہماری وائف پڑھی لکھی ہے جو بچوں کی تربیت گھر کو سنبھالانا اور ہمارا خیال رکھنا زیادہ اچھی طرح جانتی ہے نا کہ ان پڑھ جو کہ ہر معاملے میں مدد کی طلبگار ہو :rolleyes:
 

زلفی شاہ

لائبریرین
عموماً دیکھا گیا ہے کہ لڑکی کی عمر جب 20، 22 سال ہوتی ہے تو رشتے آنا شروع ہو جاتے ہیں، تب والدین کا کہنا ہوتا ہے کہ لڑکی ابھی پڑھ رہی ہے اور لڑکی کی اپنی مرضی بھی یہی ہوتی ہے کہ میں نے ابھی پڑھنا ہے۔ جوں جوں ڈگریاں ملتی جاتی ہیں، عمر بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے بعد رشتوں کا حصول مشکل ہو جاتا ہے کہ لڑکا اتنا پڑھا لکھا نہیں ہے، اور جو ان سے زیادہ پڑھا لکھا لڑکا ملتا ہے تو ان کی طلب بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اسی چکر میں بہت سی لڑکیوں کی عمر شادی کی مناسب عمر سے بہت آگے بڑھ جاتی ہے جو کہ والدین کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بچپن کی منگنی بھی عام ہے۔ والدین نے بچپن میں بچوں کی نسبت طے کر دی۔ بڑے ہونے پر ان دونوں میں سے کوئی ایک بہت پڑھ گیا اور کوئی ایک پیچھے رہ گیا، تب مشکل، ان دونوں میں سے کسی ایک نے انکار کر دیا تب مشکل۔ والدین نے زبردستی شادی کر دی تو ساری عمر گلے پڑا ڈھول بجانا تو پڑے گا، بُری بھلی نبھانی تو پڑے گی۔

آپ کی آراء کا انتظار ہے۔
شمشاد بھائی آپ کا تجزیہ سو فیصد درست ہے کہ جب لڑکی کی شادی کی عمر ہوتی ہے تو رشتے آتے ہیں لیکن اس وقت تعلیم حاصل کرنے کا شوق رشتے ٹھکرانے کا سبب بنتا ہے اور جب تعلیم مکمل ہوتی ہے تو سر میں چاندی کی وجہ سے رشتے کم آتے ہیں۔ دوسری سب سے بڑی وجہ مروجہ جہیز کی لعنت ہے جو ایک ناسور کی صورت اختیار کر چکا ہے۔اسلامی تعلیمات میں نکاح انتہائی آسان تھا لیکن موجودہ دور میں اعلی تعلیم اور مروجہ جہیز کے ٹو کی مانند دو چوٹیاں ہیں جنہیں نکاح کے لئے عبور کرنا پڑتا ہے۔
 
؎ تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہے مگر
خاتونِ خانہ ہوں سبھا کی پری نہ ہوں!

در اصل مسئلہ تعلیم کا نہیں۔ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ سے تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔ مگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر اس کی توجہ گھر پر ہو اور وہ گھر اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا مکمل ذہن رکھتی ہو پھر تو کوئی مسئلہ درپیش آنے کے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی عورت کہے کہ میں تو تعلیم حاصل کرنے کے بعد لازمی طور پر نوکری کرنی ہے اور وہ بھی کسی ہاسپٹل میں اور جہاں ایوننگ اور نائٹ ڈیوٹیاں بھی لگتی ہیں تو ایسے میں گھر کا حشر نشر ہونے کا امکان رہتا ہے۔ عورت کی حالانکہ ذمہ داری گھریلو امور اور مرد کی ذمہ داری بیرونی امور اور بیوی بچوں کے لئے نان و نفقہ کا انتظام و انصرام ہے اور اگر اس کا خیال رکھا جائے تو میاں بیوی زندگی کی ایک گاڑی کے دو پہیے کے طور پر بخوبی نباہ کر سکتے ہیں لیکن اگر دونوں پہیے اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر بلکل برابر ایک ہی ایکسل پر جڑنے کی کوشش کریں تو گاڑی کا تو سرے سے وجود ہی نہ رہ جائے گا!

اب میں اپنے یہاں کا ایک قصہ ذکر کرتا ہوں:
والدین (بمعہ دادی جان) نے بچپن میں فسٹ کزن کے ساتھ منگنی کروا دی جبکہ دونوں تقریباً میٹرک یا مڈل کلاسز کے طالب علم تھے۔ دونوں پڑھتے رہے۔ لڑکی نے ایف ایس سی کی کوشش کی مگر ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد نرسنگ میں داخلہ لے لیا۔ جبکہ لڑکا بی ایس سی، ایم ایس سی، ایم فل وغیرہ کرتا رہا اور بالآخر ایک گورنمنٹ ادارے میں 16ویں سکیل میں اس کو جاب مل گئی۔ لڑکی اور لڑکی والے بضد ہیں یہ ہاسپٹل میں جاب ضرور کرے گی (لاہور کے ایک ہاسپٹل میں) اور اس کے علاوہ نکاح کے لئے پہلے تین تولے سونا اور شہر میں سے دس مرلہ زمین لڑکی کے نام کروائی جائے اور ناچاقی⁄طلاق کی صورت میں دو لاکھ روپے بھی دینا ہوں گے اس کے علاوہ ماہانہ 2000 روپے جیب خرچ بھی لڑکی کو دیا جائے پھر شادی ہو گی۔ جبکہ لڑکے کا یہ کہنا ہے کہ میں اس کے تمام اخراجات نان و نفقہ کا ذمہ دار ہوں اور اس میں کوئی کمی یا کوتاہی نہیں آئے گی۔ رہنے کے لئے الگ مکان بھی ہے۔ لڑکی کا کام گھر کو سنبھالنا اور بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت ہے۔ لہٰذا اس قسم کی شرائط کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر لڑکے کے والدین کہتے ہیں کہ اپنے قریبی رشتہ دار (لڑکے کے تایا جی اور کزن) ہونے کی وجہ سے ادھر ہی نکاح کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ کوئی اس کا حل!!!!!!!!!!!!
 

زلفی شاہ

لائبریرین
جہیز ایک ایسی دیمک بن چکا ہے جو ہر چیز کو نگل رہا ہے جہیز کی وجہ سے شادی نا ہونا اور اس کی وجہ سے جو بگاڑ پیدا ہوتے ہیں سب جہیز کی وجہ سے ہی ہے ۔ میرے خیال سے اس معاملے پر پاکستان میں بہت ہی زیادہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے ۔

ویسے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکی کے گھر والے لڑکے والے راضی ہوتے ہیں پر لڑکی خود شادی نہیں کرنا چاہتی اور پڑھنا چاہتی ہے ایسی صورت میں کتنے سال کی عمر تک اس لڑکی کو وقت دینا چاہیے پڑھائی کے لیے؟
بالکل جی جہیز ایک لعنت ہے ایک ناسور ہے جو ہمارے معاشرےکو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے جہیز ہندو معاشرت کی پیداوار ہے۔ اب ہندو بھی اس سے تنگ آ چکے ہیں اورہندوستان کی اسمبلی میں باقاعدہ بل پیش کیا گیا ہے کہ اس رسم کی ایک حد مقرر کی جائے ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی دو بار جہیز سے متعلق قانون سازی کر چکی ہے اور اس کی حد مقرر کر چکی ہے مگر بدقسمتی سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ جہیز سرے سے عورت کی ذمہ داری میں شامل ہی نہیں ۔ ہدایہ فقہ میں معتبر کتاب ہے جو تمام دینی مدارس کے درس نظامی کورس میں شامل ہے ۔ اس کا ایک اقتباس آپ کے کمنٹس کی تائید میں لکھ رہا ہوں۔لہذا ہدایہ شریف میں ہے بیوی مسلمان ہو یا کتابیہ! اس کا ہر قسم کا خرچہ خاوند پر واجب ہے۔جبکہ وہ اپنے آپ کواس کے سپرد کر دے اور اس کے گھر منتقل ہو جائے۔ اس خرچہ میں اس کی خوراک ، لباس اور رہائش کے لئے مکان داخل ہے۔ظاہر ہے جب رہنے کے لئے مکان خاوند کے ذمہ ہے تو ایک مکان میں رہنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہو سکتی ہے اور اٹھنے بیٹھنے ، کھانے پینے اور سونے کے لئے جن اشیاء کااستعمال میں لانا ضروری ہے (جن کو عرف عام میں جہیز کہا جاتا ہے) وہ خاوند کے ذمہ واجب ہیں۔ (واجب کا ترک گناہ ہے)
اس سلسلہ میں الحمدللہ اسی فیس بک پر’’ تحریک مسنون نکاح‘‘ کے نام سے پیج موجود ہے جس میں مسنون نکاح کے طریقوں سے متعلق اپ ڈیٹس ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
 

زلفی شاہ

لائبریرین
مقبول صاحب اردو محفل میں خوش آمدید۔

اپنا تعارف تو دیں۔
سر جی میں اس وقت ملیشیا میں ہوں بشیر کالونی ساہیوال سے تعلق ہے زمینین تحصیل تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد میں ہیں جہاں میرا آبائی گاوں ہے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ درس نظامی کر رکھا ہے پاکستان میں پرائیویٹ سکول میں کمپیوٹر، اردو ،اسلامیات اور خطاطی کی کلاس لینے کے ساتھ ساتھ مسجد میں امامت کے فرائض سر انجام دیتا تھا آجکل دیار غیر میں شاعری کی طرف رجحان ہوا جس نے اس فورم کی راہ دکھلائی ۔ آج کل شاعری کے قواعد و ضوابط سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ساتھ ساتھ تین چار غزلیں بھی لکھی ہیں جنہیں تصحیح کی غرض سے اسی فورم میں چسپاں کر چکا ہوں۔ اس کے علاوہ کسی تعارف کی ضرورت ہو تو ارشاد فرما دیں اگر آپ اپنا تعارف لکھ دیں تو خوشی ہو گی۔
 

mfdarvesh

محفلین
سر جی میں اس وقت ملیشیا میں ہوں بشیر کالونی ساہیوال سے تعلق ہے زمینین تحصیل تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد میں ہیں جہاں میرا آبائی گاوں ہے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ درس نظامی کر رکھا ہے پاکستان میں پرائیویٹ سکول میں کمپیوٹر، اردو ،اسلامیات اور خطاطی کی کلاس لینے کے ساتھ ساتھ مسجد میں امامت کے فرائض سر انجام دیتا تھا آجکل دیار غیر میں شاعری کی طرف رجحان ہوا جس نے اس فورم کی راہ دکھلائی ۔ آج کل شاعری کے قواعد و ضوابط سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ساتھ ساتھ تین چار غزلیں بھی لکھی ہیں جنہیں تصحیح کی غرض سے اسی فورم میں چسپاں کر چکا ہوں۔ اس کے علاوہ کسی تعارف کی ضرورت ہو تو ارشاد فرما دیں اگر آپ اپنا تعارف لکھ دیں تو خوشی ہو گی۔

جناب اگر تعارف کے زمرے میں یہ پیش کردیں تو سب محفلین کی نظر میں آجائے گا
 

شمشاد

لائبریرین
شکیل صاحب آپ کی رائے اپنی جگہ، اب جبکہ لڑکی ایم بی بی ایس کر کے ڈاکٹر بن جائے تو ظاہر ہے وہ گھر میں تو بیٹھ نہیں سکے گی اور جو اتنا عرصہ گزار کر اس نے تعلیم حاصل کی ہے، اس کا کیا فائدہ ہو گا، ضروری نہیں ڈاکٹری کا ہی شعبہ ہے، اس کے علاوہ بھی کئی ایک شعبے ہیں جن میں تعلیم کا شعبہ سر فہرست ہے، اب ایک لڑکی ماسٹرز کر کے صرف اپنے گھر والوں کو ہی تعلیم دینے کےلیے گھر پر تو نہیں رہے گی ناں۔

باقی جہاں تک آپ نے واقعہ بیان کیا ہے، میرا اپنا خیال ہے کہ لڑکی کے ورثہ ناجائز ضد کر رہے ہیں۔
 
مسلمانوں کے ایک عظیم اصلاح پسند شاعر اکبر الٰہ آبادی کا یک شعر بہت ہی پسند آیا:

تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہے مگر
خاتونِ خانہ ہوں سبھا کی پری نہ ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی تعلیم ہو جو اس کو امورِخانہ داری میں مفید ثابت ہوں نہ کہ گھر سے باہر کے امور! فطرت نے جس طرح دونوں اصناف کے کام تقسیم کر دیے ہیں اس کے مطابق ہی سارا نظام چلنا چاہئے! میں نے ایسے گھرانے دیکھے ہیں کہ جہاں باپ اور ماں دونوں ہی باہر جاب کرتے ہیں اور کچھ تو گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں ماں باپ بچوں کے سوتے میں جاب کے لئے شہر سے باہر چلے جاتے ہیں اور رات ان کے سوتے میں واپس گھر پہنچتے ہیں بچے ماماؤں کے رحم و کرم پر وہی سکول چھوڑ جاتے ہیں وہی اکیڈمیز میں اور وہی واپس لے کر جاتے ہیں۔ حالانکہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کو گود کو قرار دیا گیا ہے۔ تف ہے ایسی تعلیم پر جو اپنے بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت سے دور لے جائے! ایسے بچے اگر پڑھ لکھ بھی جاتے ہیں اور اچھے عہدوں پر فائز ہو بھی جاتے ہیں مگر اخلاقی لحاظ سے ان کی تربیت اتنی اچھی نہیں ہوتی۔
 

فہیم

لائبریرین
میں تو اسے تازہ دھاگہ سمجھ کر ہی آیا تھا۔
لیکن یہ تو کوئی سال بھر پرانا نکلا۔
 

نایاب

لائبریرین
اچھا مفید اور حسب حال معاشرتی موضوع ہے ۔
شکریہ شمشاد بھائی اسے اوپر لانے کا ۔
میں بھی اس پر فرصت سے کچھ لفاظی کروں گا ۔ ان شاءاللہ
 

شمشاد

لائبریرین
انیس بھائی یہ مستقبل بعید کی بات کر رہا ہے۔ جب اس کا وقت آئے گا تب دیکھیں گے۔
 
Top