کہیں ہم عورت کو اسی مقام پردوبارہ تو نہیں لے آئے ہیں جہاں پرآج سے چودہ سو سال قبل کھڑی تھی؟

’’ماں ‘‘ ایسا نہیں کر سکتی!
495x278x8680_44342734.jpg.pagespeed.ic.buicZCTidI.jpg

نعیم اقبال
سات ماہ ہوتے ہیں،خانیوال کے ایک گائوں کچا کھوہ میں ماں اپنے تین بچوں کو دودھ میں زہر ملا کر موت کی آغوش میں بھیج دیتی ہے۔ ماں کے ہاتھوں قتل ہونے والے تینوں کمسن بچوں میں چار سالہ ماجد، دو سالہ رضوانہ اور پانچ روز کی نومولود بچی شامل ہے۔ رخسانہ بی بی جو ان بچوں کی ماں ہے، نے ایسا انتہائی دل دہلا دینے والا اقدام کیوں اٹھایا؟ وجہ بتائی جاتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ کہیں فوتگی پر جانا چاہتی تھی۔ شوہر ساتھ لے کر نہیںگیا، تو اس نے غصے میں بے قابو ہو اپنے تینوں کمسن بچوں کوا بدی نیند سلا دیا، لیکن اب وہی ماں نیند کو ترس رہی ہے اور پچھتاوے کی آگ میں جل رہی ہے۔ ایک لمحے کے لئے آیا غصہ، سارا خاندان نگل گیا۔ اسی وجہ سے غصے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔عقلِ سلیم ماننے کو تیار نہیں کہ ماں اتنی ظالم ہو سکتی ہے کیونکہ شیخ سعدیؒ نے تو ماںکو محبت کا ترجمان قرار دیا ہے۔اسی قسم کا ایک اور واقعہ ایک ماہ قبل لاہور کے گنجان آباد علاقے جوہر ٹائون میں پیش آتا ہے۔ جوہر ٹائون کے ای بلاک میں میاں بیوی( سنی اور بسمہ) اپنے دو بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ اچانک وہاں پر عوام کا جمِ غفیر امڈ آتا ہے،ساتھ ہی میڈیا کی ٹیمیں بھی پہنچ جاتی ہیں۔ پتا چلتا ہے کہ ماں دو سالہ مناہل اور آٹھ ماہ کے یوسف کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔مناہل کو ٹب میں ڈبو کر جبکہ یوسف کا گلا دبا کر قتل کیا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر یہ خبر بریکنگ نیوز کے طور پرنشر ہوتی ہیں۔ دیکھنے والا توبہ توبہ کر اٹھتا ہے کہ یہ کیسی ماں ہے جس نے اپنے ہی بچوں کو اتنی بے دردی سے مار ڈالا۔دل ماننے کو تیار نہیں کہ یہ ایک ماں نے کیا ہو۔ ماں کا دل تو پھول سے بھی زیادہ نرم و نازک ہوتا ہے، وہ اس طرح کا انتہائی اقدام کیسے اٹھا سکتی ہے؟ اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں کہ ماں کی ممتا تو کوہ ہمالیہ سے بلند اور دیوار چین سے بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ ماں کوا س طرح کے انتہائی اقدام سے روکنے کے لئے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسی ضابطہ حیات نے ہی عورت کو غلامی کی زنجیروں سے نکالا،زندہ درگور کئے جانے والی بچیوں کو معاشرے میں باعزت مقام دیا۔ کہیں ہم عورت کو اسی مقام پردوبارہ تو نہیں لے آئے ہیں جہاں پرآج سے چودہ سو سال قبل کھڑی تھی؟ اگر ایسا ہے، تو ہمیں اپنی فوری اصلاح کرنی ہو گی اور اپنے رویوں کو بدلنا ہو گاتاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ ٭…٭…٭
 

جاسمن

مدیر
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اعوذ با للہ من الشیطان الرجیم
اللہ ہمیں ہدایت عطا کرے اور برے وقت سے پناہ دے۔آمین!
 
Top